آزادیِ رائے کسی بھی مہذب معاشرے اور جمہوری ریاست کا وہ بنیادی حسن ہے، جس کے بغیر عوامی حاکمیت کا تصور ادھورا رہتا ہے۔ ایک حقیقی جمہوری ریاست اپنے تمام شہریوں کو بلا تفریق رنگ، نسل، زبان اور خطہ برابر کے حقوق فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے… لیکن جب بدقسمتی سے داخلی عدم توازن یا بین الاقوامی سیاسی شطرنج کے مہروں کی وجہ سے ریاست اپنے اس اولین فرض سے غافل ہو جائے، اور کسی خاص خطے یا قوم کو دیوار سے لگانے کی پالیسی اختیار کی جائے، تو وہاں احساسِ محرومی کا جنم لینا ایک فطری امر ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں اپنے آئینی و بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا نہ صرف ہر شہری کا حق بن جاتا ہے، بل کہ یہ ایک قومی اور اخلاقی فریضہ کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی سرزمیں پچھلی چار دہائیوں سے جس الم ناک صورتِ حال سے دوچار ہے، وہ عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور مفادات کی جنگ کا ایک درد ناک باب ہے۔ یہ خطہ طویل عرصے تک روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا ایندھن بنا رہا… اور اب بدقسمتی سے یہ چین اور امریکہ کی ابھرتی ہوئی ’’پراکسی وار‘‘ اور سٹریٹجک کھینچا تانی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ان بین الاقوامی اور قومی کھلاڑیوں کی مفاد پرستانہ جنگ نے یہاں کے امن و امان کو اس طرح تہہ و بالا کیا ہے کہ اس کے بہ راہِ راست اور ہول ناک اثرات یہاں کے معصوم باشندوں پر پڑے۔ امن کی تلاش میں بھٹکتی ہوئی اس دھرتی کو دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک مستقل میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا گیا، جس نے پختونخوا کے سماجی، معاشی اور تعلیمی ڈھانچے کو بری طرح مفلوج کرکے رکھ دیا۔
اس المیے کا ایک اور تاریک پہلو یہ ہے کہ قدرت نے اس خطے کو بے پناہ اور بیش بہا خزانوں سے نوازا ہے۔ یہاں قیمتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، پانی کے وافر ذرائع ہیں اور سرسبز و شاداب جنگلات کی دولت بکھری پڑی ہے، لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ ان تمام قدرتی وسائل کے باوجود یہاں کے اصل وارث اور باشندے کس مہ پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انھیں نہ تو ان وسائل سے کوئی خاطر خواہ فائدہ پہنچایا جاتا ہے اور نہ انھیں اپنے حقِ ملکیت کا اظہار کرنے کی اجازت ہی دی جاتی ہے۔ جب کسی خطے کے وسائل کو مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بہ جائے کہیں اور منتقل کیا جائے، تو وہاں کے عوام میں ریاست کے خلاف بے اعتمادی اور شدید احساسِ محرومی کا پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہی وہ ناانصافی ہے، جو پشتون بیلٹ میں بے چینی کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے۔
ایسے دگرگوں اور خوف کے سائے میں گھرے حالات میں، جب مصلحت پسندی بڑے بڑے سورماؤں کی زبانوں پر قفل لگا دیتی ہے، کچھ ایسی مخلص اور نڈر شخصیات جنم لیتی ہیں، جو اپنے پسے ہوئے عوام کے لیے ایک توانا اور موثر آواز بن کر ابھرتی ہیں۔ انھی جرات مند اور حق گو راہ نماؤں میں ایک نمایاں، معتبر اور دلیر نام ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مولانا خان زیب (شہید) کا تھا۔
مولانا خان زیب (شہید) نے روایتی سیاست سے ہٹ کر ہمیشہ دلیل، منطق اور آئین کے دائرے میں رہ کر بات کی۔ انھوں نے جذباتیت کے بہ جائے ٹھوس حقائق کے ساتھ پختونخوا کے وسائل، معدنیات اور مقامی عوام کے حقوق پر کھل کر آواز اٹھائی۔ انھوں نے مظلوم طبقے کو یہ شعور دیا کہ اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور فکری جد و جہد کس طرح کی جاتی ہے اور یہی شعور بیدار کرنا وقت کے جابروں کو ہمیشہ سب سے زیادہ کھٹکتا ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حق کی آواز کو دبانے کے لیے ہمیشہ ظلم و تشدد کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔ مولانا شہید کا قصور بھی صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کے ترجمان بن چکے تھے اور عوام میں اُن کے حقوق کی بازیافت کا شعور اجاگر کر رہے تھے۔ اسی حق گوئی کی پاداش میں، پچھلے سال دس جولائی کو تاریکی کے پجاریوں اور نامعلوم افراد نے دن دہاڑے اس عظیم علمی، دینی اور سیاسی شخصیت کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ یہ دراصل ایک فرد کا قتل نہیں تھا، بل کہ یہ دلیل، امن اور پختونخوا کی ایک مخلص آواز کو شہید کرنے کی ناپاک کوشش تھی۔
آج قوم مولانا شہید کی پہلی برسی منا رہی ہے۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن انھوں نے پختونخوا کے عوام میں حقوق کی پامالی کے خلاف جو فکری شمع روشن کی تھی، اُسے بجھایا نہیں جاسکتا۔ اُن کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ سچی آوازیں عارضی طور پر تو دبائی جاسکتی ہیں، لیکن وہ تاریخ کے اُفق پر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدر حلقے اب اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ طاقت کے زور پر پختونخوا کے عوام کی آواز کو دبانے اور اُن کے وسائل پر غاصبانہ قبضے کی پالیسی نے ملک کو صرف نقصان پہنچایا ہے۔ جب تک اس خطے کے عوام کو اُن کے وسائل پر اختیار اور حقیقی جمہوری آزادی نہیں دی جائے گی، تب تک پائیدار امن اور خوش حالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ مولانا شہید کو سچی عقیدت کا خراج تب ہی ممکن ہے، جب ان کے شروع کردہ پُرامن اور مدلل مشن کو آگے بڑھایا جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










