ڈیجیٹل دور کا المیہ اور معمارِ قوم

Blogger Noor Muhammad Kanju

تاریکیوں کے اس طویل سفر میں، جہاں انسان بھٹک کر اپنی شناخت کھو دیتا ہے، وہاں صرف ایک ہی ہستی ہوتی ہے، جو چراغِ راہ بن کر سامنے آتی ہے اور وہ استاد ہے۔ زمانہ بدلتا ہے، تہذیبیں کروٹ لیتی ہیں، حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں، لیکن انسانی معاشرے کی تعمیر کا جو فریضہ روزِ اول سے اس عظیم ہستی کے سپرد کیا گیا تھا، وہ آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں بڑی حد تک اس رویے سے جڑی ہوتی ہیں، جو وہ اپنے معماروں کے ساتھ رویا رکھتی ہیں… مگر افسوس کہ موجودہ دور، جسے ہم ڈیجیٹل اور مادی ترقی کا دور کہتے ہیں، اپنے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز لے کر آیا ہے، جنھوں نے استاد کے روایتی مقام اور اس کے تقدس کو گرد آلود کردیا ہے۔
آج کی دنیا اسکرینوں کی دنیا بن چکی ہے۔ انسان نے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر علم کا پورا سمندر سمیٹ لیا ہے اور مصنوعی ذہانت کے اس سیلابِ بلا خیز میں ہر سوال کا جواب سیکنڈوں میں اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ اس ظاہری ترقی نے نئی نسل کو ایک وہم میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب اُنھیں شاید کسی مرشد، کسی راہ نما یا کسی استاد کی ضرورت نہیں رہی۔
یہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہماری اخلاقی اور سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی معلومات تو فراہم کرسکتی ہے، لیکن معلومات کبھی علم نہیں ہوتیں اور نہ ان معلومات سے دانش مندی ہی جنم لیتی ہے۔ علم ایک ایسی شمع ہے، جو ایک دل سے دوسرے دل میں منتقل ہوتی ہے۔ استاد صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتا، بل کہ وہ ایک مصلح، ایک باپ، ایک راہ نما اور سب سے بڑھ کر روح کا تراشنے والا ہوتا ہے۔ اسکرین پر چمکتے ہوئے الفاظ کبھی کسی بچے کے آنسو نہیں پونچھ سکتے، وہ کبھی کسی بھٹکے ہوئے کو اس کی منزل کا پتا نہیں دے سکتے اور نہ ان میں وہ محبت اور تپش ہی ہوسکتی ہے، جو ایک استاد کی نگاہِ شفق میں پنہاں ہوتی ہے۔
اس ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس نے انسانی رشتوں کے درمیان ایک سرد مہری پیدا کر دی ہے۔ جب ایک شاگرد اپنے استاد کے سامنے بیٹھتا ہے، تو وہ صرف کتابی سبق نہیں سیکھتا، بل کہ وہ استاد کے بیٹھنے کے انداز، اس کے بولنے کے سلیقے، اس کے صبر، اس کی بردباری اور اس کے اخلاق سے تربیت پاتا ہے۔ یہ وہ خاموش تربیت ہے، جو کسی بھی کمپیوٹر پروگرام یا موبائل ایپ کے ذریعے ممکن ہی نہیں۔ کتابیں تو بازار میں ہمیشہ سے دست یاب تھیں اور آج وہ انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں، لیکن تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی، جہاں کسی نے صرف کتابوں کا مطالعہ کرکے انسانیت کا کوئی بڑا مقام حاصل کیا ہو۔ انسان کو انسان بنانے کے لیے ہمیشہ ایک کامل انسان کی صحبت کی ضرورت ہوتی ہے… اور معاشرے میں یہ منصب صرف اور استاد کے پاس ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جو انتہائی دردناک ہے۔ ایک طرف تو ہم استاد سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ آنے والی نسلوں کا ضامن بنے، انھیں تہذیب سکھائے اور ان کے اخلاق کو بلندیوں پر لے جائے، لیکن دوسری طرف ہم نے اسی معمارِ قوم کو معاشی اور سماجی طور پر کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے؟ یہ سوال ہر حساس دل کو تڑپاتا ہے۔
موجودہ دور کی مادہ پرستی نے عزت کا معیار علم اور کردار کے بہ جائے دولت اور منصب کو بنا دیا ہے۔ جس معاشرے میں ایک استاد اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے پریشان ہو، جہاں اسے اپنے بچوں کے تن ڈھانپنے اور پیٹ بھرنے کے لیے روزانہ ایک نئی جنگ لڑنی پڑے، وہاں ہم اس سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ پورے سکونِ قلب کے ساتھ قوم کی تعمیر کرسکے گا؟
استاد کا مرتبہ تو وہ بلند مقام ہے، جہاں سلاطینِ وقت بھی جھک جایا کرتے تھے، مگر آج کا استاد دفاتر کے چکر کاٹنے اور اپنی جائز مراعات کے لیے منتیں کرنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ ہم بہ طورِ قوم اپنے محسنوں کی قدر کرنا بھول چکے ہیں۔
استاد کی عزتِ نفس صرف اس کا ذاتی مسئلہ نہیں، بل کہ یہ اس قوم کی بقا کا مسئلہ ہے۔ جب ایک استاد معاشرے میں خود کو کم تر اور بے بس محسوس کرنے لگتا ہے، تو اس کے اندر کا وہ جوش اور جذبہ سرد پڑ جاتا ہے، جو پتھر کو موم بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے اندر کا ماحول اب ایک مقدس درس گاہ کے بہ جائے ایک سرد اور بے جان نظام کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں صرف کاغذات کا پیٹ بھرا جاتا ہے اور روح کی پیاس بجھانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ اساتذہ پر انتظامی کاموں کا بوجھ اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ انھیں اس اصل مقصد کے لیے وقت ہی نہیں ملتا، جس کے لیے وہ اس مسند پر فائز ہوئے تھے۔
ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ہم نے اپنے اساتذہ کو ان کا کھویا ہوا مقام واپس نہ دلایا، اگر ہم نے ان کی معاشی اور سماجی مشکلات کا ادراک نہ کیا، تو ہماری نئی نسل ٹیکنالوجی کی ماہر تو بن جائے گی، مگر وہ انسان نہیں بن پائے گی۔ ہماری نئی نسل مشینوں کی طرح سوچے گی اور مشینوں کی طرح جیے گی، جہاں جذبات کی کوئی جگہ ہوگی اور نہ اخلاق کی کوئی اہمیت۔
استاد کے بدلتے ہوئے مقام کو دوبارہ اس کی اصل بلندی پر لانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، حکومت اور معاشرے کے ہر فرد کو مل کر اس سوچ کو بدلنا ہوگا کہ استاد صرف ایک تن خواہ دار ملازم ہے، بل کہ اسے دل کی گہرائیوں سے وہ احترام دینا ہوگا، جس کا وہ حق دار ہے۔
وہ کسی دانا کا قول ہے کہ اگر تم کسی قوم کو تباہ کرنا چاہتے ہو، تو اس کے نظامِ تعلیم کو نشانہ بناؤ اور اس کے استاد کو بے وقعت کر دو۔
ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم نادانی میں مذکورہ راستے پر تو نہیں چل پڑے۔ ڈیجیٹل دور کی تمام تر سہولیات اپنی جگہ، لیکن استاد کی عظمت، اس کا رعب اور اس کی شفقت کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔ اگر آج بھی ہم سنبھل جائیں اور اپنے اساتذہ کو وہ عزت اور وقار لوٹا دیں، جو ان کا حق ہے، تو یہ بنجر زمین دوبارہ زرخیز ہوسکتی ہے اور اس سے ایسے لعل و گہر پیدا ہوسکتے ہیں، جو دنیا بھر میں اس قوم کا نام روشن کریں گے۔ قلم کی حرمت اور علم کی بقا اسی میں ہے کہ استاد کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے