ہر دور میں نئی ایجادات انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں، لیکن عصرِ حاضر میں ’’مصنوعی ذہانت‘‘ (Artificial Intelligence) اور بالخصوص ’’چیٹ جی پی ٹی‘‘ جیسی ٹیکنالوجیز نے سوچ اور فکر کے دھارے کو یک سر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اجتہادِ نو کی اس دوڑ میں جہاں ایک طرف سہولت کے نئے در وا ہوئے ہیں، وہاں دوسری طرف انسانی معاشرے کے فکری، مذہبی اور سماجی ڈھانچے پر چند انتہائی گہرے اور فکر انگیز سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ یہ سوالات کسی عام خدشے پر مبنی نہیں، بل کہ انسانی بقا اور تشخص کے اساسی پہلوؤں سے جڑے ہوئے ہیں۔
سب سے پہلا اور اہم ترین مسئلہ انسانی صلاحیتوں اور فطری استعداد کو لگنے والا وہ زنگ ہے، جو اس اندھی تقلید کا بہ راہِ راست نتیجہ ہے۔ جب انسان ہر چھوٹی بڑی اُلجھن، معمولی نوعیت کے سوال اور روزمرہ کے فیصلوں کے لیے بھی اپنے دماغ پر زور دینے کے بہ جائے ڈیجیٹل اسکرین کا محتاج ہو جائے، تو اُس کی سوچنے، سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیتیں رفتہ رفتہ مفلوج ہونے لگتی ہیں۔ انسانی ذہن کی مثال ایک ایسے پٹھے کی سی ہے، جسے جتنا استعمال کیا جائے، یہ اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے… اور اگر اسے بے کار چھوڑ دیا جائے، تو یہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ جب طالبِ علم، قلم کار اور مفکر اپنی ذہنی مشقت کو مصنوعی ذہانت کے سپرد کر دیں گے، تو تحقیق کا ذوق، تخلیق کا حسن اور سوچ کی گہرائی سب قصۂ پارینہ بن جائے گا۔ ہم ایک ایسی نسل کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو معلومات سے تو لیس ہوگی، لیکن حکمت اور دانش سے بالکل تہی دامن ہوگی۔
اس سے بھی زیادہ سنگین اور حساس معاملہ مذہبی اور اسلامی روایات پر اس ٹیکنالوجی کے اثرات کا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت کے یہ تمام ماڈلز بنیادی طور پر مغرب کے تیار کردہ ہیں، جن کی تربیت اور پروگرامنگ مخصوص مغربی نقطۂ نظر، ثقافتی پس منظر اور نظریات کے تحت کی گئی ہے۔ جب ہم اپنے نازک مذہبی مسائل، فقہی باریکیوں اور اسلامی تاریخ و تشریحات کے لیے ان وسائل پر انحصار کرتے ہیں، تو ایک بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ نظام بہ ظاہر غیر جانب دار معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کے پسِ پردہ کام کرنے والے ’’الگورتھم‘‘ اسی فکر کے تابع ہوتے ہیں، جس نے انھیں جنم دیا ہے۔ اس بات کا پورا احتمال موجود ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اَن جانے اور انتہائی لطیف طریقے سے اسلامی شعائر، احکامات اور حساس عقائد کی ایسی تشریح پیش کرے، جو مغرب کے عالمی ایجنڈے اور ان کے مخصوص فکری نظام کے مطابق ہو۔ اس طرح، بغیر کسی شور و غوغا کے، مسلمانوں کے روایتی سماجی اور مذہبی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں اور شکوک و شبہات پیدا کیے جاسکتے ہیں، جو ہماری بنیادی اقدار کو کم زور کر دیں۔
اس فکری اور مذہبی یلغار کا تیسرا اور سب سے خوف ناک پہلو انسانی کردار کا تدریجی خاتمہ ہے۔ اگر زندگی کے ہر شعبے میں صرف مشینوں کے فیصلوں کو ہی حتمی مان لیا جائے، تو معاشرے سے زندہ انسانوں کا اثر اور ان کی اہمیت ختم ہو کر رہ جائے گی۔
مثال کے طور پر، تعلیم کا شعبہ صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک استاد کے کردار، اس کی گفت گو، اس کے اخلاق اور اس کی تربیت سے عبارت ہے۔ ایک استاد جب شاگرد کے سامنے بیٹھتا ہے، تو وہ صرف کتابی باتیں نہیں سکھاتا، بل کہ اپنی شخصیت کے اثر سے اس کی روح کو جلا بخشتا ہے اور اس کی اخلاقی کایا پلٹتا ہے۔ اگر استاد کی جگہ کوئی ڈیجیٹل بوٹ لے لے، تو معلومات تو مل جائیں گی، لیکن وہ ارفع انسانی کردار اور تربیت کبھی حاصل نہیں ہوسکے گی، جو ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
یہی حال زندگی کے دیگر شعبوں کا بھی ہے، جہاں انسانی لمس، ہم دردی، اور ضمیر کا فیصلہ ہی اصل معیار ہوتا ہے اور جسے کوئی مشین کبھی جذب نہیں کرسکتی۔
زیرِ نظر تحریر کا لبِ لباب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت ہوسکتا ہے، لیکن اسے اپنے دل و دماغ پر حاکم بنالینا ایک فکری خود کُشی کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت ایک خادم تو ہوسکتی ہے، مخدوم کبھی نہیں۔ اگر ہم نے اپنے تخلیقی ٹیلنٹ، اپنی مذہبی خود مختاری اور اپنے معاشرے میں استاد جیسے عظیم انسانی کرداروں کی حفاظت نہ کی، تو ہم مشینوں کے اس دور میں خود بھی محض ایک بے جان مشین بن کر رہ جائیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس سیلاب کے سامنے ہوش مندی اور دور اندیشی کا بند باندھا جائے، تاکہ ہماری تہذیب اور پہچان دونوں محفوظ رہ سکیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










