کسی ملک اور فرد کے درمیان سب سے بڑا رشتہ ملکی آئین ہوتا ہے، جس میں حقوق و فرائض کی ضمانت متعین کی جاتی ہے۔ آئینِ پاکستان کے تحت ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ہم سب کی جان و مال کی حفاظت کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور روزگار مہیا کرے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے اب تک حقیقی معنوں میں ریاست مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
اس وقت میرا موضوع سوات کے نوجوانوں کے روزگار کے مسئلے اور اُن کے حل کے بارے میں تجاویز پر بحث کرنا ہے۔ کسی ملک یا علاقے کی ترقی میں دو عوامل نہایت ضروری ہوتے ہیں: ایک قدرتی وسائل اور دوسرا انسانی وسائل۔
اللہ پاک نے سوات کو اس سلسلے میں بڑی فیاضی سے نوازا ہے۔ ہمارے نوجوان ان وسائل کے باوجود بے روزگاری اور دیگر بڑے مسائل سے دوچار ہیں۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ ہم اس کو کیسے حل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں؟
مسائل دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک، وہ جو ہم اپنی اجتماعی کوششوں سے حل کرسکتے ہیں اور دوسری قسم، وہ مسائل ہیں، جو حکومت یا ریاست کے بغیر حل نہیں ہوسکتے۔ جیسے بازاروں میں غلط پارکنگ نہ کرنا، صفائی خود کرنا، منشیات اور دیگر غلط کاموں اور غلط رسم و رواج سے بچنا، یا ماحولیات کو درست رکھنے کے لیے انفرادی یا اجتماعی کوششوں سے بہت سارے مسائل خود حل کیے جاسکتے ہیں، جب کہ بہت سارے مسائل حکومتِ وقت کی قانون سازی اور سرمائے کے بغیر حل کرنا ممکن نہیں۔
اب آتے ہیں کہ حکومت ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے لیے کون سے اقدامات کرے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں؟ تاکہ ہماری معیشت کا پہیا چل سکے اور نوجوان اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کو امن، آشتی اور خوش حالی کا گہوارہ بناسکیں۔
سوات کے تقریباً 50 فی صد لوگوں کی معیشت کا دار و مدار زراعت پر ہے۔ ہم اگر صرف اپنی سبزیوں اور فروٹ باغات کو لیں، تو سال کے بارہ مہینے یہ ہماری ضرورت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت میں آڑھتیوں سے لے کر ریڑھی اور ہتھ گاڑی والوں کا چولھا جلاتے ہیں۔ حکومت اگر ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے لیے زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے، تو ہمارے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔
حکومت ’’فوڈ پراسیسنگ زون‘‘ بنائے اور مراعات دے، تو یہاں بہت سارے کارخانے بنائے جاسکتے ہیں، جو ہمارے پھلوں کو پراسیس کرکے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک فروخت کرکے معیشت کا پہیا چلا سکتے ہیں جس سے ہمارے نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔
حکومت ہمارے نوجوانوں کو گرانٹس اور آسان شرائط پر قرضے دے کر خودکفیل بناسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جدید سائنسی بنیادوں پر زراعت کی دیگر فصلیں اُگائی جاسکتی ہیں، جیسے زعفران اور زیتون وغیرہ، جن کی کاشت سے سوات کی پوری معیشت کو سہارا دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی اور روبوٹس سے بھی مدد لی جاتی ہے۔
ہم دوستوں نے سالوں پہلے تجویز دی تھی کہ مدین سے ایک بہت بڑی پانی کی پائپ لائن لے کر زیریں سوات تک پہاڑوں کے بیچ بچھائی جائے۔ اس سے ایک طرف ایک بہت بڑی آبادی کو بغیر کسی بجلی کے خرچ صاف پانی مل جائے گا، دوسری طرف پہاڑوں کے ایک وسیع بنجر علاقے میں زیتون اور دیگر اچھی پیداواری درخت لگائے جاسکیں گے، جس سے بہت کم عرصے میں اربوں روپے کی پیداوار شروع ہوگی۔ اس کے ساتھ ماحولیات پر بھی بہت مُثبت اثر پڑے گا۔
اس پورے منصوبے پر اگر نوجوانوں سے کام لیا جائے، تو ہزاروں لوگوں کو بہتر روزگار مل جائے گا۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جو نہ ہوسکے۔ اگر حکومت کی ترجیحات لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا ہو، تو یہاں پر نوجوانوں کے اوپر سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔ اگر ہم ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے غیر ضروری منصوبے بناکر قرضے حاصل کریں، تو اس سے قومی خزانے اور عوام پر قرضے کا مزید بوجھ بڑھ جائے گا، لیکن اگر ہم اپنے نوجوانوں کی مناسب تربیت کا اہتمام کریں اور انھیں روزگار اور کاروبار کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے گرانٹ اور قرض لیں، تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس سے نہ صرف ملک کا نوجوان طبقہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے گا، بل کہ وہ ملک کی مجموعی معیشت میں ایک نہایت مثبت کردار ادا کرے گا۔
دوسری طرف اگر ہم دریائے سوات کو دیکھیں، تو یہ ہمارے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم ہر سال لاکھوں ٹن مچھلی پنجاب اور سندھ سے کھانے کے لیے منگواتے ہیں۔ حکومت تھوڑی سی توجہ دے، تو اس دریا سے ہمارے نوجوانوں کو بہتر روزگار مل سکتا ہے۔ مدین سے لے کر لنڈاکی تک دریا کے دونوں کناروں پر بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو گرانٹس یا آسان شرائط پر قرضے اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے، تو اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔
اس کے علاوہ دریا کے کنارے بطخ فارمنگ کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ آج کی جدید دنیا میں فارمی مرغی کے گوشت اور انڈوں کے مقابلے میں بطخ کے گوشت اور انڈوں کو زیادہ پسند کیا جا رہا ہے، جو صحت کے لیے بھی بہتر سمجھے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر حکومت نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرے، تو سوات کی قسمت بدل سکتی ہے۔اس طرح دوسرے آبی جانوروں کو آسانی سے کمرشل بنیادوں پر شروع کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈیری کے شعبے میں بھی بہت بڑی گنجایش موجود ہے۔ اگر حکومت دیگر قابلِ عمل منصوبوں پر کام کرے، جیسے انگورہ خرگوش، جو ترکی کی ایک نسل ہے، سوات اس کی افزایش کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اگر حکومت اس پر توجہ دے اور نوجوانوں کو تربیت کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی فراہم کرے، تو سوات کی معیشت میں بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ پوری دنیا میں انگورہ اون اور گوشت کی بہت بڑی طلب موجود ہے۔ انگورہ پراجیکٹ کچھ عرصہ سے ہزارہ ڈویژن میں کام یابی سے جاری ہے۔
زراعت کے بعد سوات کی معیشت کا دار و مدار بیرونِ ملک ملازمتوں پر ہے، جہاں کام کرنے والے لوگ سالانہ اربوں روپے کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جو پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ اس سلسلے میں اگر NAVTTC وزیراعظم یوتھ سکل ڈیولپنٹ پروگرام سے ہمارے نوجوانوں کو 15, 20 ہزار کا خصوصی کوٹہ دیا جائے، تو بین الاقوامی مارکیٹ میں سکل ورکرز کے ڈیمانڈ کے مطابق ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس وزیر اعظم سکل ڈیولپمنٹ پروگرام میں ایشین ڈیولپمنٹ بنک اور دیگر بین القوامی مالیاتی ادارے فنڈنگ کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں ابھی تک سوات کے نوجوانوں کو کچھ ملا نہیں۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے بات کرنی چاہیے۔ مزید یہ کہ ہماری صوبائی حکومت کو اس معاملے میں بھی مرکز سے بات کرنی چاہیے، تاکہ وہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن میں سوات کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے کوٹہ مختص کرے۔ اس سے ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان عرب ممالک کے ساتھ ساتھ جاپان، کوریا اور یورپی ممالک میں بھی روزگار حاصل کرسکیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک کے اسکالرشپس میں بھی ہمارے نوجوانوں کے لیے خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے۔ سوات طالبانائزیشن، سیلابوں اور دیگر آفات کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوچکا ہے۔ سوات کے عوام نے اس دوران میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے یہ ہمارے نوجوانوں کا حق بنتا ہے کہ ریاست ہماری قربانیوں اور نقصانات کی اِزالہ کرے۔
آج کے جدید دور میں دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ لوگ گھروں میں بیٹھ کر دنیا کے کونے کونے میں کام کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ملک کے لیے بھی زرِ مبادلہ کماتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی طرز پر اے آئی ٹیکنالوجی کے سلسلے میں اقدامات کیے جائیں، جہاں لاکھوں لوگ آن لائن کام کر رہے ہیں اور اُن کی تعداد روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے، تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے نوجوان بھی اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
ماضی میں ہمارے ایک معزز سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر صاحب، جن کا تعلق سوات سے تھا، سے ملاقات کے دوران میں ہم نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر آپ صرف آپٹیکل فائبر سوات تک پہنچا دیں، تو ہمارے بہت باصلاحیت نوجوانوں کی زندگی بدل جائے گی۔ شاید کم لوگوں کو معلوم ہو کہ آئی ٹی کے شعبے میں سوات کے نوجوان، پاکستان میں کراچی اور لاہور کے بعد نمایاں مقام رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہاں سہولیات کی کمی کی وجہ سے اکثر نوجوان اپنے گھروں سے دور دوسرے شہروں یا بیرونِ ملک کام کرنے پر مجبور ہیں۔
حکومتِ وقت اگر سوات کی تمام تحصیلوں میں آئی ٹی پارکس قائم کرے اور نوجوانوں کو آپٹیکل فائبر انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ دفاتر بھی مفت فراہم کرے، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے نوجوان خود اس شعبے میں اپنے لیے روزگار پیدا نہ کرسکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو جدید دور کی معلومات بھی حاصل ہوں اور ساتھ میں یہ احساس بھی ہو کہ نوجوانوں کو صرف نعروں سے نہیں، بل کہ عملی طور پر سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
سوات کے حوالے سے ایک بڑی غلط فہمی یہ پیدا کی گئی ہے کہ سوات کی معیشت کا دار و مدار صرف سیاحت پر ہے، جو سراسر غلط ہے۔ سب سے پہلے زراعت آتی ہے، اُس کے بعد بیرونِ ملک کام کرنے والے سواتی افراد کا کردار ہے، پھر چھوٹے بڑے کاروبار اور سرکاری ملازمتیں آتی ہیں۔ سیاحت کا نمبر کہیں جاکر پانچویں یا چھٹی پوزیشن پر آتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ بلاوجہ ہماری توجہ اور وسائل سیاحت کی طرف موڑے جاتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سوات کے نسبتاً کم لوگوں کا روزگار بہ راہِ راست سیاحت سے وابستہ ہے۔ سوات کے سیاحت سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد باہر کے لوگوں کی ہے، جو سوات میں کاروبار کی آڑ میں دوسرے غیرقانونی کاموں میں ملوث ہیں، جیسے ٹیکس چوری اور کالے دھند کو سفید کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔ سوات میں ٹیکس کا استثنا سوات کی مقامی لوگوں کے لیے ہے نہ کہ پورے پاکستان کے لیے۔
میرے کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سب لوگ غیرقانونی کاروبار میں ملوث ہیں اور نہ ہم سوات میں سیاحت کے خلاف ہیں، لیکن جب سوات کی اکثریتی آبادی کی زندگی کا دارومدار زراعت اور دیگر پیداواری شعبوں پر ہے، تو حکومت کو ترقیاتی منصوبوں میں بھی انھی شعبوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیاحت کے حوالے سے بھی نوجوانوں کے روزگار کے لیے حکومت مختلف منصوبے شروع کرسکتی ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
میری تجویز ہوگی کہ اگر سوات سے باہر کے لوگ یہاں پر کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں، تو ان کو پابند کیا جائے کہ ان کے ملازموں میں 60 فی صد کا تعلق سوات کے نوجوانوں سے ہونا چاہیے۔ اس سے مقامی لوگوں میں بے چینی بھی پیدا نہیں ہوگی اور یہاں پہ بے روزگاری میں بھی کمی واقع ہوسکے گی۔
سوات کے نوجوانوں کے روزگار اور بہتر مستقبل کے لیے بے شمار دیگر منصوبے بھی ہوسکتے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے برسرِ اقتدار لوگوں میں نوجوانوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے کی سمجھ بوجھ اور صلاحیت موجود ہو۔ کیوں کہ حالات تیزی سے سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے، تو بے روزگاری کا بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ نوجوانوں کی بے روزگاری کا بے قابو جن ہمیں کھا جائے، جنگی بنیادوں پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان سوات کی خوش حال اور محفوظ زندگی کی ضمانت ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










