90ء کی دہائی کی مہمان نوازی

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90ء کی دہائی میں مینگورہ شہر میں اگر کسی کے ہاں مہمان آجاتا اور ظہرانے یا عشائیے کا وقت نہ ہوتا، تو اُس کی تواضع گرما گرم چائے سے کی جاتی۔ ہم شطونگڑے ٹائپ بچے میز پر چائے کے ساتھ کھانے کی خاطر رکھی جانے والی اشیا کو دیکھ کر مہمان کی ’’وقعت‘‘ کا اندازہ […]

’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ (پرانی صبحوں کا لمس)

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

ہمیں جب بھی پشاور یا اسلام آباد کے لیے رختِ سفر باندھنا ہوتا، تو اولاً گاڑی میں تیل ڈلواتے، ثانیاً ٹائروں میں ہوا بھرواتے اور ثالثاً پیٹ کی پوجا پاٹ کرتے۔ سو، تیل جہاں سے بھی ڈلواتے اور ہوا جہاں سے بھی بھرواتے، اس پہ کوئی روک ٹوک نہیں تھی، مگر ناشتا ہمیشہ ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ […]

ملائی مار چائے

Photos of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

مجھے آج بھی یاد ہے جب ہم بچپن میں گوالیرئی (تحصیلِ مٹہ) اپنی خالہ کے گھر پر ہلہ بولتے، تو ہماری تواضع کڑک ’’ملائی مار چائے‘‘ اور اُبلے ہوئے دیسی انڈوں سے کی جاتی۔ انڈوں کے اوپر کالی مرچ حضرتِ فرازؔ کے مصرعنشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیںکے مصداق کام دیتی۔ ہم کمال […]

میونسپل کمیٹی مینگورہ (کل اور آج)

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

مجھے مینگورہ شہر کی 90ء کی دہائی والی میونسپل کمیٹی کچھ اس طرح یاد ہے، جیسے ابھی کل پرسوں وہاں سے ہوکر آیا ہوں۔ روڈ کی طرف سے اس کے دو بڑے دروازے تھے۔ آپ جیسے ہی اندر قدم رکھتے، وہاں کی ہری بھری گھاس آپ کی آنکھوں کو تراوت بخشتی۔ گھاس کے اُن قطعوں […]

زانگوٹئی (اسریت کی برقی ڈولی)

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab's Photography

ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کا حصہ بننے سے پہلے مَیں کئی ’’فوبیاز‘‘ (Phobias) کا شکار تھا۔ اس کی وجہ مجھے بعد میں معلوم ہوئی کہ میری شخصیت پر میرے والد (مرحوم) کا اثر کم تھا۔ مَیں چوں کہ والدہ محترمہ کے ساتھ زیادہ ’’اٹیچڈ‘‘ (Attached) تھا، اس لیے اُن کی تمام خصلتیں غیر شعوری […]

’’دَ گیدڑ وادہ‘‘

Blogger Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

بچپن میں جب بھی بادل برستے، دیگر لڑکوں بالوں کی طرح مجھے بھی بڑا مزا آتا۔ اکثر قمیص اُتار کے اور چپل چوڑیوں کی طرح کلائیوں میں پہن کے محلہ وزیر مال (مینگورہ، سوات) کے گلی کوچوں میں ہم عمر دوستوں کے ساتھ دوڑ لگاتے۔ کئی بار پھسل کر خود کو اچھے خاصے زخم بھی […]

آڈیو کیسٹ کے ساتھ جڑی یادیں

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

میرا بڑا بیٹا ’’سنو فلیک جنریشن‘‘ (Snowflake Generation) سے تعلق رکھتا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ہر وقت یا تو سمارٹ فون ہوتا ہے، یا پھر وہ اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر ’’کوڈنگ‘‘ کی دنیا کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے والد کے بچپن اور لڑکپن کے محبوب […]

’’کروڑے‘‘ (Wild Berries)

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

ہم اپنے لڑکپن میں ’’کَروَڑُوں‘‘ (Wild Berries) کے شیدائی تھے۔ جب کبھی اپنی پھوپھی کے ہاں مرغزار جاتے، تو دن کا بیش تر حصہ درے کے پہاڑوں میں ’’کروڑے‘‘ اکھٹا کرنے کی غرض سے مہم جوئی کی نذر ہوتا۔’’کَروَڑے‘‘ پسند کرنے اور ان کی تلاش میں شوقیہ نکلنے والے جانتے ہیں کہ اس کے پودے […]

بت کڑہ

Photography of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

وہ بھی کیا دن تھے، جب گرمی کے دنوں میں ہم مینگورہ خوڑ (ندی) میں نہا کر دوپہر کی تپتی دھوپ میں آلوچوں کے کسی باغ پر ہلہ بول دیتے۔ بندہ اگر 4، 5 عدد آلوچے باغ سے اُٹھا لیتا یا کسی درخت سے توڑ لیتا، تو باغ کی رکھوالی کرنے والا درگزر سے کام […]

’’کچالان‘‘

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab's Photography

اب کون سے حالات بہتر ہیں، مگر جیب جب مکمل طور پر خالی ہوا کرتی تھی، تو ’’کچالو‘‘ اُس وقت ہماری مرغوب ترین غذا ہوتا تھا۔پسند ہر کسی کی اپنی اپنی ہے، مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ مینگورہ شہر میں تاج چوک کے کچالو تیار کرنے والے کا مقابلہ شاید ہی کوئی کر پائے۔ میرے […]

جمعہ بازار، مین بازار مینگورہ سوات

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

مَیں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، جمعہ کے روز مین بازار (مینگورہ سوات) کی دکانیں بند ہی پائی ہیں۔ کب سے مین بازار میں جمعہ بازار لگتا ہے؟ اس حوالے سے وثوق سے کچھ نہیں کَہ سکتا، مگر مجھے بچپن سے جمعہ کے روز اس بازار کے تھڑوں پر مختلف چیزیں بیچنے والے یاد […]

لنڈے کا جوتا اور ہمارا بچپن

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90ء کی دہائی میں، جب کہ ابھی میرے والدِ بزرگوار حیات تھے، ایک دفعہ مجھے اُنگلی پکڑاتے ہوئے شاہ روان پلازہ (مینگورہ شہر کا مشہور لنڈا پلازہ) لے گئے۔ سردی کی آمد آمد تھی اور میرے پرانے جوتے گھِس گئے تھے، بل کہ داہنے پیر کا انگوٹھا جوتا پھاڑ کے ہوا خوری پر مامور تھا۔ […]

گلِ نرگس سے جڑی یادیں

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

ایک وقت تھا (90ء کی دہائی) جب مینگورہ شہر کی ندی کا پانی صاف ہوا کرتا تھا، مجھے یاد ہے اس کے پانی سے اہلِ مینگورہ وضو کیا کرتے تھے۔ خواتین کپڑے دھونے جب کہ لڑکے بالے نہانے آیا کرتے۔ ندی کے دونوں طرف گلِ نرگس (جنھیں ہم پشتو میں اُس وقت گُلِ گنگس پکارا […]

پتیسا

Photos of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

آج میرے تینوں جگر گوشے ’’برگر‘‘ پہچانتے ہیں، اُنھیں پتا ہے کہ ’’شوارما‘‘ اور ’’پیزا‘‘ کیا شے ہیں ، مگر وہ ہمارے بچپن کی سب سے بڑی عیاشی ’’پتیسا‘‘ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ آج اگر مَیں اپنے بڑے بیٹے سے کہوں کہ چلو، تمھیں اپنے بچپن کی مرغوب چیز (پتیسا) کھلاتا ہوں، تو […]

"پنجہ” (باقر خانی)

Photos of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

ہماری بچپن کی عیاشیوں میں سے ایک سہ پہر کی چائے کے ساتھ ’’پنجہ‘‘ یا ’’کریم رول‘‘ تناول فرمانا تھا۔ عموماً سہ پہر کی چائے کے ساتھ سوکھی روٹی کھانے کو ملتی تھی۔ چائے بھی صبح تیار کی گئی چائے سے بچ بچا کر ہمیں سہ پہر کو پلائی جاتی تھی، جس کا رنگ استعمال […]

سوات سرینا، ریاستی دور کے فنِ تعمیر کا شاہ کار

Photos of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

سوات سرینا ہوٹل (سوات ہوٹل) کی یہ عمارت ریاستِ سوات دور کی ہے۔ یہ تصویر ستمبر 2022ء کو اُتاری گئی ہے۔ اس عمارت کے حوالے سے کئی متضاد آرا سامنے آئیں، مگر ڈاکٹر سلطانِ روم اپنے تحقیقی مضمون "سوات ہوٹل” میں اس گتھی کو سلجھا چکے ہیں کہ یہ عمارت کس کے زیرِ استعمال رہی۔ […]

جون 2016ء کا اُتروڑ بازار

Photo by Comrade Amjad Ali Sahaab

یہ تصویر سوات کے خوب صورت سیاحتی گاؤں اُتروڑ کے بازار میں جون 2016ء کو کامریڈ امجد علی سحاب نے اُتاری تھی۔ تصویر میں ایک باریش گڈریا برّہ (بھیڑ کا بچہ) کاندھے پر اُٹھائے دیکھا جاسکتا ہے۔ گڈریے کے پیچھے ریوڑ اور دو نوجوان ٹریکر بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر میں دکھائی دینے والے اس […]