جیسا کہ سکول ریکارڈ سے ظاہر ہے، ودودیہ ہائی سکول کے دوسرے دور کا آغاز یکم اپریل 1952ء کو ہوا۔ جب سنٹرل جیل سیدو شریف کو مناسب ترمیم کے ساتھ سکول میں تبدل کیا گیا۔ ہم پانچویں کلاس میں اس کے ابتدائی طلبہ میں شامل ہوئے۔ میرے اس وقت کے کلاس فیلوز میں میرے بڑے بھائی فضل وہاب کے علاوہ جو نام مجھے یاد ہیں ان میں ’’سیفورگئی‘‘، حبیب اللہ اور سلیم اللہ کے نام مجھے یاد ہیں۔ نویں کلاس میں پھر امانکوٹ کے قادر خان، فریدون، پرویز، میاں معمبر، غالیگے کے حیدر علی خان، سیدو کے نثارالحق، غالیگے ہی کے محمد رحمان اور اُن کے چچازاد محمد کریم (جن کو ہم ٹامی کہتے تھے) شامل ہوئے۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
کچھ لڑکے بنڑ سکول سے نکالے گئے تھے، جو یہاں آگئے۔ یہ سید غفار، عبدالغفار، تاج ملوک اور کریم داد وغیرہ تھے۔
بخت مند خان بھی آخری سال دہم میں ہم سے آملے۔ وہ عمر میں سب سے بڑے تھے۔ مضبوط اور طاقت ور…… سارے لڑکے اُن سے دبتے تھے۔
ہیڈ ماسٹر تو کئی دیکھے۔ جیسے پیر محمد خان، حسین خان، غلام سید وغیرہ۔ ایک مہاجر تھے رضی الدین حسن…… اُن دنوں سکول کے قریب ایک پرانی طرز کی عمارت ہیڈ ماسٹر کی رہایش گاہ تھی۔ حسن صاحب اُسی میں رہتے تھے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ودودیہ ہائی سکول سیدو شریف کی مختصر تعریف 
کچھ ہیڈ ماسٹر (ر) غلام احد کے بارے میں
ریاستی دور کے ودویہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم
ڈی ای اُو صاحب کی جے! 
ایک دفعہ کیا ہوا کہ میٹرک کے امتحان ہورہے تھے۔ امتحان پشاور یونیورسٹی کے تحت لیے جاتے تھے۔ ایک لڑکے پائی محمد نامی نے رات کو ہیڈ ماسٹر کے گھر کے اُس کمرے کے روشن دان سے داخل ہوکر انگریزی کا پرچہ چرانے کی کوشش کی، مگر پکڑا گیا۔ وہ بے وقوف خود امتحان نہیں دے رہا تھا، بس کسی اور لڑکے کی خاطر یہ کشت اُٹھانے آیا تھا۔ اُس کو جیل ہوگئی۔
کچھ عرصہ بعد وہ پرانا مکان گرایا گیا اور وہاں پر سکول سٹاف کے لیے والئی سوات نے جدید رہایشی کوارٹرز بنوائے۔اُن میں ایک ہیڈ ماسٹر صاحب کے لیے بھی مختص تھا۔
ایک نیلی آنکھوں والے گورے چٹے غلام سید نامی ہیڈ ماسٹر تھے۔ انگریزی پڑھاتے تھے۔ اُن کے والد کا نام ’’گُل‘‘ تھا۔ اُن کی آنکھیں بھی نیلی تھیں اور ریاستی فوج میں صوبے دار بھی رہ چکے تھے ۔ شاید کسی کو اُن کے بارے میں یاد ہو۔ اگر اس حوالے سے میرے ساتھ کچھ شیئر کیا جائے، تو نوازش ہوگی۔
میرے کلاس فلیوز میں بعض بڑے نام ور ہوگئے۔ جیسے: ڈاکٹر حیدرعلی خان (سوات کے پہلے سائیکاٹرسٹ)، ڈاکٹر نثار الحق (انگلینڈ)، پروفیسر قادر خان، ارسلا خان لائبریرین، حبیب اللہ پریس جہانزیب کالج اور دوسرے ڈھیر سارے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔