ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں زیادہ تر کاروبار ’’خوف‘‘ پر چل رہے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم محفوظ نہیں، تو سخت سے سخت قوانین لاگو کرتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم زیادہ خوب صورت نہیں، تو سرجری، مہنگا میک اَپ، کپڑے اور جیولری خریدتے ہیں۔ ہمیں محسوس کروایا جاتا ہے کہ ہم زیادہ امیر نہیں، تو ایک مخصوص طرزِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہم صبح و شام محنت کرتے ہیں، اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو نظر انداز کرتے ہوئے۔
ماڈرن دنیا میں ایک نئی پریشانی بھی ہے جسے فلسفی ’’ایلن ڈیبوٹن‘‘ اسٹیٹس انزائٹی (Status Anxiety) کہتے ہیں۔ یہ مڈل اور اَپر مڈل کلاس والوں کو زیادہ ہوتی ہے۔ یہ سارے خوف ہمارے اندر بے چینی (Anxiety) کو جنم دیتے ہیں۔ ماڈرن دنیا میں اس وقت اس انزائٹی نامی مسئلے کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ کسی وقت میں ہمارا مقابلہ خاندان اور محلے والوں سے ہوتا تھا۔ آج کل ٹیکنالوجی کے دور میں ہمارا مقابلہ پوری دنیا سے ہے۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ مقابلہ بھی ہماری بے چینی اور اضطراب کا ذمے دار ہے۔
مجھے اِن باکس میں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ انہیں ’’سماجی تشویش‘‘ (Social Anxiety) ہے اور اس کو حل کرنے کا کوئی طریقہ بتائیں۔ اتفاق سے مجھے خود بھی اس سماجی تشویش کا سامنا رہا ہے اور جب زندگی میں کئی بہترین مواقع کھو دینے کے بعد ایک بہت بڑا موقع بھی مَیں نے اس ’’اینزائٹی‘‘ کی وجہ سے کھو دیا، تب احساس ہوا کہ اب عمل کا ٹائم آگیا ہے، اور مَیں نے مناسب لایحۂ عمل اختیار کیا، اور وقت کے ساتھ میں اپنی اینزائٹی کو نارمل کرنے میں کامیاب رہی۔ چوں کہ انسانوں کی فطرت ہے کہ وہ اپنے تجربے دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ اس لیے بنی نوع انسان کی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ’’سائیکالوجی‘‘ اور ’’فلسفہ‘‘ کی روشنی میں اپنا تجربہ شیئر کرنا چاہوں گی۔ شاید آپ کے کسی کام آسکے۔
وہ لوگ جنہیں اینزائٹی ہو خود کو ’’انٹرو ورٹ‘‘ (Introvert) کَہ کر بہلاتے ہیں (انٹروورٹ وہ لوگ ہیں جنہیں زیادہ سماجی تعلقات بنانا نہیں پسند، جو کچھ وقت اکیلے گزارنا پسند کرتے ہیں) لیکن انٹرو ورٹ لوگوں کو اینزائٹی نہیں ہوتی۔ ان کا کیرئیر اچھا ہوتا ہے اور ان کے پاس چند بہترین لوگوں کی صحبت بھی ہوتی ہے۔ بس وہ زیادہ لوگوں کا جھرمٹ پسند نہیں کرتے۔ مَیں بھی خود کو انٹروورٹ کَہ کر بہلاتی تھی۔ چہرے کے آگے ہر وقت کتاب رکھنا، تاکہ کوئی مجھ سے بات نہ کرے (زیادہ کتابیں پڑھنے کے پیچھے یہ بھی ایک وجہ تھی۔) بہت سے لوگ اس اینزائٹی نامی احساس کو محسوس نہ کرنے کے لیے کھانا، شاپنگ، پورن، سیکس، تنہائی، فلمیں ڈرامے، حتیٰ کہ کوئی بھی فرار ہو لیکن بس اس انزائٹی سے کچھ دیر کے لیے دھیان ہٹ جائے۔ انزائٹی سے دھیان ہٹانا حل نہیں۔ اس سے لڑنا بھی حل نہیں ، تو پھر حل کیا ہے ؟
٭ بے چینی (Anxiety) سائیکالوجی کی نظر میں:۔ مشہور سائیکاٹرسٹ ’’وکٹر فرینکل‘‘ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک نوجوان ڈاکٹر اپنا مسئلہ لے کر آیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اسے سوشل اینزائٹی ہے…… اور جب وہ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہو، تو اسے پسینے آنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے وہ تقاریب میں جانے سے گریز کرتا ہے۔ ڈاکٹر وکٹر نے نوجوان ڈاکٹر کی اینزائٹی کا علاج اپنی مشہور تھیراپی جسے ’’لوگوتھیراپی‘‘ کہتے ہیں، سے کیا۔
وکٹر کہتے ہیں کہ ہم انسان دو صورتوں کا سہارا لیتے ہیں: پہلا خوف سے بھاگنا(Flight)، دوسرا خوف سے لڑنا(Fight) اور یہ دونوں طریقے ہی آپ کی اینزائٹی کو گھٹانے کی جگہ بڑھاتے ہیں۔ یہ تب کارآمد ہوتے ہیں جب آپ کو جنگل میں کسی شیر کا سامنا ہو، لیکن انسانوں کی دنیا میں اس کا استعمال مزید مسایل کو جنم دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو پریزنٹیشن دینی ہے یا عوامی فنِ تقریر (Public Speaking) کرنی ہے، تب آپ کو بے چینی اور اضطراب کا سامنا ہوتا ہے جو کہ فطری ہے…… لیکن اضطراب شدت کب اختیار کرتا ہے اور اتنی شدت کہ آپ اس سرگرمی کو نظرانداز یا اس سے بھاگنا/ لڑنا شروع کردیتے؟
آپ کو عوامی فنِ تقریر کا خوف تو ہے، لیکن معاملات تب خراب ہوتے ہیں جب انزائٹی کی وجہ سے نتایج (Outcome) کا خوف بھی شامل ہوجائے، یعنی آپ سوچیں کہ پتا نہیں کیا ہوگا اگر میں سب بھول گیا تو…… سب نے میرا مذاق اڑایا تو…… اگر لوگوں کو میری باتیں پسند نہیں آئیں تو……! یہ تو کبھی ختم نہیں ہوتا اور اب آپ دو گنا خوف اور اس سے پیدا ہونے والی دو گنا اینزائٹی کا شکار ہوگئے ہیں…… جسے لکھاری مارک مینسن فیڈ بیک لوپ فرام ہیل (یعنی کبھی نہ تھمنے والی زہریلی کیفیت)کہتے ہیں،۔
دوسری مثال دے کر سمجھاؤں، تو اگر آپ کو کسی انسان، حالات یا جذبات کا سامنا کرنا ہے اور آپ اس کا سامنا کرنے سے کسی وجہ سے گھبرا رہے ہیں۔ اب آپ کو اینزائٹی ہو رہی ہے۔ کچھ دیر میں جب اس انسان، حالات یا جذبات کا سامنا کرنے کا وقت قریب آئے گا، اب آپ کو اپنے اینزائٹی کو لے کر مزید اینزائٹی ہوگی…… اور اب وہ آپ کی برداشت سے باہر ہے۔ اب وقت ہوا چاہتا ہے ’’فرار‘‘ ڈھونڈنے کا۔ دو گناجنک فوڈ، دو گنا پورن، زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزاری، زیادہ سگریٹ، زیادہ الکوحل، کچھ بھی ہو بس دماغ کو سن کرنا ہے۔ مَیں اکثر کہتی ہوں کہ آپ کے دشمن آپ کے رشتے دار یا انڈیا والے نہیں۔ آپ کا اپنا دماغ کافی ہے آپ کو ذلیل و خوار کروانے کے لیے۔
وکٹر نے نوجوان کو مشورہ دیا کہ وہ متضاد ارادہ (Paradoxical Intention) کا سہارا لے، یہ متضاد ارادہ کیا ہے؟
سب سے پہلے تو آپ عقل کا سہارا لے کر خود کو سمجھاتے ہیں کہ مجھے پبلک اسپیکنگ سے ڈرنا نہیں چاہیے، جب تک کہ پبلک کے ہاتھوں میں پستول نہ ہو اور غلطی کرنے پر گولی مارنے کی پالیسی نہ ہو…… لیکن صرف عقل سے مسئلے نہیں حل ہوتے۔ جذبات بہت ڈھیٹ ہوتے ہیں اور یہ کسی کی نہیں سنتے۔ لہٰذا اس طریقے میں آپ نہ اپنی اینزائٹی سے لڑتے ہیں…… اور نہ اس سے بھاگتے ہیں…… بلکہ اپنے فوکس کو منتقل (Shift) کرتے ہیں۔ اس میں آپ نتایج سے اپنا فوکس ہٹاتے ہیں اور انسانوں کی سب سے بڑی طاقت یعنی ’’مِزاح‘‘کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو نیند نہیں آرہی اور وہ خود پر زبردستی کرکے سونے کی کوشش کررہا ہے اور وہ بہت شدت سے چاہتا ہے کہ اسے نیند آجائے، لیکن متضاد ارادے میں آپ خود سے کہتے ہیں کہ مجھے نیند نہ آئے تو بہتر ہے، مَیں کوئی اور سرگرمی کرلوں گا، ضروری نہیں کہ مجھے نیند آئے۔ وکٹر نے اس ڈاکٹر کو کہا کہ وہ متضاد ارادے کا استعمال کرے اور جب کسی تقریب میں جائے، تو یہ نہ سوچے کہ اسے بے چینی یا اضطراب نہ ہو…… بلکہ مِزاح کا استعمال کرتے ہوئے خود پر ہنستے ہوئے ساتھ والوں سے کہے: ’’آج اتنا رش دیکھ کر لگتا ہے کہ مجھے ڈبل پسینا آئے گا۔‘‘ ایسا کرتے ہوئے اس نوجوان ڈاکٹر کی اینزائٹی وقت کے ساتھ نارمل ہوتی گئی۔
یہ طریقہ میں نے اپنی ذاتی زندگی میں اپنایا۔ مجھے جب بھی اینزائٹی ہوتی میں مِزاح کا سہارا لے کر خود ہی اپنا مذاق اڑاتی ہوں۔ آپ جتنا خود پر خول چڑھانے کی کوشش کریں گے، چھپانے، بھاگنے یا پرفیکٹ دکھنے کی چاہ کریں گے، اتنا ہی آپ کو تکلیف ہوگی۔ نتایج پر فوکس کرنے سے آپ کی اینزائٹی مزید بڑھ جاتی ہے۔ مجھے اسٹائیسزم (Stoicism) پریکٹس کرتے ہوئے جب اس بات کا اندازہ ہوا کہ مَیں اور میرے مسئلے کاینات کی رو سے اتنے اہم ہیں نہیں، جتنا میرا دماغ انہیں میرے سامنے پیش کرتا ہے۔ تب جب بھی میرا دماغ ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتا ہے یا مجھے اپنا آپ بہت اہم اور خاص دکھاتا، تو مَیں اس کے نظریات کا مذاق اڑا کر اسے واپس نارمل کی جانب لانے میں کسی حد تک کامیاب ہوجاتی ہوں۔ سب پریکٹس کا گیم ہے اور یہ یقینا ہرگز آسان نہیں۔ یہ خودکلامی ہے جس میں آپ خود ہی اپنے آپ کا مشاہدہ کرکے اپنی بے وقوفیوں کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرکے خود پر ہنستے ہیں۔اتنا سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں، آپ اور آپ کے مسئلے بالکل بھی خاص نہیں۔
٭ بے چینی (Anxiety) فلسفہ کی نظر میں:۔ سدھارت گوتم بے چین انسانی دماغ کو ’’بندر دماغ‘‘ (Monkey Brain) کہتا ہے، جو کسی بندر کی مانند ایک خوف سے دوسرے اور دوسرے خوف اور فینٹسی سے تیسرے کی جانب چھلانگ لگاتا ہے۔ ایسے دماغ کو روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سدھارت کا فلسفہ ہمیں اینزائٹی کا سامنا کرنے کے لیے دو چیزیں ’’دانش‘‘ (Wisdom) اور ’’مشق‘‘ (Practice) کو ضروری بتاتا ہے۔ بنا مشق کے دانش کسی کا کام کا نہیں، اگر آپ صرف چیزیں پڑھتے ہیں…… لیکن آپ پریکٹس نہیں کرتے، تو وہ پڑھنا آپ کو فایدہ نہیں دیتا…… بلکہ دماغ کی الجھنوں کو بڑھا دیتا ہے۔ آٹھویں صدی کے بدھ اسٹ شانتی دیوا کہتے ہیں: ’’اگر کوئی مسئلہ حل ہوسکتا ہے، تو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اسے حل کرو اور اگر اس مسئلے کا کوئی حل نہیں، تو بھی پریشان ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا، کیوں کہ وہ حل نہیں ہوسکتا۔‘‘
اسٹائسزم (Stoicism) ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ سب مسایل آپ کے کنٹرول میں نہیں۔ مثال کے طور پر ڈالر مہنگا اور روپیا گر رہا ہے۔ ایک خطرناک آرٹیکل یا وڈیو دیکھ کر آپ کو کسی صحافی نے آگاہ کیا۔ صحافی کو ’’انزائٹی‘‘ بیچ کر ویوز مل گئے۔ اب آپ پریشان ہوگئے کہ کیا بنے گا ملک کا؟ سیاست دان سب چور ہیں۔ آرمی کرپٹ ہے۔ سرکاری افسران بھی کرپٹ اور لالچی ہیں۔ اب آپ کو اپنے مستقبل کی فکر ہوگئی۔ اب آپ کو اپنے بچوں کے مستقبل کی بھی فکر ہے۔ اب آپ انزائٹی اور پریشانی کے نہ ختم ہونے والے سلسلے میں پھنس چکے ہیں۔ اپنے بیوی بچوں پر چلا رہے ہیں۔ کولیگ اور دوستوں سے الجھ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک کی پالیسی بنانے میں آپ کا کوئی کردار ہے؟ ’’نہیں۔‘‘ یہ آپ کے کنٹرول میں نہیں…… آپ کے کنٹرول میں آپ کا اپنا بجٹ اور آپ کا اپنا ردِ عمل (Response) ہے۔
ہمارے ’’بندر دماغ‘‘ کو یہ ساری پریشانیاں سوچنے میں مزا آتا ہے۔ اسے کچھ نہ کچھ چاہیے پریشان ہونے کے لیے۔ سوچنا غلط نہیں، لیکن ان چیزوں پر سوچنا جس پر آپ کا اختیار نہیں، یا جس سے مسایل کا حل نہیں نکلتا اور بہت زیادہ سوچنا، فضول ہے۔ زندگی میں ہر اینزائٹی، پریشانی یا سوچ کو حل نہیں کرتے بلکہ کچھ پریشانیاں تحلیل کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ غیر منطقی سوچوں کو حل نہیں کیا جاتا (حل کرنا ہمارے دماغ کی خاصیت اور فطرت ہے) بلکہ انہیں اپنے جسم میں تحلیل کیا جاتا ہے…… اور اس کے لیے سدھارت گوتم کی پریکٹس ’’مائنڈ فلنس میڈی ٹیشن‘‘ بہت کارآمد ہے۔ جس میں آپ حال میں اپنے جذبات اور سوچوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ آپ کسی جگہ خاموشی سے بیٹھ کر بھی ملک کے حالات دیکھ کر اپنے اندر اُٹھنے والے خوف اور اینزائٹی کا مشاہدہ کرکے اسے اپنے جسم میں تحلیل ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ ملک کی پالیسی آپ کا مسئلہ نہیں۔ یہ کام ان کا ہے جن کے پاس اختیار ہے۔ آپ کے پاس جو اختیار ہے…… آپ اس کا استعمال کرکے اپنے مسئلے حل کریں اور جو حل نہیں ہوسکتے انہیں تحلیل کریں۔ انہیں جانے دیں۔
٭ میرا ذاتی تجربہ:۔ مجھے بھی ’’سماجی تشویش‘‘ (Social Anxiety) ہے۔ مَیں نے اس کا علاج کرنے کی ٹھانی، وکٹر فرینکل کی بات اور مائنڈ فلنس پر عمل کرتے ہوئے مَیں نے رش والی جگہوں کا انتخاب کیا۔ مثال کے طور پر مَیں نے ایک تجربہ کیا…… جو لوگ کراچی میں رہتے ہیں یہاں ’’سی ویو‘‘ نامی ایک جگہ ہے، جہاں ایک مشہور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ہے۔ اس کے باہر صبح کے وقت خاصا رش ہوتا ہے اور مجھے وہ جگہ بالکل پسند نہیں۔ مَیں جان بوجھ کر وہاں جاتی۔ ایک کاپی اور ایک پین ساتھ ہوتا۔ مَیں لکھنا شروع کردیتی۔ اپنے جذبات، اپنے خوف، وہاں موجود رش سے اکتاہٹ…… تقریباً ہر روز ایسا ہوتا۔ آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہوا کہ اب میرے اضطراب میں کمی آ رہی ہے۔
کاپی سے نظریں اُٹھا کر آس پاس والوں پر نظر بھی ڈالنی شروع کردی۔ وہاں میرے سامنے بیٹھی لڑکیوں سے جان بوجھ کر بات چیت کی۔ تھوڑا اور نارمل محسوس ہوا۔ اگلے دن مَیں نے کچھ نہیں لکھا، بس نارمل بیٹھی رہی۔ ریسٹورینٹ کی مینیجر نے میری جانب دیکھا اور مسکرائی۔ مَیں نے بھی انسانوں کا کلاسیکل رسپانس یعنی ’’مسکراہٹ کے بدلے مسکراہٹ‘‘ میں جواب دیا۔ اُس نے مجھ سے بات کی اور کہا کہ آپ یہاں پڑھنے آتی ہیں؟ مَیں نے بھی دلچسپی دکھائی۔ اسے بھی اپنے دکھ سنانے کے لیے کوئی چاہیے تھا اور مجھے بھی اپنی سوشل اینزائٹی اور انسانوں سے ہونے والی کوفت، اکتاہٹ اور خوف کو دور کرنا تھا۔ اس نے خواتین کو جاب میں آنے والے مسئلوں کو بیان کیا اور مَیں نے انسانوں میں موجود بنیادی جذبۂ ہم دردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا احساس کیا اور اس کی محنت کی حوصلہ افزائی کی۔ انسان حوصلہ افزائی اور تسلیم (Acknowledgement) چاہتا ہے۔ اُس دن کے بعد مَیں دوبارہ وہاں نہیں گئی۔ اب ضرورت ہی نہیں۔ میری سوشل اینزائٹی میں کمی آگئی ہے۔ اب انسان زیادہ برے، اکتاہٹ اور خوف کا شکار کردینے والے نہیں لگتے۔ ایسے بہت سے تجربے مَیں نے کیے…… کچھ جان کر، تو کچھ انجانے میں ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہونے سے آس پاس والوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہوتا۔یہ سوچیں ہمارے دماغ میں ہوتی ہیں اور ’’ڈاکٹر جو ڈسپینزا‘‘ کہتے ہیں، ’’اگر کوئی سوچ آپ کے دماغ میں ہے…… ضروری نہیں کہ وہ درست بھی ہو۔‘‘ آج بھی کبھی کبھار اینزائٹی ہوتی ہے (انزائٹی فطری ہے، لیکن اگر اس سے نمٹنا نہ آتا ہو، تو تب مسئلے ہوتے ہیں) لیکن اس کی شدت اور تکلیف میں خاصی کمی آگئی ہے۔ کیوں کہ اب اس سے نمٹنا آگیا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔