وادئی کیلاش کے مشہور تہوار

مَیں پہلی بار سنہ 1990ء کی دہائی کے آخر میں وادئی چترال میں موجود اس دل چسپ وادی یعنی کیلاش ویلی گیا تھا۔ اُس وقت بھی اِس کی سڑک کی حالت دگرگوں تھی اور آج بھی اس سڑک نما راستے کا کم و بیش وہی عالم ہے۔ وہی بے ڈھنگی چال ہے، جو پہلے تھی، […]
کیلاشی کون ہیں؟

کیلاش ہمارے بورے والا (پنجاب) سے خاصا دور ہے۔ دو تین دن یہاں تک پہنچتے پہنچتے لگ جاتے ہیں۔ کیلاش بھی تو پاکستان کی آخری نکر میں یعنی پاکستان کے شمال مغربی کونے میں اس جگہ پر ہے کہ جس سے آگے پاکستان کی آبادی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے آگے جنگل ہے، پہاڑ ہیں […]
مینگروال بنجاریان

مینگورہ شہر میں آباد ایک قدیم محلہ جو اَب بھی باقی شہر کے برعکس اپنی انفرادیت اور بنیادی ڈھانچا قائم رکھے ہوئے ہے، محلہ بنجاریان ہے۔ اس میں قائم بنجاریان مسجد جس میں کسی وقت احمدین طالب بہ حیثیت طالبِ علم مقیم تھے، اس کی زمین باچا صاحب نے وقف کی اور بنجاریانوں (بنجاریوں) نے […]
کچھ امان اللہ خان جلو خیل کے بارے میں

نشاط چوک سے مین بازار کی طرف جاتے ہوئے ایک عظیم الشان مسجد، ساتھ اعظم کلاتھ مارکیٹ اور اُس کے بالکل پیچھے اعظم ٹریڈ سنٹر وسیع مارکیٹ اس شہر کے ایک وجیہہ، ہر دِل عزیز، یار باش، سلیقہ مند اور گفت گو کا ہنر رکھنے والے امان اللہ خان صاحب کی عظمت کی یاد دِلاتے […]
ملک بیرم خان ’’تاتا‘‘ کی یاد میں

ملک بیرم خان المعروف ’’تاتا‘‘ یکم اکتوبر 1983ء کو میونسپل کمیٹی مینگورہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 21 نومبر 1987ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں اُنھوں نے پھر بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی اور 29 دسمبر 1987ء کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ […]
مادرسری نظام کیا تھا اور کیا یہ کبھی واپس آسکتا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی آج ہم عورت کو جس بے بسی اور بے کسی کے عالم میں دیکھتے ہیں اور جو معاشرے میں مرد کے تعصبات کا شکار ہے، وہ روایت کی زنجیروں میں اس قدر بندھی ہوئی ہے کہ یہ زنجیریں آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہیں۔ عورت تاریخ میں اس دور کو یاد کر […]
منال الشریف (زندگی اور جد و جہد)

ترجمہ: اشعر نجمی مکہ میں ایک معمولی ٹیکسی ڈرائیور کے گھر پیدا ہوئی ’’منال الشریف‘‘ پوری دنیا میں مشہور ہوئے جون 2011ء کے "Darling to Drive” تحریک کے سبب جانی جاتی ہیں۔ منال الشریف سعودی عرب کی پہلی خاتون نہیں ہیں، جنھوں نے وہاں کی سڑک پر اسٹیرنگ وہیل پکڑی، اُن سے پہلے سنہ 1990ء […]
ابنِ خلدون کی 700 سال قبل لکھی گئی ایک تحریر

ترجمہ: ڈاکٹر ابوالخیر کشفی 700 سال قبل لکھی گئی ابنِ خلدون کی یہ تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے : ٭ مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے۔ فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس […]
تحریکِ انصاف بارے عمران خان کے نام ایک پرانا خط

تحریکِ انصاف نے قومی الیکشن 2002ء کے بعد قومی اسمبلی کے اُن اُمیدواروں کو، جنھوں نے 2000 سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے، کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی عہدے داران کو بھی شریک کی دعوت کی گئی تھی۔ اجلاس میں الیکشن میں ناکامی کی وجوہات جاننے، تنظیمی اُمور اور پارٹی […]
جہانزیب کالج میں میرا پہلا دن

جب بھی کبھی جہانزیب کالج کے سامنے سے گزرتا ہوں، تو لگتا ہے کہ کسی قریبی رشتے دار کی قبر کے سامنے سے گزر رہا ہوں۔ دراصل بچپن سے جہانزیب کالج کا ایک رعب مجھ پر قائم رہا۔ والد (مرحوم)، چچا، ماموں اور جس کو بھی مَیں جانتا تھا، جہانزیب کالج سے گریجویشن کرچکے تھے۔ […]
ون مین آرمی ’’فیاض ظفر‘‘

یہ 2009ء کے ظالم طویل دن تھے، جن میں ایک ایک لمحہ گھنٹے جتنا لمبا محسوس ہوتا تھا۔ سوات میں قانون نامی شے کا وجود نہیں تھا۔ ریاست سرنگوں تھی۔ مولانا صوفی محمد کو ریاست نے زمین پر ناک رگڑ کر باعزت رہا کیا تھا۔ سید طلعت حسین صاحب سے شناسائی کے لیے کئی حوالے […]
امیر دوست خان دھوبی

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے […]
قوم کا پیسا مَیں معاف نہیں کرسکتا (والئی سوات)

یہ نہایت خوش آیند بات ہے کہ اس سال پانچ جون کو مرحوم والیِ سوات میاں گل جہان زیب کا یومِ ولادت شایان شان طریقے سے منانے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دراصل اُس طلسماتی شخصیت کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے کہ ریاست کے ادغام پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود […]
اکرم استاد صاحب

مینگورہ شہر میں جب تعلیم کا شعور دوسری بار اُجاگر ہوا، تو اس میں مادیت نمایاں تھی۔ سائنس کی مدد سے ڈاکٹر بننا، ورنہ انجینئر بننا تو طے تھا…… اور جس نے نہیں پڑھنا، یا گھر والوں کو زیادہ معلومات نہیں تھی، وہ آرٹس لینے لگے۔ پھر سب سے بڑا معرکہ دسویں کا امتحان اچھے […]
سقراط

تحریر: وسیم فرید ملک 399 قبلِ مسیح میں جب سقراط پر ایتھنز (یونان) کے نوجوانوں کو ورغلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا، تو اُس وقت اس کی عمر 70 برس تھی۔ سقراط ’’تعلیم بہ ذریعہ مکالمہ‘‘ کے لیے جانا جاتا ہے، یعنی وہ رسمی طریقے سے براہِ راست تعلیم نہیں دیتا تھا، بلکہ اپنے […]
’’قاضی حنیف‘‘ شخصیت جو بے قدری کا شکار ہوئی

یہ اصطلاح ہم 60ء کی دہائی سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان سے ’’برین ڈرین‘‘ تیزی سے جاری ہے۔ اس کا سبب صرف معاشی حالات کی ناسازگاری نہیں تھا، بلکہ یہاں کی بیوروکریسی کی فرعونیت، حسد اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے جانے کا نہ ختم ہونے والا کھیل اس کی وجوہات میں شامل ہے۔ […]
خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]
تہذیب یا بربریت؟

جرمن فلسفی ’’والٹر بِنیامن‘‘ نے کہا تھا کہ تہذیب کی ہر یادگار، بربریت کی یادگار ہے۔ اپنے آپ کو باقی دنیا کے لوگوں سے مختلف سمجھنے کو تہذیب کا نام دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب انفرادیت اختیار کرگئی اور ان اصولوں کو جن کے اوپر تہذیب بنی ہے، اس کے ماننے والوں کو […]
ہیرا منڈی، تصویر کا دوسرا رُخ

تحریر: منصور ندیم آج کل پڑوسی ملک میں بننے والی نیٹ فلیکس فلم ’’ہیرا منڈی‘‘ کا بڑا تذکرہ ہے۔ مَیں نے یہ فلم دیکھی ہے نہ ابھی تک دیکھنے کا موڈ ہے، مگر اب تک اس فلم پر بانٹا جانے والا ’’گیان‘‘ بہت پڑھا ہے۔ کوئی ان تبصروں میں فسوں نگاری ڈھونڈ رہا ہے، کوئی […]
فضل ربی راہیؔ، سوات کی صحافت کا درخشندہ باب

شاعر، ادیب، دانش ور، نقاد، ایڈیٹر، کالم نویس، پبلشر…… یہ ہمہ جہت شخصیت فضل ربی راہیؔ صاحب کی ہے، جو بنگالی خاندان کے چارباغ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کے دادا مینگورہ شہر میں ایک ممتاز طبیب تھے، جو خوب صورت اور وجہہ شخصیت کے مالک تھے۔ امیر طبیب صاحب کے والد صاحب […]
صحافت کا ارتقائی سفر اور ہم

ہندوستان میں پاکستانی صحافت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ویسے تو ہندوستانیوں کی عادت ہے پاکستان کے مذاق اڑانے کی، لیکن دو باتوں میں ہندوستانیوں کا مذاق وزنی لگتا ہے۔ ایک جب پاکستانی کہتے ہیں کہ ’’اگر ہندوستان نے پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو……!‘‘ ہندوستانی میڈیا میں اس قسم کے مکالموں کا […]