کبھی خواب نہ دیکھنا (بائیس ویں قسط)

عین وقت پر سفید جیپ اپنے بونٹ پر ریاستی پرچم لہراتی ہوئی گراؤنڈ میں داخل ہوئی۔ مَیں نے ان کے لیے دروازہ کھولا۔ والی صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا، پھر حاکم اور آفرین خان سے مصافحہ کیا۔ دونوں نے گارڈ آف آنر کے بعد والی صاحب سے جرگے سے ملاقات کی درخواست کی۔آکسٹرا نے […]
ڈاکٹر لوکا اور جانو جرمن

1964ء کی بات ہے، ہم مختلف سائٹس کا انسپکشن کرتے کرتے میاندم پہنچ گئے۔ وہاں کے ریاستی گیسٹ ہاؤسز میں جو بڑا اور وی آئی پی ریسٹ ہاؤس ہے، وہاں پر ہم نے پڑاو ڈالا۔ ایک درخت کی شاخ سے ذبح شدہ دُنبہ لٹکا کر کچھ ساتھی اس کا کوٹ اُتارنے لگے۔ کچھ مسالہ جات […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیس ویں قسط)

بعد میں ہونے والی پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا کہ مجھے ریاستی دارالحکومت سے چکیسر جیسے دور دراز علاقے میں کیوں بھیجا گیا تھا؟ اُسی وقت ایک اور انتہائی قابل ڈرافٹس مین کو بھی الپورئی میں تعینات کیا گیا۔ اُس کا نام عبدالرشید تھا۔ اُسے اگلے احکامات تک وہیں رہنے کی ہدایت دی گئی۔زیرِ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (بیس ویں قسط)

لیکن مَیں نے اس کی بالکل پروا نہیں کی۔ مجھے والی صاحب کے الفاظ یاد تھے۔ انھوں نے یقین دہانی کی تھی کہ اگر مجھے کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو میں ذاتی طور پر ان کے پاس جا سکتا ہوں۔ پہلے چار پانچ مہینے جیسے ایک دن کی طرح گزر گئے۔ ہم نے ریاست کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنیس ویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھارھویں قسط)
ریاستی دور کا ایک خواجہ سرا
کبھی خواب نہ دیکھنا (سترھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (سولھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (پندرھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (چودھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (بارھویں قسط)
ریڈیو سے جڑی ہماری یادیں

کبھی کبھی بڑھتی ہوئی ایجادات کا طوفان انسان کو ماضی کی طرف حسرت سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے ۔موبائل نٹ ورک نے تو انسان کو بالکل جکڑ لیا ہے ۔ مجھے تو یاد نہیں رہا کہ آخری بار مَیں نے کب ٹی وی چلاکر دیکھا ہے ۔ خبریں بھی یوٹیوب پر دیکھتے ، پڑھتے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (گیارھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (دسویں قسط)

مَیں نے سوات کے حکم ران خاندان کے ناموں، اُن کی اصل اور بادشاہ صاحب کی جد و جہد اور کامیابیوں کے بارے میں جانا۔ مَیں نے اُن کی بے رحم اور بے خوف لڑائیوں اور مشکل حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ مَیں نے سوات پر عبدالغفور المعروف […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (نویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (آٹھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (ساتویں قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) جب کبھی مَیں اپنے والد کے دفتر جاتا (جس میں دو بڑی دفتری میزیں تھیں، ایک اُن کے باس کے لیے اور دوسری میرے والد […]
سٹیٹ فورسز کا مرکزی دفتر

ریاستِ سوات کا پورا سکرٹیریٹ جس میں حکم ران اور ولی عہد کے دفاتر بھی شامل تھے، اُنھی اونچی چناروں کے سائے میں تھا، جہاں آج کل کمشنر، آر پی اُو اور دیگر دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ریاست کا فوجی دفتر اسی بلڈنگ میں واقع تھا، جو ادغام کے بعد ابھی تک ڈسٹرکٹ کمپٹرولر […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوتھی قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) میرے والد نے اپنے بیٹے کو دوبارہ دیکھنے کی اُمید کبھی نہیں چھوڑی۔ جب ہم سردیوں کی لمبی راتوں میں آگ کے گرد بیٹھتے، تو […]