ته راله پیدا که مولانا لکه خان زیب

آزادیِ رائے کسی بھی مہذب معاشرے اور جمہوری ریاست کا وہ بنیادی حسن ہے، جس کے بغیر عوامی حاکمیت کا تصور ادھورا رہتا ہے۔ ایک حقیقی جمہوری ریاست اپنے تمام شہریوں کو بلا تفریق رنگ، نسل، زبان اور خطہ برابر کے حقوق فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے… لیکن جب بدقسمتی سے داخلی عدم توازن […]
اصل امتحان تو اب شروع ہوا

پاک ایران گیس پائپ لائن اور سستے تیل کی خریداری کا خواب طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کی بھیٹ چڑھتا رہا ہے۔ اگرچہ موجودہ معاہدے کے تحت امریکہ نے ایران پر سے بعض سخت پابندیاں عارضی طور پر اٹھانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن پاکستان کے لیے ایران سے سستا تیل خریدنا اب بھی اتنا […]
مصنوعی ذہانت اور فکری زوال

ہر دور میں نئی ایجادات انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں، لیکن عصرِ حاضر میں ’’مصنوعی ذہانت‘‘ (Artificial Intelligence) اور بالخصوص ’’چیٹ جی پی ٹی‘‘ جیسی ٹیکنالوجیز نے سوچ اور فکر کے دھارے کو یک سر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اجتہادِ نو کی اس دوڑ میں جہاں ایک طرف سہولت کے نئے […]
ڈیجیٹل دور کا المیہ اور معمارِ قوم

تاریکیوں کے اس طویل سفر میں، جہاں انسان بھٹک کر اپنی شناخت کھو دیتا ہے، وہاں صرف ایک ہی ہستی ہوتی ہے، جو چراغِ راہ بن کر سامنے آتی ہے اور وہ استاد ہے۔ زمانہ بدلتا ہے، تہذیبیں کروٹ لیتی ہیں، حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں، لیکن انسانی معاشرے کی تعمیر کا جو فریضہ روزِ […]
تعلیمی نج کاری یا ایک نسل کی تباہی؟

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ یہ وہ بنیادی حق ہے، جس کی فراہمی ریاست کے وجود کا اولین جواز اور اس کی آئینی ذمے داری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل ’’25-اے‘‘ واضح طور پر ریاست کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 […]
بجٹ… ایک ریاست دو دستور

بجٹ کا موسم آتے ہی ایوانوں کی رونقیں اور غریب کے چولھے کی سردی، دونوں ہی اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ رواں مہینے کی پانچ تاریخ (5 جون) کو سالانہ بجٹ پیش کیا جانے والا ہے، لیکن اس کی آمد سے قبل ہی جو خبریں اور فیصلے سامنے آ رہے ہیں، وہ غریب سرکاری […]
منشیات سے پاک سوات… ایک خواب

نشاط چوک مینگورہ میں ہونے والا حالیہ احتجاجی مظاہرہ محض چند افراد کی آواز نہیں، بل کہ اس مٹی سے جڑے ہر اُس ماں، باپ اور بھائی کی چیخ ہے، جس کا لختِ جگر اس سفید زہر کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، یا چڑھنے کے قریب ہے۔وادیِ سوات، جو کبھی اپنی مسحور کن خوب صورتی، […]
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

تعلیم انسان کو تہذیب سکھاتی ہے اور شعور کی اُن شمعوں کو روشن کرتی ہے، جو معاشرے میں اندھیروں کا خاتمہ کرتی ہیں۔ درس گاہیں وہ مقدس مقامات ہیں، جہاں سے نکلنے والا ہر فرد قوم کا معمار کہلاتا ہے۔ ماضی میں تعلیمی اداروں سے وابستہ یادیں نہایت پُروقار اور شایستہ ہوا کرتی تھیں، جہاں […]
باچا خان مرکز میں تقریب حلف برداری

انسانی معاشرت کی بقا اور ترقی کا دار و مدار ہمیشہ سے اُن اداروں اور تنظیموں پر رہا ہے، جو اجتماعی مفاد کے حصول کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انفرادی کوششیں ایک محدود دائرے تک تو […]
ایدھی کا روپ دھارے محمد ہلال

دنیا کی رنگینیوں اور مادہ پرستی کے اس ہجوم میں جہاں ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں مقید ہے اور نفسا نفسی کا عالم ہر سو برپا ہے، وہاں کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کا جینا اور مرنا محض اپنی ذات کے لیے نہیں، بل کہ انسانیت کی فلاح کے لیے […]
نظریہ اور نعرے

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام میں سیاسی جماعتیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سیاسی جماعت محض چند افراد کے گروہ کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک ایسے منظم ادارے کا نام ہے، جہاں ہم خیال لوگ ایک مخصوص نظریے اور ضابطۂ اخلاق کے تحت اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایک مثالی سیاسی […]
عالم پہ سہ دے او سید عالم پہ سہ دے!

سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے آج انسان کے قدم چاند پر جما دیے ہیں اور اب وہاں انسانی بستیاں بسانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کا یہ جنون اس بات کی علامت ہونا چاہیے تھا کہ بنی نوع انسان اب رنگ، نسل اور ذات پات کے […]
ٹپہ، ماہیہ، لیکو اور زہیراک

پاکستان کی دھرتی، لسانی اور ثقافتی تنوع کا ایک ایسا گل دستہ ہے، جس کا ہر پھول اپنی الگ خوش بو اور رنگ رکھتا ہے… لیکن اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے، تو ان مختلف زبانوں کے پسِ پردہ انسانی جذبات کی ایک ہی لہر کار فرما نظر آتی ہے۔ خیبر کا ’’ٹپہ‘‘ ہو […]
تفریح کے نام پر ہلڑ بازی کا بڑھتا رجحان

عوامی مقامات اور تفریحی مراکز کسی بھی مہذب معاشرے کا مشترکہ اثاثہ ہوتے ہیں، جہاں ہر شہری کو سکون اور اطمینان کے ساتھ وقت گزارنے کا برابر حق حاصل ہوتا ہے… لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی کے تصور کو اکثر غلط رنگ دے دیا جاتا ہے اور یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ پبلک […]
فلسفہ عید اور نظام جبر

عید الفطر کا تہوار ہماری سماجی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اس کے حقیقی فلسفے کو محض رسم و رواج کی تہوں میں دبا دیا ہے۔ عام طور پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ دن صرف ایک […]
کاش ہم میں بہت سے باچا خان ہوتے!

’’مَیں بوٹ اس لیے نہیں پہنتا، کیوں کہ میرا پشتون دست کار اسے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ (باچا خان)پشتون معاشرت میں خودداری اور مقامی ثقافت سے وابستگی محض ایک طرزِ زندگی نہیں، بل کہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کی جڑیں غیرت اور معاشی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔ بزرگوں کے اقوال محض الفاظ […]
مسلم امہ بہ مقابلہ قومی مفاد

بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ اور تزویراتی تقاضوں نے دورِ حاضر میں مسلم امہ کے روایتی تصور اور جدید ریاست کے مفادات کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا مسلمان دنیا بھر میں ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ایک ایسی قوم […]
تیزی سے بدلتا عالمی منظرنامہ

20ویں صدی کے اختتام تک عالمی سیاست ایک نازک مگر قائم توازن کے سہارے کھڑی تھی۔ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں، اختلافات شدید تھے، مگر ایک حد بھی موجود تھی۔ اس حد نے دنیا کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ پھر وہ مرحلہ آیا، جب ایک طاقت بکھر گئی اور دوسری […]
پاک افغان جنگ اور دو قومی نظریہ

برطانوی سامراج نے جب ہندوستان کی دولت سمیٹنے اور یہاں کے وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار کے بعد رختِ سفر باندھنے کا ارادہ کیا، تو وہ جاتے جاتے اس خطے کو ایک ایسی مستقل تقسیم اور نظریاتی انتشار کی بھٹی میں جھونک گیا، جس کی تپش آج بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ […]
سوات: گندھارا ورثہ اور معاشی امکانات

سوات کی وادی، جسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، محض بلند و بالا برف پوش چوٹیوں، گنگناتی جھیلوں اور سرسبز چراگاہوں کا نام نہیں، بل کہ یہ خطہ انسانی تاریخ کی اَن گنت تہوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ حال ہی میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے پیروکاروں […]
منتظرانِ نجات دہندہ

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک عجیب و غریب مماثلت نظر آتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر موجود مختلف تہذیبیں، جو ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور اور الگ الگ نظریات کی حامل ہیں، ایک نکتے پر متحد نظر آتی ہیں… اور وہ ہے ایک ’’نجات دہندہ‘‘ کا انتظار۔ مسلمان امام مہدی اور […]