سرِ دست ’’سید کمال شاہ باچا‘‘ نامی ایک حضرت کی ٹوئٹ ملاحظہ ہو:
’’سیاحوں کے نام اہم پیغام!
سوات شانگلہ دیر پوری پختونخوا میں سیر و تفریح کے لیے آنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے خواتین کا لباس کا خاص خیال رکھیں یہ پختونخوا ہے اور پختونوں کی صوبے میں ننگے لباس نہیں چلے گا برائے مہربانی ہمارے ثقافت کو خراب نہ کریں۔ چیئرمین صوبائی امن جرگہ۔‘‘
ایسی سوچ کا اظہار اُردو قواعد کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرکے ممکن ہے۔ پتا نہیں یہ سید صاحب کون ہے اور پختون خوا میں کس قسم کے امن کے لیے جرگے کرتا ہے؟ البتہ یہ ٹوئٹ اور اس طرح کی دیگر تحریریں کچھ گروپس میں گردش کر رہی ہیں اور ان پر سیکڑوں لائکس بھی موجود ہیں۔ اس ایک پیراگراف کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے سیکڑوں صفحات لکھے جاسکتے ہیں، لیکن مَیں یہاں صرف چند ایک امور کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
ظہیر الاسلام شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/zaheer/
سب سے پہلے آپ یہ دیکھیں کہ اس نے ’’حضرات‘‘ سے گزارش کی ہے کہ وہ ’’اپنی‘‘ خواتین کے لباس کا خیال رکھیں۔
یہ وہی پدر شاہی سوچ ہے جس کی بہ دولت مرد حضرات عورت کو برابر کا انسان سمجھنے کی بہ جائے نہ صرف اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں، بلکہ اس کی زندگی کا ہر فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے کر اس کے لیے جملہ اقدار بھی وضع کرتے ہیں۔
پھر آگے ثقافت کی بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یہ پختون خواہے‘‘ یہاں ’’یہ‘‘ والا پختونخوا وہ پختون خوا ہے جس کا عکس اس کے رجعت پسند ذہن میں موجود ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ یہاں اکثریت کی سوچ ایسی ہی ہے، بلکہ بنائی گئی ہے…… لیکن یہاں ایسے بھی لوگ رہتے ہیں، جنھیں اس جہالت سے کوئی علاقہ نہیں۔ البتہ ایسی فسطائی اور مطلق العنان ذہنیت کی حامل اکثریت اور اس کے نمایندوں کی نظر میں نظام وہی ہوگا جو یہ چاہیں گے، چاہے اس کے سبب دوسرے کچلے ہی کیوں نہ جائیں اور وہ نظام بغیر کسی منطقی بنیاد کے کیوں نہ ہو……!
دیگر متعلقہ مضامین:
گندم سکینڈل، حکومت کہاں کھڑی ہے؟  
اندھی طاقت  
اچھائیوں میں مقابلہ و موازنہ کیجیے 
بھیک سے مزدوری بہتر ہے 
بے چینی (اینزائٹی) کا نفسیاتی جایزہ 
اس پس ماندہ خطے سے تعلق رکھنے والے ایسوں کو اندازہ نہیں کہ سیاح آپ کے علاقے کا رُخ آپ کی دقیانوسیت اپنانے کے لیے نہیں، زیادہ سے زیادہ اسے دیکھنے کے لیے کرتے ہیں اور یہاں پختونخوا میں تو دیکھنے بھی نہیں آتے۔ اکثر لوگ چند مخصوص پہاڑی علاقوں اور ہوٹلوں میں قیام کرکے سیدھا واپس چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں اس قسم کی جاہلانہ تنبیہات کے سبب سیاحت کی بہ دولت باہمی اُلفت اور ثقافتی تبادلے کے پنپنے کا رہا سہا امکان بھی ختم ہوجاتا ہے۔
ثقافتی تبادلہ کس بلا کا نام ہے اور اس کے لیے باقی دنیا کس قدر اہتمام کرتی ہے…… یہ وہ لوگ کیا جانیں، جنھوں نے باہر سے زبردستی تھوپی گئیں اقدار کو اپنی ثقافت سمجھا ہو اور ثقافتی علوم سے ناواقفیت کے سبب ثقافت کو پتھر کی لکیر قرار دیا ہو۔
ہنٹنگٹن نے اپنی کتاب "The Clash of Civilizations” میں جس طرح اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان موجود تہذیبی تفاوت کو نہایت مبالغہ آمیز طور پر پیش کیا ہے، اُس پر تنقید کرتے ہوئے ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب "Covering Islam” میں لکھا ہے کہ ہنٹنگٹن کے نزدیک "Cultural diffusion” کا کوئی تصور نہیں اور وہ تہذیب کو کمرے میں رکھے گئے فرنیچر کی طرح ایک غیر متبدل شے تصور کرتے ہیں۔ اپنے ہاں بھی اکثر لوگوں کی سوچ ہنٹنگٹن سے زیادہ مختلف نہیں۔ انسانوں کے درمیان غیر سازی (Otherization) کو ہوا دینے والے انسانی نسل، بل کہ پورے زمینی سیارے، کے دشمن ہیں…… چاہے ایسے لوگ مشرق میں ہوں یا مغرب میں۔
جناب نے لکھا ہے کہ ہماری ثقافت ’’خراب‘‘ نہ کریں۔ جناب ذرا یہ بھی بتا دیں کہ آپ کو ثقافت میں موجود کس ٹھیک چیز کی خراب ہونے کی فکر کھائے جا رہی ہے؟ وہ کون سے پہلو ہیں جن کی حفاظت کے لیے آپ ہلکان ہورہے ہیں…… سوائے اپنی اجارہ داری قائم رکھنے، خواتین کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے، اُنھیں گھروں میں مقید رکھنے اور ز سر تا پا اس قدر ڈھانپنے کے کہ سانس لینا مشکل ہوجائے (مرد ماسک پہن کر شانگلہ، سوات اور دیر کے پہاڑی ڈھلوانوں یا ویسے ہی ہم وار علاقوں میں چل کر دکھائیں، دو قدم چل کر ہی سانس پھول جائے گی۔ کویڈ 19 سے یہ تو سیکھا ہوتا!)
جس رفتار سے جنگلات کی کٹائی ہو رہی ہے اور یہ خطہ آب و ہوا کے جس بحران کا شکار ہے، ایسے تنگ نظروں کو زیادہ فکر کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے، جو کہ نہیں کیے جارہے ہیں، تو مستقبل میں یہاں آنے والے گنے چنے سیاح بھی آنا چھوڑ دیں گے۔
کیوں کہ یہاں سیاحت کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہوگا!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔