ضیاء الحق کا دور تھا۔ وہ پوری فوجی طاقت اور جلال کے ساتھ مسندِ اقتدار پر براجمان تھے۔ ان کے نیچے لیفٹیننٹ جنرل فضل حق سرحد کے گورنر اور صوبائی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ طاقت تو رکھتے ہی تھے مگر اُن کا نشہ اُس طاقت سے کہیں بڑھ کر تھا۔
ساجد امان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/saj/
جنرل پیر فضل حق کے والد صاحب ریاستِ سوات میں پاکستان کے نمایندے تھے۔ پیر صاحب، والی صاحب کے قریب تھے۔ اس وجہ سے ہر بات میں مداخلت اور تنقید اُن کی عادتِ ثانیہ تھی۔
سنا ہے کہ ایک دفعہ کڑاکڑ سے گزرتے ہوئے گاڑی میں والی صاحب نے کسی بات پر غصہ ہوکر اُن کو کھینچ کے ایک تھپڑ رسید کی تھی، جس سے اُن کا جناح کیپ کھڑکی میں سے اُڑ کر نیچے کھائیوں میں لڑھکتا ہوا چلا گیا تھا۔ اُس کے بعد پیر صاحب سوات سے چلے گئے۔
اب اس بات میں کتنی حقیقت ہے، اس کا کسی کتاب میں شاید ذکر نہیں، نہ والی صاحب نے اپنی سوانح عمری ہی میں اس کا حوالہ دیا ہے…… مگر عینی شاہدین کے ذریعے یہ بات سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہی۔ بعد کے واقعات اس طرح کے کسی واقعے کی شہادت دیتے ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ وہی نفرت فضل حق کے دل میں رہی، حتی کہ اپنے بچوں کو ورثے میں چھوڑ دی۔
شاید ذکر شدہ وجہ ہو کہ جنرل فضل حق ملاکنڈ ٹاپ سے اوپر ہر شخص سے نفرت کرتے تھے۔ خصوصاً سوات سے اپنی نفرت کے اظہار میں کھبی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
سپیشل طوطی رحمان  
بزوگر حاجی صاحب  
عبدالروف طوطا اور ڈاکٹر نجیب صاحب سے جڑی یادیں  
ریاستی دور کے ناخواندہ ماہرِ تعمیرات عبید اُستاد  
فلائنگ کوچ مولوی صیب  
والئی سوات کے پرائیویٹ سیکریٹری پُردل خان لالا  
جنرل فضل حق نے بٹ خیلہ بازار میں کئی آپریشن کیے۔ گو کہ بائی پاس کا کئی لوگوں نے کہا، مگر اُنھوں نے نفرت سے ٹھکرا دیا۔ وہ نیو روڑ، مین بازار مینگورہ میں بھی آپریشن کا حکم دے چکے تھے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ضیاء الحق کی مداخلت ہی پر موخر کرنا پڑا۔
جنرل صاحب کی نفرت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہ ’’باجوڑیان‘‘، ’’دیروجیان‘‘، ’’بونیریان‘‘ اور ’’سواتیان‘‘ جیسی اصطلاحات مردان میں عوامی خطابات میں بڑی حقارت سے استعمال کرتے……اور کہتے کہ مردان کو ان (اہلِ باجوڑ، دیر، بونیر اور سوات) کے گند سے صاف کریں گے۔ وہ ’’کوچوانان‘‘ کی اصطلاح بھی سب کے لیے استعمال میں لاتے۔ کیوں کہ مردان میں تانگے چلتے تھے۔
سوات میں ایک خطاب کے دوران میں جنرل فضل حق سوات اور اہلِ سوات کے خلاف باتیں کرنا شروع ہوئے۔ ملوک حاجی صاحب (مرحوم) جذباتی ہوکر کھڑے ہوئے اور اُنھیں ترکی بہ ترکی جواب دیا۔نیز اُنھیں خبردار کیا کہ ایک لفظ بھی آگے نہ بولیں ۔
اس جرات کے بعد ملوک حاجی صاحب (مرحوم) جنرل صاحب کے عتاب کا شکار ہوگئے…… اور تب تک رہے، جب تک حکومت میں تھے۔ اُس کے بعد سیاست میں آئے، تو بٹ خیلہ سے الیکشن کے لیے کھڑے ہوئے اور بری طرح مسترد کیے گئے۔ آخرِکار ایک سیاسی قتل کے بدلے میں قتل کیے گئے۔
بڑے بوڑھے کہتے ہیں ملوک حاجی صاحب کی للکار کے بعد جنرل فضل حق نے سوات آنا بند کر دیا اور بولنے میں بھی محتاط ہوگئے۔
سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے یہ جرات مند ’’مشر‘‘ (حاجی سیف الملوک المعروف ملوک حاجی صاحب برہان خیل) 13 فروری 2024ء کو انتقال کرگئے۔ اللہ مرحوم و مغفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔