پاکستان گھن چکر میں کیوں پھنسا ہوا ہے؟

کارل مارکس نے برصغیر کے بارے میں کہا تھا کہ اس کی تاریخ بس اس پر مختلف سلطنتوں کی حملہ آوری اور اس پر نو آباد کاری ہی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں پر سکندر مقدومی سے لے کر برطانوی انگریز تک سب نے چھڑائی کی ہے۔ یہاں سے کوئی خاص مزاحمت بھی کبھی […]
آن لائن فراڈ

ہمارے دوست جو ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں، اُن کی وائف نے کچھ سامان کراچی سے منگوایا، جس کی پے منٹ کریڈٹ کارڈ سے اُن کے شوہر نے کردی تھی۔ ہمارے دوست کے پاس ایک دن ایک ایس ایم ایس پاکستان پوسٹ کی طرف سے آتا ہے، جس میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ […]
بارہ دن لندن میں

لندن جانے اور دوستوں کے ساتھ ملاقات اور وقت گزارنے کا ہمارا ’’پلان‘‘ شاید پچھلے پانچ سال سے جاری تھا، جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم اپنے استادِ محترم فضل ربی راہیؔ اور ضیاء الدین یوسف زئی کے مرہونِ منت ہیں۔ اپنے بھائی حاضرگل ’’امریکہ والے‘‘ کی کوششوں کے بغیر ہمارا ’’یونائیٹڈ کنگڈم‘‘ […]
جدیدیت کا شاخسانہ

تاریخ صرف واقعات کا علم نہیں، بل کہ ان واقعات کی وجہ اور اثر/ علت و معلول (Cause and Effect) کا سماجی تجزیہ ہوتا ہے۔ یہ واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں، ان کے پیچھے کیا محرکات پوشیدہ ہیں اور سماج اور معاشرت پر ان کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟ ان کو باریک بینی سے دیکھنے […]
رباب: ثقافتی ورثے کی علامت یا ممنوعہ شے؟

قارئین! آج کی نشست میں ملاکنڈ یونیورسٹی کے واقعے اور اس کے اثرات کے بارے میں بات کریں گے۔ ملاکنڈ یونیورسٹی میں حالیہ پیش آنے والا واقعہ جہاں ایک طالب علم کو رباب لانے پر مبینہ طور پر تنبیہ دی گئی اور بعد میں ایک حادثے میں اس کی جان چلی گئی، نے پورے معاشرے […]
بچوں کو روبوٹ نہ بنائیں

گذشتہ دس بارہ سال سے تعلیمی میدان میں ایک عجیب ریس لگی ہوئی ہے۔ نمبروں کی بھوک نے بچوں کو روبوٹ بنا کر رکھ دیا ہے۔ رشتہ داروں میں مسابقت کی دوڑ نے عجیب ہنگام مچا رکھا ہے۔ بچوں کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، چچا کی بیٹی یا ماموں […]
’’وہ واقعی پرواز کرگئی‘‘ (جوابِ آں غزل)

ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے علی ہلال کی تحریر پڑھ کر افسوس ہوا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ میں ڈھیر ساری غلط فہمیوں، فرسودہ روایات، محرومیوں اور نفرتوں کو جمع کرتے جاتے ہیں۔ ایسا ہر ’’کنٹرولڈ سوسائٹی‘‘ میں ہوتا ہے، جس میں انسان اعتماد کھو دیتا ہے اور ہر کسی پر […]
وہ تو واقعی پرواز کرگئی

تحریر: علی ہلال ہم ازلی بدبخت اور من حیث القوم بدنصیب واقع ہوئے ہیں۔ سوات شانگلہ سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی کو اپنے ٹیلنٹیڈ والد ضیاء الدین کی محنت اور قسمت کی دیوی کی مہربانی سے جو عالم گیر شہرت ملی، وہ بہت کم انسانوں کے حصے میں آتی ہے۔ جانے کتنی نرگسوں […]
سیاحوں کے نام ’’اہم پیغام‘‘……؟

سرِ دست ’’سید کمال شاہ باچا‘‘ نامی ایک حضرت کی ٹوئٹ ملاحظہ ہو: ’’سیاحوں کے نام اہم پیغام! سوات شانگلہ دیر پوری پختونخوا میں سیر و تفریح کے لیے آنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے خواتین کا لباس کا خاص خیال رکھیں یہ پختونخوا ہے اور پختونوں کی صوبے میں ننگے لباس نہیں […]
سیاسی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا ضروری ہے

جب گھٹن بڑھ جائے، تو تازہ ہوا کے جھونکے کے لیے کوئی کھڑکی کھولنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ورنہ دم گھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ 2006ء میں ایسے ہی گھٹن زدہ سیاسی حالات تھے۔ پرویز مشرف ملک پر قابض تھے۔ ق لیگ اُن کے فرنٹ مین کے طور پر موم کا ناک بنی ہوئی تھی۔ […]
سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔ بدقسمتی سے جن […]
آن لائن فراڈ…… محتاط رہیے!

مَیں ہمیشہ اپنے ٹریننگ سیشنوں میں بینکروں کو ڈیجیٹل ورلڈ، اے آئی اور آن لائن فراڈ کے بارے میں آگہی دیتا ہوں۔ مَیں اکثر اوقات بینکروں کے لیے فری ویب نار کے لنک مہیا کرتا ہوں، جن میں ڈیجیٹل فراڈ، بلاک چین وغیرہ پر فری سیمینار منعقد ہوتے ہیں جس سے میرے واٹس اَپ گروپ […]
سماجی گھٹن

ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جس میں ’’دھونس‘‘ اور دھاندلی سکہ رائج الوقت ہیں۔ طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ ہماری روایت بنتی جا رہی ہے۔ جمہور کی آواز بے وقعت بنی ہوئی ہے، جب کہ ووٹ کا تقدس روز بہ روز اپنی تقدیس کھوتا جا رہا ہے۔ گویا ووٹ ایک ایسی شے […]
’’ہیرامنڈی‘‘ جوابِ آں غزل

محترم منصور ندیم! مشکور ہوں کہ آپ نے نیٹ فلیکس سیریز ’’ہیرامنڈی‘‘ بارے لکھا اور لکھائی کے حساب سے بہت خوب لکھا…… مگر کچھ تحفظات اور سوالات آپ کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔ اُصولی طور پر آپ اس سیریز کے لیے نیٹ فلیکس پر نہیں گئے اور نہ ارادہ ہی ہے، تو آپ اس پر […]
ہیرا منڈی، تصویر کا دوسرا رُخ

تحریر: منصور ندیم آج کل پڑوسی ملک میں بننے والی نیٹ فلیکس فلم ’’ہیرا منڈی‘‘ کا بڑا تذکرہ ہے۔ مَیں نے یہ فلم دیکھی ہے نہ ابھی تک دیکھنے کا موڈ ہے، مگر اب تک اس فلم پر بانٹا جانے والا ’’گیان‘‘ بہت پڑھا ہے۔ کوئی ان تبصروں میں فسوں نگاری ڈھونڈ رہا ہے، کوئی […]
گندم بحران، کیا ذمے دار سزا پائیں گے؟

گندم بحران نے کسان طبقے میں بے چینی کی لہر ہی پیدا نہیں کی، بلکہ اسے کاشت کاری سے بھی متنفر کر دیا ہے۔ کس قدر قابلِ رحم صورتِ حال ہے کہ پروڈیوسر اپنی پراڈکٹ یا پروڈکشن کی قیمت کا تعین بھی نہیں کرسکتا۔ ایک قلفی فروش، چھابڑی والا، ریڑھی پر رکھ کر چیزیں فروخت […]
وعدہ خلافی ہمارا قومی شعار

ابھی ہمارا کالج چل رہا تھا۔ ایک سینئر دوست ملنے آیا تھا۔ اُس کو رخصت کرنے ہم باقی دوست ساتھ نکلے، تو اجازت لیتے ہوئے اُس سینئر دوست نے سب کو کہا کہ گھر سے کبھی پلاسٹک کے چپل (جوتوں) میں مت نکلیں۔ اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے […]
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود

مَیں دین کے استعمال و تشریح وغیرہ پر پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر لکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتا ہوں۔ جس پر میرے قارئین اور دوستوں کی بہت کم تعداد خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، جب کہ زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے کہ جو مجھے اس موضوع پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ […]
صوبائی خودمختاری کیوں ضروری ہے؟

پاکستان کا بننا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہے۔ یہ وجوہات مغلیہ سلطنت کے اختتام سے لے کر تقسیمِ ہند تک پیدا ہوتی رہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں دو قومیتوں کی بنیاد رکھ دی تھی، یعنی مسلمان اور ہندو۔ مذکورہ دو قومیتوں کے درمیان خلیج نے دو الگ شناختیں […]
امریکہ کے اندر سے فلسطین کی حمایت میں اُٹھتی آواز

ظلم یا تشدد ایک مکمل عمل کا نام ہے، جس کا ابتدا اچانک ہوتا ہے، مگر اختتام آسانی سے ممکن نہیں۔ کتابوں میں تشدد یا ظلم کے مختلف مراحل کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً: ظلم کسی بھی شکل میں ہو، اس کا ابتدا ایک جھٹکے (Shock) سے ہوتا ہے۔ یعنی کوئی بہت جانی اور قریبی […]
آصفہ بھٹو زرداری

مَیں یہ کالم گذشتہ کالم کی جگہ لکھنا چاہتا تھا، لیکن نہ لکھ سکا اور مَیں نے اس کی وجوہات بھی اپنے گذشتہ کالم میں درج کر دی تھیں۔ بہ ہرحال بہ ظاہر آصفہ بی بی پر ایک مکمل کالم لکھنا اس وجہ سے بھی مشکل ہے کہ ابھی تک آصفہ کی پہچان فقط بلاول […]