کبھی خواب نہ دیکھنا (دوسری قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) آئیں! 1944ء کی طرف واپس چلتے ہیں۔ یہ ریاستِ سوات کی تاریخ میں ایک انقلابی سال تھا۔ اس سال نے ’’وزیر برادران‘‘ کا زوال دیکھا […]
باچا صاحب کے ساتھ جڑی ایک یاد

حکومتِ خداداد یوسف زئی ریاستِ سوات و متعلقات کے بانی میاں گل عبدالودود معروف بہ باچا صاحب میانگل عبدالخالق کے بیٹے اور اخوند آف سوات عبدالغفور الملقب بہ سیدو بابا کے پوتے تھے۔ یہاں پر ہم سوات کی تاریخ نہیں دہراتے۔ صرف اُن کے بارے میں چند ایسے واقعات کا ذکر مقصود ہے، جو میری […]
عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج سے وابستہ یادیں

پچھلے ہفتے جہانزیب کالج کے کچھ طلبہ کے ساتھ ایک بہت ہی مفید نشست رہی۔ مَیں اُن پیارے بچوں کا از حد ممنون ہوں، جنھوں نے نہایت تحمل سے مجھے سنا اور میری ثقلِ سماعت سے درگزر کرتے رہے۔ گفت گو کے اختتام پر اُن کے چند مختصر سوالات پر بحث سمیٹتے ہوئے میری توجہ […]
کچھ والد بزرگوار محمد عظیم مرزا کے بارے میں

میرے مرحوم والد محمد عظیم مرزا اور میرے چچا شاہزاللہ اپنے باپ حبیب اللہ کے سائے سے بہت کم عمری میں محروم ہوگئے۔وہ اتنے کم عمر بچے تھے کہ اُن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے والد کیوں اور کہاں جان کی بازی ہار گئے؟ یہ بات اُن کو بہت بعد میں […]
ریاستِ سوات کے مالیاتی نظام کا مختصر سا جائزہ

ریاستِ سوات کے قیام کے ابتدائی سالوں میں مالیات کا کوئی مربوط نظام نہیں تھا۔ روزمرہ کے اخراجات بادشاہ صاحب کی ذاتی جائیداد کے علاوہ مینگورہ کے ایک متمول تاجر حاجی شمشی کے گراں قدر عطیے کے باعث ممکن ہوسکے تھے۔ بادشاہ صاحب سوات کے چند ممتاز صاحبِ ثروت لوگوں میں شامل تھے۔ اُن دنوں […]
کچھ پروفیسر اشرف الطاف کے بارے میں

آغاز ہی سے جہانزیب کالج کو بہترین اساتذہ کی خدمات حاصل رہی ہیں۔ کالج کے پہلے پرنسپل حافظ محمد عثمان مشہور ریاضی دان تھے۔ زیادہ تر اکیڈیمک سٹاف غیر مقامی افراد پر مشتمل تھا،مگر وہ بہت تن دہی اور جذباتی انداز سے اس نئے ادارے کو علم کا گہوارا بنانے کے لیے کوشاں تھا۔ وقت […]
چکیسر (شانگلہ) سے جڑی کچھ یادیں

آخر چکیسر میں کیا خاص بات ہے کہ 66 سال بعد بھی میں اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ 1958ء میں میٹرک کے نتائج کا انتظار تھا، تو مَیں اپنے ایک عزیز کے پاس چکیسر چلا گیا، جو وہاں پر سٹیٹ سول ڈسپنسری کے انچارج تھے۔ اُن کا نام سلطان محمد تھا۔ سیدو شریف […]
ریاستِ سوات کے 52 سالوں کا مختصر ترین تقابلی جائزہ

میری یہ سطور غور سے پڑھیں۔ میرا یہ ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ نے سوات کے اُن 52 سالوں کے بارے میں جو رائے قائم کی ہے، آپ اُسے ترک کردیں۔ وہ 52 سال جو 1917ء سے 1969ء تک کے عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں اور وہ دو باپ بیٹے، جنھوں نے اپنی دانش […]
’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ مارخوڑلے دَ پڑی نہ یریگی

’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ کی طرح کسی بھی آپریشن کی بات چلتی ہے، تو ہم سواتیوں کے دل اور روح کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں۔ جس ذلالت اور بے چارگی سے ہم لوگوں نے وہ مہاجرت کا وقت گزارا، اللہ کسی کافر کو بھی نہ دکھائے۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]
قوم کا پیسا مَیں معاف نہیں کرسکتا (والئی سوات)

یہ نہایت خوش آیند بات ہے کہ اس سال پانچ جون کو مرحوم والیِ سوات میاں گل جہان زیب کا یومِ ولادت شایان شان طریقے سے منانے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دراصل اُس طلسماتی شخصیت کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے کہ ریاست کے ادغام پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود […]
ریاستِ سوات کی سول تنظیم

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]
سوات کی تاریخ مسخ کی جا رہی ہے

مَیں کوئی محقق ہوں نہ مورخ…… مگر اتنا دعوا ضرور کرتا ہوں کہ مجھے غیر متنازع، مستند اور تسلیم شدہ مورخین سے استفادہ کی سعادت حاصل رہی ہے۔ اُن سے گھنٹوں پر محیط بامقصد گفت گو کا موقع ملا ہے۔ شکر ہے کہ سوات کے بارے میں اُن عظیم مورخین کی کاوشیں کتابی صورت میں […]
میانگل عدنان اورنگ زیب سے وابستہ یادیں

28 مئی 2022ء کی صبح مجھے محترم عمر حیات میاں نے اطلاع دی کہ شہزادہ عدنان اورنگ زیب جو عوام میں ’’عدنان باچا‘‘ کے نام سے مقبول تھے، اسلام آباد سے آرہے ہیں۔ وہ پانچ دس منٹ کے لیے مجھ سے ابوہا میں ملاقات کریں گے۔ مَیں نے معزز شخصیت کی آمد کے پیشِ نظر […]
’’قاضی حنیف‘‘ شخصیت جو بے قدری کا شکار ہوئی

یہ اصطلاح ہم 60ء کی دہائی سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان سے ’’برین ڈرین‘‘ تیزی سے جاری ہے۔ اس کا سبب صرف معاشی حالات کی ناسازگاری نہیں تھا، بلکہ یہاں کی بیوروکریسی کی فرعونیت، حسد اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے جانے کا نہ ختم ہونے والا کھیل اس کی وجوہات میں شامل ہے۔ […]
ریاستی دور میں رکھے جانے والے عام نام

شاید آپ لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ پشتو سپیکنگ لوگوں میں بالعموم اور سواتیوں میں بالخصوص بعض نامانوس، نامعلوم اور مہمل قسم کے نام رکھے جاتے ہیں، جن میں بعض کے تو معنی بھی نہیں نکلتے۔ مثال کے طور پر ’’جانس‘‘ (Janas) ایک عام سا نام ہے، مگر میری سمجھ […]
سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔ بدقسمتی سے جن […]
ریاستِ سوات کے الحاق بارے نیا شوشا

اچھا جناب……! عام ہڑتال بھی ہوچکی ٹیکسوں کے خلاف…… پتا نہیں ٹیکس لگتے ہیں یا نہیں……! مگر یار لوگوں نے گرم توا سر پر رکھا ہوا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں اور عجیب وغریب قسم کی تاویلات سامنے آرہی ہیں۔ بھائی سیدھے سبھاو تو ایک ہی بات کروکہ ’’وفاق کو مانتے ہو کہ نہیں۔‘‘ فضل […]
دورِ ریاستِ سوات کے ایک قصاص کی کہانی

اس تحریر کے ساتھ سیدو بابا مزار کی ایک تصویر دی جا رہی ہے جس میں لکڑی کا ایک پُل نظر آرہا ہے۔ مذکورہ پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیر زادہ اُستاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ فضل […]
ریاستِ سوات کا بھونڈے انداز سے ادغام

یوسف زئی ریاستِ سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت فلیگ سٹاف سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔ پھر نہ کسی نے والئی سوات کی رہایش گاہ پر اسے لہراتے ہوئے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔ فضل رازق شہاب […]
روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]
سوات، 1965-66ء کے خوف ناک زلزلے

غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں […]