پاک ایران گیس پائپ لائن اور سستے تیل کی خریداری کا خواب طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کی بھیٹ چڑھتا رہا ہے۔ اگرچہ موجودہ معاہدے کے تحت امریکہ نے ایران پر سے بعض سخت پابندیاں عارضی طور پر اٹھانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن پاکستان کے لیے ایران سے سستا تیل خریدنا اب بھی اتنا آسان نہیں ہوگا۔ واشنگٹن کی جانب سے واشگاف الفاظ میں یہ اشارے موجود ہیں کہ ایران پر سے پابندیوں کا خاتمہ مشروط ہے احالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کے اُفق پر جنگ اور امن کے حوالے سے جو ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، انھوں نے بین الاقوامی سیاست کا رُخ موڑ دیا ہے۔ فروری میں پاک ایران سرحدی تنازع اور اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بہ راہِ راست عسکری تصادم نے پورے خطے کو ایک ہول ناک بحران کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا۔ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگ کے بادل گہرے ترین ہوچکے تھے، تب پاکستان نے اپنی روایتی اور عسکری قیادت کے ذریعے وہ تاریخی کردار ادا کیا، جس کی توقع دنیا کے بڑے بڑے چودھری بھی نہیں کر رہے تھے۔ اسلام آباد مذاکرات اور جون کے وسط میں طے پانے والا’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ (Islamabad Memorandum of Understanding) پاکستان کی اعلا سفارت کاری کا ایک ایسا درخشاں باب ہے، جس کی گونج واشنگٹن سے لے کر تہران تک سنائی دے رہی ہے۔
پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں نہ صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولا گیا، بل کہ امریکہ اور ایران کو ساٹھ دن کی جنگ بندی پر آمادہ کرکے ایک بڑے عالمی معاشی بحران کو بھی ٹال دیا گیا۔ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں پاکستان کی اس غیر جانب دارانہ اور مدبرانہ سفارت کاری کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی جارحانہ طبیعت کے لیے جانے جاتے ہیں، پاکستان کی اس کاوش کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں… لیکن اب، جب کہ جنگ کا غبار چھٹ رہا ہے، ایک طویل عرصے سے معاشی بحران کی دلدل میں پھنسے ہوئے عام پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال سر اٹھا رہا ہے کہ ’’اس سب کا پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟‘‘ کیا یہ تعریفیں صرف زبانی جمع خرچ ہیں یا اس سے ہماری معیشت کو بھی کوئی حقیقی ریلیف ملے گا؟
عالمی سیاست کا یہ ایک مسلمہ اُصول ہے کہ سفارت کاری میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا، صرف اپنے مفادات مقدم ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک طرف پاکستان کی کام یاب سفارت کاری کو سراہ رہے ہیں، تو دوسری طرف امریکی تجارتی پالیسیوں کا اونٹ کسی اور کروٹ بیٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ بھارت پر سے ٹیرف ہٹا دیا گیا ہے اور پاکستان پر برقرار ہے، حال آں کہ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی (سیکشن 301) کے تحت بھارت پر بھی ساڑھے بارہ فی صد اور پاکستان پر دس فی صد کے قریب اضافی ٹیرف کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ اس معاشی جکڑ بندی کے ماحول میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے ہمسائے ایران سے سستا تیل خرید پائے گا؟
اور حتمی معاہدے تک پاکستان کے لیے تہران کے ساتھ بڑے پیمانے پر پٹرولیم تجارت کا آغاز امریکی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا، جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی پروگرام اور دیگر تنازعات پر کوئی مستقل تصفیہ نہیں ہو جاتا، عام پاکستانی آدمی کے لیے سستے ایرانی تیل کا فائدہ محض ایک سراب ہی رہے گا۔
تو پھر پاکستان اس تاریخی موقع کو اپنے لیے کیسے ’’کیش‘‘ کرے؟ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام پھیلانے والا ملک نہیں، بل کہ امن کا اصل ضامن ہے۔ اب وقت ہے کہ اس سفارتی کام یابی کو ’’اکنامک ڈپلومیسی‘‘ یا معاشی سفارت کاری میں بدلا جائے۔ پاکستان کو صرف زبانی تعریفوں پر قناعت کرنے کے بہ جائے امریکہ سے تجارتی مراعات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ہمیں واشنگٹن کے سامنے یہ مقدمہ مضبوطی سے رکھنا چاہیے کہ اگر پاکستان عالمی امن کے لیے اتنا ہی ناگزیر ہے، تو ہماری مصنوعات بالخصوص ٹیکسٹائل پر عائد ٹیرف میں کمی کی جائے، تاکہ پاکستانی برآمدات کو امریکی مارکیٹوں تک آسان رسائی مل سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ، بیجنگ اور خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ’’سی پیک‘‘ (CPEC) کے اگلے فیز اور علاقائی رابطوں کو مضبوط کیا جائے، تاکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے ملکی خزانے کو مستقل فائدہ پہنچایا جاسکے۔ پاکستان کو اس وقت تک ایک مستحکم معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا جب تک ہماری سفارتی کام یابیوں کے ثمرات عام آدمی کی جیب تک نہ پہنچیں۔ اگر ہم اب بھی اس سنہری موقع کو طویل مدتی معاشی پالیسیوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے اچھے پڑوسی کے طور پر یاد رکھے گی جس نے دوسروں کے گھر کی آگ تو بجھا دی، لیکن اپنے گھر کا چولھا جلانے کے لیے کچھ نہ بچاسکا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










