فلسفہ کی تاریخ (اُنتیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ افلاطون کی ری پبلک/ ریاست (The Republic):۔ افلاطون نے اپنے ’’علمیاتی نظریے‘‘ (Theory of Knowledge) کی بنیاد پر اخلاقیات (Ethics) کی بنیاد رکھی، یعنی کہ جو […]
خیبر پختونخوا کے سینما گھر کیوں بند ہوئے؟

پرانے سینما گھروں کا تفصیلی بیان تو ابراہیم ضیا کی کتاب ’’پشاور کے فن کار‘‘ میں بڑے منفرد انداز میں موجود ہے۔ پشاور میں کچھ ایسے سینما گھر بھی ہیں، جو بعد میں بنے اور ختم ہوگئے۔ ’’ناولٹی سینما‘‘ کو مسمار کرکے اُس پر پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ ’’امان سنیما گھر‘‘ میڈیکل سنٹر میں […]
روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]
مور پنڈیٔ کاکا (مدین) کی یاد میں

عبد الرحیم میاں، جنھیں عام طور پر مور پنڈیٔ کاکا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اخوند خیل میاں گان کے چشم و چراغ تھے۔ اُن کی پیدایش 1872ء کے آس پاس تیرات مدین سوات میں ہوئی اور 1949 عیسوی بہ مقام مور پنڈیٔ (مدین) میں ہوئی۔ عبد الرحیم کاکا کے والدِ بزرگوار کا […]
فلسفہ کی تاریخ (اٹھائیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ غار کی تمثیل (Allegory of the cave):۔ افلاطون نے اپنی علمیاتی نظریے یا معرفت شناسی (Epistemology) کو آسانی سے سمجھانے کے لیے ایک تمثیلی مثال […]
شہید بشیر احمد بلور کی یاد میں

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں غالبؔ اس شعر میں یہی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا آباد ہونے سے اَب تک نہ جانے کتنے نازنیں پیوندِ خاک ہوئے، لیکن دلوں میں یاد کے چراغ تو خال خال ہی کے روشن ہیں۔ غالبؔ سے […]
عجب خان حاجی صاحب کی یاد میں

6 مئی 2020ء کے ایک بہت ہی تھکا دینے والے دن عین نمازِ عصر کی اذان کے ساتھ عجب خان حاجی صاحب نے اذان کا جواب دینا اور کلمۂ شہادت پڑھنا شروع کیا۔ اذان ختم ہوئی اور حاجی صاحب خاموش ہوگئے۔ فوراً رحمان اللہ بابو صاحب کو بلایا گیا، وہ لمحوں کے حساب سے پہنچے […]
فلسفہ کی تاریخ (ستائیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا ستائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ کلیات کا مسئلہ اور افلاطون (Problem of Universals and Plato):۔ افلاطون کا یہ تصور تھا کہ جو مختلف انفرادی اور الگ الگ چیزیں ہمیں نظر […]
فلسفہ کی تاریخ (چھبیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علی زئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا چھبیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ کلیات کا مسئلہ (Problem of Universals):۔ افلاطون نے اتنے مختلف موضوعات پر لکھا کہ ہم کہیں سے بھی اُس کے فلسفے کو بیان کرنا […]
فلسفہ کی تاریخ (پچیس واں لیکچر)

تحریر و تریب: میثم عباس علی زئی (نوٹ:۔ بہ وجوہ یہ سلسلہ چوبیس ویں لیکچر کے بعد موقوف کیا گیا تھا، مگر قارئین کے بار بار اصرار پر اسے دوبارہ جاری کیا جا رہا ہے۔ ’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا پچیس واں […]
ملوک حاجی صاحب، ایک سچا دوست

گذشتہ کچھ دنوں سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر چند مخصوص دوستوں کی جانب سے مینگورہ کی ایک نام ور شخصیت کے بارے میں کچھ ہونی اَن ہونی باتیں سامنے آتی رہیں۔ مَیں نے ایک آدھ کا جواب دیا بھی…… مگر آج جی چاہتا ہے کہ کچھ متنازع باتوں کو نظر انداز […]
ریاست سوات دور کی ملازمت کیسی ہوتی تھی؟

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا اس پر مستزاد۔ فضل رازق شہاب کی […]
صنوبر استاد صاحب

سنہ 1980ء کی دہائی میں جن اساتذہ کا توتی بولتا تھا، اُن میں سے ایک صنوبر اُستاد صاحب بھی تھے۔ خورشید علی میرخیل، صنوبر اُستاد صاحب کے داماد اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حاجی بابا میں ’’سیکنڈری سکول ٹیچر‘‘ (ایس ایس ٹی) کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ صنوبر […]
والدہ ماجدہ کی یاد میں

دوستو! یکم اپریل میری ماں کا یومِ وفات ہے۔ اللہ اُن کی قبر نور سے بھر دے، آمین! مَیں نے زندگی بھر ماں کو دکھ ہی دیے ہوں گے۔ مَیں تھا ہی ایسا بدنصیب…… مگر اب پچھتاوے کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ ایک بھلانا چاہوں، تو دو یاد آتی ہیں۔ ماں نے ہمیشہ نہ […]
حاجی سیف الملوک (ملوک حاجی صیب) کی یاد میں

ضیاء الحق کا دور تھا۔ وہ پوری فوجی طاقت اور جلال کے ساتھ مسندِ اقتدار پر براجمان تھے۔ ان کے نیچے لیفٹیننٹ جنرل فضل حق سرحد کے گورنر اور صوبائی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ طاقت تو رکھتے ہی تھے مگر اُن کا نشہ اُس طاقت سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ساجد امان کی دیگر تحاریر […]
ناسٹلجیا

مجھے بارش میں چھتری لے کر چلنا اچھا لگتا تھا۔ غالباً یہ بہت کم عمری میں برساتی میں چھپ کر برستی بارش کے دوران میں صحن میں بیٹھ جاتا تھا۔ برساتی پر بارش کے قطروں کی آواز مجھے بہت بھلی لگتی تھی۔ کالج کے دنوں میں ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ لے کر ایسی جگہ بیٹھ جاتا، جہاں […]
مختیار احمد (قمر آپٹکو) کی یاد میں

ہمارے معاشرے میں شہید مختیار جیسے چند لوگ ہی ہوتے ہیں، جو مخلص، ملنسار، صاف نیت اور مہذب ہوتے ہیں۔ ان سے جب میری پہلی ملاقات اُن کی دکان میں ہوئی، تو مَیں اُن کو نہیں جانتا تھا، مگر مجھے حیرت ہوئی کہ وہ مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔ پہلی ملاقات میں بڑی اپنائیت سے […]
نیرنگیِ زمانہ

صبح ایک فاتحہ کے لیے گاؤں (ابوہا) کے درمیان ایک مسجد جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک تنگ گلی سے گزرتے ہوئے گاؤں کی روزمرہ سرگرمیوں کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ ایک گھر کے دروازے پر بیٹھا دودھ والا اوٹ سے ایک خاتون کو دودھ دے رہا تھا۔ ایک اور گھر کے دروازے سے خاتونِ خانہ […]
تاریخ دُشمنی

(نوٹ:۔ اِس مضمون کے لکھنے کا مقصد کم الفاظ اور مختصر تحریر میں تاریخ اور تاریخ کے مضمون کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ اور اس واہمے کو دور کرنے کی کوشش بھی ہے کہ تاریخ خالی خولی پرانے قصے کہانیاں ہیں اور موجودہ وقت اور دور میں اِس کی کوئی علمی اور عملی اہمیت […]
کچھ باجکٹہ (بونیر) کے سید کریم خان کے بارے میں

غالباً1961ء کا سال تھا۔ اگست کا مہینا تھا اور برسات کا موسم تھا۔ ہم یعنی ’’سٹیٹ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ‘‘ کا عملہ اپنے سربراہ محمد کریم صاحب کے ساتھ آلوچ میں ایک دن رات گزارنے کے بعد واپس سیدو شریف کی طرف آرہے تھے۔ ڈھیرئی پہنچے، تو شدید بارش ہونے لگی۔ سڑک کچی تھی اور بارش […]
کچھ ناخواندہ ماہرِ تعمیرات عبید اُستاد کے بارے میں

آج کی نشست عبید استاد کے نام کرتا چلوں۔ عبید استاد، دستخط مستری کی طرح اَن پڑھ تھے اور دستخط مستری ہی کی طرح ماہرِ تعمیرات تھے۔ 1928ء سے جولائی 1969ء تک جب ریاست ختم ہوئی، بونیر میں جتنی بھی ریاستی عمارات از قسم ہسپتال، سکول، ڈسپنسری، رہایشی مکانات، عدالتیں اور پل تعمیر ہوئے، وہ […]