ترجمہ: حنظلہ خلیق 
کسی جنگل میں ایک خرگوش کے کام کے لیے کوئی نوکری نکلی۔ ایک بے روزگار اور حالات کے مارے ریچھ نے بھی اس کے لیے درخواست جمع کرا دی۔
اتفاق سے کسی خرگوش نے درخواست نہیں دی، تو اُسی ریچھ کو ہی خرگوش تسلیم کرتے ہوئے ملازمت دے دی گئی۔ ملازمت کرتے ہوئے ایک دن ریچھ نے محسوس کیا کہ جنگل میں ریچھ کی ایک اسامی پر ایک خرگوش کام کر رہا ہے اور اُسے ریچھ کا مشاہرہ اور ریچھ کی مراعات مل رہی ہیں۔ ریچھ کو اس نا انصافی پر بہت غصہ آیا کہ وہ اپنے قد کاٹھ اور جثے کے ساتھ بہ مشکل خرگوش کا مشاہرہ اور مراعات پا رہا ہے، جب کہ ایک چھوٹا سا خرگوش اُس کی جگہ ریچھ ہونے کا دعوے دار بن کر مزے کر رہا ہے۔ ریچھ نے اپنے دوستوں اور واقف کاروں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم و زیادتی کے خلاف باتیں کیں، سب دوستوں اور بہی خواہوں نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ فوراً اس ظلم کے خلاف جا کر قانونی کارروائی کرے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
نٹ بے حد اہم ہیں (روسی ادب)  
دربارِ خداوندی میں (مصری ادب)  
دو جنرل اور ایک عام آدمی (روسی ادب)  
میرا یار ابو حسن (فلسطینی ادب)  
ایک ہی کوکھ (موزمبیقی ادب)  
ریچھ نے اُسی وقت جنگل کے ڈائریکٹر کے پاس جا کر شکایت کی۔ ڈائریکٹر صاحب کو کچھ نہ سوجھی۔ کوئی جواب نہ بن پڑنے پر اُس نے شکایت والی فائل جنگل انتظامیہ کو بھجوا دی۔ انتظامیہ نے اپنی جان چھڑوانے کے لیے چند سینئر چیتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے خرگوش کو نوٹس بھجوا دیا کہ وہ اصالتاً حاضر ہوکر اپنی صفائی پیش کرے اور ثابت کرے کہ وہ ایک ریچھ ہے۔
دوسرے دن خرگوش نے کمیٹی کے سامنے اپنے سارے کاغذات اور ڈگریاں پیش کرکے ثابت کر دیا کہ وہ دراصل ایک ریچھ ہے۔
کمیٹی نے ریچھ سے غلط دعوا دائر کرنے پر پوچھا کہ کیا وہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ خرگوش ہے؟ مجبوراً ریچھ کو اپنے تیار کردہ کاغذات پیش کرکے ثابت کرنا پڑا کہ وہ ایک خرگوش ہے۔
کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سچ یہ ہے کہ خرگوش ہی ریچھ ہے اور ریچھ ہی دراصل خرگوش ہے۔ اس لیے کسی بھی رد و بدل کے بغیر دونوں فریقین اپنی اپنی نوکریوں پر بہ حال اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔ ریچھ نے کسی قسم کے اعتراض کے بغیر فوراً ہی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم کر لیا اور واپسی کی راہ لی۔
ریچھ کے دوستوں نے کسی احتجاج کے بغیر اتنی بزدلی سے فیصلہ تسلیم کرنے کا سبب پوچھا تو ریچھ نے کہا:’’مَیں بھلا چیتوں پر مشتمل اس کمیٹی کے خلاف کیسے کوئی بات کرسکتا تھا…… اور مَیں کیوں کر اُن کا فیصلہ قبول نہ کرتا۔ کیوں کہ کمیٹی کے سارے ارکان چیتے در اصل گدھے تھے، جب کہ اُن کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ چیتے ہیں باقاعدہ ڈگریاں اور کاغذات بھی تھے۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔