’’دَ ہوٹل ڈوڈیٔ‘‘ (تندوری نان)

بچپن میں سکول جانے سے قبل ایک ہی ضد ہوتی کہ اگر چائے کے ساتھ تناول فرمانے کو اگر گرما گرم نان ہوگی، تو ہی ناشتا ہوگا۔ پھر جیسے ہی پیسے تھمائے جاتے ، چشمِ زدن میں محلہ وزیر مال (مینگورہ) کے تندور والے سے گرما گرم نان خرید کر واپس آجاتے۔ چاچا جی (مستنصر […]
د ملاکنڈ سُرے (ملاکنڈ ٹنل)

میری طرح 80ء کی دہائی میں آنکھ کھولنے والوں کو ملاکنڈ ٹنل کی سحر انگیزی کا اندازہ بہ خوبی ہوگا۔ مَیں چوں کہ ’’ٹریول سِکنس‘‘ (Travel Sickess) سے متاثر ہوں، سفر کے دوران میں اُلٹی نہ کروں، تو دل کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا۔ اس لیے جب بچپن میں ’’جی ٹی ایس بس‘‘ کے ذریعے […]
بت کڑہ

وہ بھی کیا دن تھے، جب گرمی کے دنوں میں ہم مینگورہ خوڑ (ندی) میں نہا کر دوپہر کی تپتی دھوپ میں آلوچوں کے کسی باغ پر ہلہ بول دیتے۔ بندہ اگر 4، 5 عدد آلوچے باغ سے اُٹھا لیتا یا کسی درخت سے توڑ لیتا، تو باغ کی رکھوالی کرنے والا درگزر سے کام […]
دَ رَسُو پُل

لکڑی اور لوہے کی رسی کی مدد سے بنایا گیا یہ پُل کوکارئی (سوات) کا ہے۔ اس جگہ کی خوب صورتی ہمارے ایک ہم دمِ دیرینہ کے بہ قول ’’اَن بیان ایبل‘‘ (Unbayanable) ہے۔ ہم اسے پشتو میں ’’دَ رَسُو پُل‘‘ کہتے ہیں۔ اسے انگریزی میں "Suspension Bridge” کہتے ہیں۔ اُردو میں شاید اس کے […]
چاٹی قلفہ

90ء کی دہائی میں ہم لڑکوں کا پسندیدہ ترین قلفہ تصویر میں دکھائی دینے والا یہ ’’چاٹی قلفہ‘‘ تھا۔ اِسے اُس وقت ایک طرح سے عیاشی کا سامان سمجھا جاتا تھا۔ اندازہ لگائیں کہ چار آنے ہمیں کھانے کو ملتے تھے اور آٹھ آنے قلفے کی قیمت تھی۔سب سے لذیذ قلفہ کھتیڑا بازار میں غالباً […]
شیر عالم خان ککوڑے

مینگورہ شہر کے کباب خانوں کا جب بھی کبھی ذکر ہوگا، ’’میرجو ‘‘ کباب خانہ (کباب خانہ کو ہم پشتو میں عام طور پر کڑھے بولتے ہیں) کے بغیر بات مکمل نہیں ہوگی۔ ’’میرجو کڑھے‘‘ مجھے یاد ہے مگر اس کے ساتھ میری کوئی ایسی یاد وابستہ نہیں، جسے یہاں رقم کیا جاسکے۔ البتہ اس […]
سواتی طلبہ نے چائنیز معمر شخص کی جان بچالی

سوات کے علاقہ غالیگے کے یوسف خان اور سیدو شریف کے محمد رفیع اللہ جواد نے اہلِ سوات کا سر اُس وقت فخر سے بلند کیا، جب چین کے ایک ٹرین سٹیشن پر ایک معمر چینی باشندے کو بروقت طبی امداد دے کر اُس کی جان بچالی۔چین کی ’’گنان میڈیکل یونیورسٹی‘‘ (Gannan Medical University of […]
افغان، پٹھان اور پختون

(قارئینِ کرام! زیرِ نظر تحریر در اصل پشتو زبان میں شائع ہونے والے ماہ نامہ ’’لیکوال‘‘، دسمبر، جنوری 2023ء/ 2024ء میں ڈاکٹر سلطانِ روم کے مضمون ’’افغان، پٹھان اور پختون‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے، کامریڈ امجد علی سحابؔ)افغان، پٹھان اور پختون نام ایک مخصوص گروہ یا لوگوں کے لیے بولے اور استعمال کیے جاتے ہیں۔ […]
’’کچالان‘‘

اب کون سے حالات بہتر ہیں، مگر جیب جب مکمل طور پر خالی ہوا کرتی تھی، تو ’’کچالو‘‘ اُس وقت ہماری مرغوب ترین غذا ہوتا تھا۔پسند ہر کسی کی اپنی اپنی ہے، مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ مینگورہ شہر میں تاج چوک کے کچالو تیار کرنے والے کا مقابلہ شاید ہی کوئی کر پائے۔ میرے […]
گونگڑی

سوات اپنی قدرتی خوب صورتی کی وجہ سے نہ صرف اندرونِ ملک مشہور ہے، بل کہ بیرونی ممالک میں بھی یہ فلک بوس پہاڑوں، الپائن جھیلوں، گھنے جنگلات، گنگناتی آبشاروں، میٹھے پانی کے جھرنوں اور بل کھاتی ندیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔سوات پھلوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں موسمیاتی تبدیلی سے پہلے 18 […]
جمعہ بازار، مین بازار مینگورہ سوات

مَیں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، جمعہ کے روز مین بازار (مینگورہ سوات) کی دکانیں بند ہی پائی ہیں۔ کب سے مین بازار میں جمعہ بازار لگتا ہے؟ اس حوالے سے وثوق سے کچھ نہیں کَہ سکتا، مگر مجھے بچپن سے جمعہ کے روز اس بازار کے تھڑوں پر مختلف چیزیں بیچنے والے یاد […]
ثَبوت یا ثُبوت؟

عام طور پر ’’ثُبوت‘‘ (عربی، اسمِ مذکر) کا تلفظ ’’ثَبوت‘‘ ادا کیا جاتا ہے۔ ’’فرہنگِ تلفظ (نستعلیق ایڈیشن)‘‘، ’’نور اللغات‘‘، ’’اظہر اللغات (مفصل)‘‘، ’’جہانگیر اُردو لغت (جدید)‘‘، ’’فیروز اللغات (جدید)‘‘، ’’جامع اُردو لغت‘‘، ’’علمی اُردو لغت (جامع)‘‘ اور ’’فرہنگِ عامرہ (کمپیوٹرائزد ایڈیشن)‘‘ کے مطابق دُرست تلفظ ’’ثُبوت‘‘ ہے۔ اس طرح ’’فرہنگِ آصفیہ (جدید کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)‘‘ […]
ٹیپ سی بان، سوات (Tap Si Ban, Swat)
فارکس ٹریڈنگ سہ شے دے؟ (What is Forex Trading)
دوسری جنگ عظیم میں تعلیم ادھوری چھوڑنے والی خاتون نے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرلی

دوسری جنگ عظیم میں گریجویشن کرنے والی خاتون نے بالآخر 83 سال بعد ٹھیک 105 سال کی عمر میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرلی۔ نیوز ویب سائٹ "www.upi.com” کے مطابق "Virginia Hislop” نے 1940ء میں سٹینفورڈ یونیورسٹی سکول (Stanford University School) سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ کامریڈ امجد علی سحابؔ کی دیگر تحاریر […]
امیر دوست خان دھوبی

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے […]
موسمیاتی بدلون او بے خبری (Climate Change and Lack of Awareness)
سد بد یا سدھ بدھ؟

عام طور پر سُدھ بُدھ (ہندی، اسمِ مونث) کا اِملا ’’سُد بُد‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ مثلاً: آن لائن لغت "rekhtadictionary.com” پر دونوں طرز کا اِملا (’’سُد بُد‘‘ اور ’’سُدھ بُدھ‘‘) درج ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی نیوز ویب سائٹس پر بھی ’’سُد بُد‘‘ ہی مستعمل ملتا ہے۔اس حوالے سے اُردو کے مستند […]
عالمی یومِ عجائب گھر (World Museum Day, 2024)
کشور سلطان (شخصیت و فن)

کشور سلطان کا نام جو بھی سنتا ہے، اُسے علی حیدر جوشیؔ کا لکھا ہوا یہ گیت سر تہ می کینہ خوشی میدان دے سلگئی می راغلے، روح می روان دے ضروریاد آتا ہے، جسے کشور سلطان اور گلنار بیگم نے مل کر گایا تھا۔ کشور سلطان کا تعلق فن کار گھرانے سے تھا۔ اُن […]
چشتی چمن جان

چشتی چمن جان کا اصل نام ختم النسا تھا، لیکن موسیقی کی دنیا میں ’’چشتی چمن جان‘‘ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ ایسا اس لیے تھا کہ وہ چشتیہ سلسلے کی پیر و کار تھیں۔ ختم النسا کے والد کا نام عزت خان تھا، جو سارندہ (آلۂ موسیقی) بجانے کا ماہر تھا۔ عزت کا […]