انتخاب: نواب ایم ایس 
بغداد میں ایک تاجر رہتا تھا۔ ایک دن اُس نے اپنے ملازم کو بازار بھیجا کہ وہ کچھ چیزیں خرید لائے۔ کچھ دیر بعد وہ ملازم واپس لوٹا، تو حواس باختہ تھا۔ خوف سے کانپ رہا تھا۔ مالک کے استفسار پر ملازم بولا: ’’میرے آقا! جب مَیں بازار میں داخل ہی ہوا تھا، تو مجمع میں سے ایک خاتون مجھ سے بری طرح ٹکرائی۔ خاتون نے مُڑ کر کر دیکھا، تو ایک لمحے میں، مَیں سمجھ گیا کہ ٹکرانے والی دراصل میری موت ہے۔‘‘
نوکر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’میرے آقا! اُس عورت نے ٹکرانے کے بعد میری طرف دیکھا اور پھر دھمکی آمیز اشارے کیے۔ اب آپ مجھے اپنا گھوڑا دے دیں۔ مَیں اس شہر سے فوراً فرار ہونا چاہتا ہوں۔ مَیں موت سے بھاگنا چاہتا ہوں۔‘‘
نوکر آگے بولا: ’’مَیں گھوڑا لے کر سامرہ چلا جاؤں گا۔ وہاں مجھے موت نہیں ڈھونڈ سکے گی۔‘‘ (سامرہ بغداد سے 125 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عراقی شہر ہے۔)
دیگر متعلقہ مضامین:
دربارِ خداوندی (مصری ادب)  
ایک ہی کوکھ (موزمبیقی ادب)  
میرا یار ابو حسن (فلسطینی ادب)  
نَٹ بے حد اہم ہے (روسی ادب)  
ثبوت کے کاغذ (چیک ادب) 
یہ باتیں سُن کر مالک نے موت سے خوف زدہ ہو کر فرار ہونے والے نوکر کو اپنا گھوڑا دے دیا۔ نوکر گھوڑے پر بیٹھا اور اُسے جتنا تیزی سے دوڑا سکتا تھا، دوڑایا اور شہر سے باہر نکل گیا۔
نوکر کے چلے جانے کے بعد مالک خود بازار گیا۔ اُس نے ہجوم میں اُسی موت کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ مالک سیدھا اُس کے پاس گیا اور بولا: ’’صبح تم نے میرے نوکر کو کیوں دھمکی آمیز اشارے کیے تھے؟‘‘
موت بولی: ’’مَیں نے تو کوئی دھمکی آمیز اشارے نہیں کیے۔ دراصل مَیں تو اُسے دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ وہ بغداد کے بازار میں کیا کر رہا ہے؟ میری تو اس کے ساتھ ملاقات آج رات سامرہ میں طے تھی!‘‘
نوٹ:۔ یہ کہانی ’’جونا گڑھ کا قاضی اور دکن کا مولوی‘‘ کتاب سے لی گئی ہے، جس کے مصنف رؤف کلاسرا ہیں۔ یہ کہانی دراصل جیفری آرچر کے افسانوں کے مجموعے کی پہلی کہانی ہے۔ اس کا عنوان "Death Speaks” رکھا گیا ہے۔ یہ کہانی عربی سے ترجمہ کی گئی ہے۔ آرچر اس کے حوالے سے کہتا ہے کہ ’’اس سے بہتر کہانی اب تک کوئی نہیں لکھی گئی۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔