سنہ 1980ء کی دہائی میں جن اساتذہ کا توتی بولتا تھا، اُن میں سے ایک صنوبر اُستاد صاحب بھی تھے۔ خورشید علی میرخیل، صنوبر اُستاد صاحب کے داماد اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حاجی بابا میں ’’سیکنڈری سکول ٹیچر‘‘ (ایس ایس ٹی) کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ صنوبر اُستاد صاحب کی تاریخ پیدایش و جائے پیدایش کے حوالے سے کہتے ہیں: ’’اُستاد صاحب نے 1924ء کو رنگ محلہ، مینگورہ سوات میں جنم لیا۔ 1994ء کو اپنے فرائضِ منصبی سے سبک دوش ہوئے۔ ایک سادہ مگر بھرپور اور مثالی زندگی جینے کے بعد 73 برس کی عمر میں سنہ1997ء میں لنڈیکس، مینگورہ سوات میں انتقال کرگئے۔‘‘
کامریڈ امجد علی سحاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/sahaab/
قارئینِ کرام! 80ء کی دہائی اساتذۂ کرام کی سختی اور جسمانی سزاؤں کے لیے گویا مثالی دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ مذکورہ دہائی میں سرکش اور نکمے طلبہ کو مرغا بنانا، اُن کی چھڑی کی مدد سے درگت بنانا، دو تین تھپڑ (فی سبیل اللہ) رسید کرنا یا اُن کی گوش مالی کرنا روٹین کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ مجھ جیسے نکمے طلبہ اگر دُور سے اپنے اساتذہ کو آتا دیکھتے، تو سر پر پیر رکھ کر بھاگ جانے میں عافیت جانتے۔ ایسے میں صنوبر اُستاد صاحب کا دم کسی غنیمت سے کم نہ تھا۔ اِس حوالے سے اُن کے شاگردِ خاص اور ہمارے ہم دمِ دیرینہ فضل خالق صاحب کہتے ہیں: ’’صنوبر اُستاد صاحب نے ہمیں چھٹی اور ساتویں جماعت میں پڑھایا تھا۔ یہ سنہ 88، 89ء کی بات ہے۔ مجھے آج بھی اُن کی ڈریسنگ یاد ہے۔ صاف لباس زیبِ تن کرتے، جو زیادہ تر سفید شلوار قمیص پر مشتمل ہوتا۔ جب موسم خوش گوار ہوتا، تو اُن کے لباس میں واسکٹ کا اضافہ ہوجاتا۔ اس طرح پشاوری چپل پہنتے، سواتے پکول (ریاستِ سوات کی نشانی ’گرارئی پکول‘) تو اُن کی پہچان ہوتا۔ اُستاد صاحب کی کلاس ہمیں اِس لیے پسند ہوتی کہ وہ کلاس کے دوران میں بڑے ایکٹیو رہتے۔ اُس دور میں اساتذۂ کرام اکثر کلاس کے دوران میں پڑھاتے وقت کلاس کے اندر رکھی کرسی پر آرام بھی کرتے، مگر مجھے نہیں یاد کہ اُستاد صاحب کبھی کرسی پر بیٹھے ہوں۔ پوری کلاس بے تکان کام کرتے کرتے گزارلیتے۔‘‘
قارئینِ کرام! مَیں گو کہ اُن کے حلقۂ تلامذہ میں نہیں آیا تھا، مگر اُن کی شخصیت کے سحر میں جکڑا ضرور تھا۔ اُن کا متبسم چہرہ، چوڑی پیشانی اور نرم لہجہ اُن کی شخصیت میں مقناطیسی اثر پیدا کرتا۔ اُس دور میں بیشتر اساتذہ تقریباً سبھی رائج مضامین باآسانی پڑھالیتے اور طلبہ بڑی حد تک سمجھ بھی جایا کرتے۔ 90ء کی دہائی میں خود ہمارے اساتذہ کا بھی یہی حال تھا۔ پانچویں جماعت تک تو ایک اُستاد صاحب صبح کلاس آتے اور بے تکان چھٹی تک ہمارے ساتھ مختلف مضامین کی کلاسیں لیا کرتے۔ البتہ تھیالوجی ٹیچر کی کلاس، ڈرل اور ریسس میں اُنھیں تھوڑا سا آرام مل جایا کرتا۔ بقولِ ساحر لدھیانوی:
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں اُن کو
کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
دیگر متعلقہ مضامین: 
تاریخی ودودیہ سکول کے اولین طلبہ  
ریاستی دور کے ودودیہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم  
ملوک حاجی صاحب کی یاد میں  
کچھ ناخواندہ ماہرِ تعمیرات عبید اُستاد کے بارے میں  
محمد افضل خان لالا کی یاد میں  
بزوگر حاجی صاحب  
صنوبر اُستاد صاحب بھی ذکر شدہ اساتذہ کی طرح ہر مضمون پڑھالیتے، مگر فضل خالق صاحب کہتے ہیں کہ وہ ریاضی میں طاق تھے۔ ’’ہماری اُن کے ساتھ اولین کلاس انگریزی کی لگی تھی، مگر وہ ریاضی کے ماہر مانے جاتے تھے۔ محنتی اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ طلبہ کا خیال رکھتے تھے۔ جب کوئی طالب علم حوالہ شدہ کام بروقت نمٹا نہ پاتا، تو وہ اپنی ناراضی کا اظہار کچھ اس طرح کرتے کہ طالب علم کی ٹوپی تھپڑ نما انداز میں کمرائے جماعت کے دوسرے کونے میں یہ کہتے ہوئے پھینک دیتے: ’پہ تین سو چون دی ٹوپئی ایخودی دہ او د ٹک کار نہ یے۔‘ یعنی سر پر ٹوپی ترچھی رکھے ہوئے ہو اور کسی کام کے نہیں ہو۔‘‘
فضل خالق صاحب آگے کہتے ہیں: ’’اُس دور کے دیگر اساتذۂ کرام کی طرح سخت سزا دینے کے بالکل قائل نہیں تھے۔ کبھی کسی طالب علم کی کوئی حرکت ناگوار گزرتی، تو اپنے ’تین سو چون‘ والے مشہور ڈائیلاگ کے ساتھ تھپڑ نما انداز میں طالب علم کی ٹوپی دور پھینک دیتے۔ اُن کے اس عمل سے کلاس زعفران زار بن جاتی۔‘ ‘
خورشید علی اُستاد صاحب بھی صنوبر اُستاد صاحب کی شرافت کی گواہی دیتے ہیں۔ اُن کے بقول: ’’اُستاد صاحب ایک رحم دل اور پیارے انسان تھے۔ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص تھے۔ چاہتے تھے کہ معاشرے سے جہالت کے اندھیرے چھٹ جائیں۔‘‘
جیسا کہ فضلِ سبحان افغانی کیا خوب کَہ گئے ہیں:
دَتیارو خلاف پہ جنگ کی زما بس دغہ وَس رسی
زہ دَ یو لیتکی خاوند ووم، ما خپل یو لیتکے بل کڑے
قارئینِ کرام! آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ہر وہ معلم جو تھوڑا بہت منفرد ہے، کسی نہ کسی حوالے سے خبروں کی زینت بن ہی جاتا ہے۔ اگر آج صنوبر اُستاد صاحب حیات ہوتے، تو ایک اچھے موٹی ویشنل سپیکر ہوتے۔ اپنا یوٹیوب چینل چلاتے۔ سوشل میڈیا پر اُن کی فین فالونگ ہوتی۔ جیسا کہ فضل خالق صاحب کہتے ہیں: ’’وہ ہر لحاظ سے ایک بہترین اُستاد تھے۔ گاہے گاہے موٹی ویشنل انداز اپنا کر ہمارا لہو گرماتے۔ سبق پڑھانے کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی آداب سکھاتے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ یورپی معاشرے کی مثالیں دیا کرتے۔ دراصل اُن کے کئی طلبہ اُس دور میں یورپ اور امریکہ سے لوٹ کر اُنھیں اَپ ڈیٹ کیا کرتے کہ اُس دور کے ترقی یافتہ معاشروں میں کیا ہورہا تھا۔ یوں اُستاد صاحب ہماری رگِ حمیت پھڑکانے کے لیے فرماتے کہ گورے نفاست پسند ہیں۔ اُستاد صاحب معاشرتی بے قاعدگیوں پر کڑھتے اور قدرے تکلیف کے ساتھ ہمیں بتاتے کہ لنڈیکس (جہاں اُستاد صاحب رہایش پذیر تھے) کی گلیاں کچرے سے اَٹی پڑی رہتی ہیں جب کہ یورپ کی گلیاں صاف ستھری ہوتی ہیں۔ اُستاد صاحب ٹھنڈی آہ بھر کر فرماتے کہ ہم بھی اپنی گلیوں اور بازاروں کو آسانی سے صاف رکھ سکتے ہیں، مگر شاید ایسا کرنے میں ہمیں عار محسوس ہوتی ہے۔ گرد و غبار اُنھیں بالکل پسند نہ تھی۔ اکثر کہتے کہ یورپ میں ایک بار جوتے پالش کیے جائیں، تو ہفتہ بھر اُنھیں دوبارہ پالش کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ ایک ہماری گلیاں ہیں جہاں گھر سے نکلتے ہی جوتوں پر گردکی تہ جم جاتی ہے۔ ‘‘
فضل خالق صاحب کی باتوں کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ صنوبر اُستاد صاحب تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت پر بھی زور دیتے تھے۔ دوسری طرف خورشید علی اُستاد صاحب کہتے ہیں کہ صنوبر اُستاد صاحب اپنے کام سے انصاف کرنے والوں میں سے تھے۔ ’’اُستاد صاحب کی تدریسی خدمات کے صلے میں ریاست کے والی میاں گل عبدالحق جہانزیب نے اُنھیں ایک عدد ’’توصیفی خط‘‘ (Apperciation Letter) سے بھی نوازا تھا، جسے اُستاد صاحب اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے۔ مذکورہ سند اُستاد صاحب کے بڑے صاحب زادے احسان اللہ اُستاد صاحب نے ایک دفعہ مجھے فخر کے ساتھ دکھایا تھا۔‘‘
اُستاد صاحب اِس عزت افزائی کے لائق تھے، کیوں کہ فضل خالق صاحب کہتے ہیں: ’’یہ ایک طرح سے صنوبر اُستاد صاحب کا شوق تھا کہ اُن کے سامنے بیٹھے ہر طالب علم کے پلے کچھ نہ کچھ ضرور پڑے۔ اُن کی ایک عادت مجھے بے حد بھاتی تھی، اور وہ یہ کہ جس روز ریاضی کا پرچہ ہوتا، طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے کہ صبح سویرے اسمبلی سے پہلے ’زیرو کلاس‘ ہوگی۔ اُسی زیرو کلاس میں اہم اہم سوالات بورڈ پر حل کرکے طلبہ کی مشکل آسان بنانے کی سعی کرتے۔ کئی بار ایسا دیکھنے کو ملا کہ پرچہ کسی اور اُستاد کا ہوتا، مگر صنوبر اُستاد صاحب ’زیرو کلاس‘ اتنی جاں فشانی سے لیتے، جیسے کچھ دیر بعد ہال میں اُن کی اپنی کلاس کا پرچہ ہونے جا رہا ہو۔‘‘
فضل خالق صاحب کی محولہ بالا باتوں سے جڑا نکتہ خورشید علی میرخیل کچھ اس انداز سے بیان کرتے ہیں: ’’آج صنوبر اُستاد صاحب کی شاگردی پر بڑے بڑے نام ور ڈاکٹر، انجینئر، وکلا اور کاروباری حضرات فخر محسوس کرتے ہیں۔ چند مشہور ڈاکٹروں کو تو مَیں بہ ذاتِ خود جانتا ہوں، جن میں ڈاکٹر امین اللہ، ڈاکٹر زین الاحمد اور ڈاکٹر عزیز احمد قابلِ ذکر ہیں۔ یہ وہ ہیرے ہیں، جنھیں صنوبر اُستاد صاحب نے خود پالش کیا تھا۔ ‘‘
جس طرح آج کل پرائیویٹ سکول کے اساتذہ پر لازم ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کی نوٹ بکس کی پراپر چیکنگ کریں گے اور طلبہ و طالبات کو اُن کی کمی کوتاہی سے بروقت آگاہ کریں گے۔ فضل خالق صاحب کہتے ہیں: ’’آپ اندازہ لگائیں کہ اُس دور میں صنوبر اُستاد صاحب باقاعدگی سے کاپیوں کی چیکنگ کرتے۔ طلبہ سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشان دہی کرتے اور ہوم ورک بہ طورِ خاص حوالہ کرتے۔ پھر اگلے روز حوالہ شدہ کام کی چیکنگ بھی خود کرتے۔ صنوبر اُستاد صاحب کی انگریزی کی کلاس مجھے بہ خوبی یاد ہے۔ کلاس میں باقاعدہ مشکل الفاظ کے معانی لکھتے۔ پھر ہمارے لکھے ہوئے کام کو خود چیک کرتے کہ کہیں کسی لفظ کے معنی غلط تو نہیں لکھے۔ اُس کے بعد ہمیں مشکل الفاظ کے معانی یاد کرنے کی تلقین بھی فرماتے۔‘‘
قارئینِ کرام! کہتے ہیں کہ اساتذہ رول ماڈل ہوتے ہیں، جن کے نقشِ قدم پر چل کر طلبہ اپنی شخصیت میں نکھار لاتے ہیں۔ صنوبر اُستاد صاحب کی زندگی بھی ہم جیسوں کے لیے نمونے سے کم نہیں۔ خورشید علی اُستاد صاحب کے بقول: ’’صنوبر اُستاد صاحب نے بے داغ زندگی گزارنے کی کوشش کی۔ اہلِ محلہ اُن کی شرافت کی گواہی دیتے ہیں۔ بہ حیثیت سسر وہ نہ صرف میرے ساتھ بلکہ اپنے دیگر دامادوں کے ساتھ پدرانہ شفقت اور ہم دردی کا مظاہرہ کرتے۔ جب تک حیات رہے، کسی کا برا نہیں چاہا۔ اس لیے بیشتر لوگ آج بھی اُن کی شرافت کے گواہ ہیں۔‘‘
فضل خالق کہتے ہیں کہ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد ہم امانکوٹ نقلِ مکانی کرگئے، مگر اُستاد صاحب کی یادوں کی مہک اب بھ مشامِ جاں کو معطر کرتی ہیں۔ جب اُستاد صاحب انتقال کرگئے، تو مَیں باقاعدہ اُن کے جنازے میں شریک ہوا اور تدفین تک ساتھ رہا۔ وہ ہر لحاظ سے ایک آئیڈیل ٹیچر تھے۔ یہ صرف میری نہیں بلکہ اُس وقت تمام ہم جماعت دوستوں کی رائے تھی۔
زندگی کے آخری ایام میں صنوبر استاد صاحب کو عارضۂ قلب لاحق ہوگیا تھا۔ خورشید اُستاد صاحب کہتے ہیں کہ وہ "Cardiomegaly” جسے "Enlarged Heart” بھی کہتے ہیں، کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے۔ سوکھی کھانسی نے آخری ایام میں بے دم کر رکھا تھا۔ یوں مذکورہ بیماری اُن کی زندگی کا چراغ گُل کرگئی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔