بھٹو ریفرنس، مستقبل کے مورخ کو مواد ہاتھ آگیا

یہ 4 اپریل کی شروعات مطلب ابھی صبحِ کاذب بھی شروع نہ ہوئی تھی، قریب آدھی رات تھی، جب راولپنڈی ڈسٹرک جیل کے ذمے داران ایک کال کوٹھری میں پہنچے اور ایک جسمانی طور پر نہایت کم زور لیکن ذہنی و نفسیاتی طور پر ایک مضبوط شخص کو پھانسی کے چبوترے پر لائے اور اگلے […]
ہماری بچپن کے روزوں کی یادیں

رمضان شروع ہوا چاہتا ہے۔ رمضان شریف کا برکتوں والا مہینا ہے اور دُکان داروں نے چھریاں تیز کردی ہیں۔ کوئی مال چھپا رہا ہے، کوئی سجا رہا ہے۔غریب کا تو ہمیشہ سے برا حال ہے۔ اس دفعہ متوسط طبقہ بھی پریشان ہے کہ کس طرح رمضان کو "Manage” کرنا ہے۔ مَیں تو ذاتی طور […]
والئی سوات کے پرائیویٹ سیکرٹری پردل خان لالا

بیورو کریسی چاہے پاکستان جیسے بڑے ملک کی ہو، یا سوات کی مختصر سی ریاست کی۔ کئی مشترک قدریں رکھتی ہے۔ مثلاً: ’’کرپشن۔‘‘ یہ ضروری نہیں کہ سول اور ملٹری بیورو کریسی "As a whole” بدعنوانی میں ملوث ہو۔ وہ جو کہتے ہیں: ’’ہر بیشہ گمان مبر کہ خالی است، شاید کہ پلنگ خفتہ باشد۔‘‘ […]
پروفیسر خواجہ عثمان علی کی آمد اور کچھ پرانی یادیں

ٹائم تو مَیں نے نہیں دیکھا، مگر شام سے تھوڑی دیر پہلے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میرا پوتا مزمل باہر گیا اور واپس آکر بتایا کہ ’’پروفیسر خواجہ عثمان علی صاحب آئے ہیں۔‘‘ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ یقین کیجیے مَیں تھوڑا سا […]
ہماری کیرم بورڈ سے جڑی جوانی کی یادیں

کل پرسوں اپنے پوتوں کے ساتھ کیرم کھیل رہا تھا۔ مَیں نے ایک دفعہ ویسے کَہ دیا کہ مجھے وہ دن بہت یاد آرہے ہیں، جب مَیں ڈگر کالج کی کالونی میں قیام پذیر تھا۔ ہم یعنی پروفیسر ہمایوں خان، پروفیسر قاضی عبدالواسع اور ہمارے ایس ڈی اُو جمیل الرحمان صاحب اور مَیں شام کے […]
نیو کولونیل ازم کیا ہے؟

’’لینن‘‘ نے اپنی ایک کتاب میں سامراج کو سرمایہ داری کی انتہائی منزل قرار دیا تھا۔ لینن کے اس تجزیے کو حتمی نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ سامراجیت سرمایہ داری کی انتہائی منزل تو ہوسکتی ہے، لیکن آخری نہیں۔ "Ghana” کے مشہور انقلابی لیڈر ’’کوامے نکروما‘‘ (Kwame Nkrumah) کی کتاب ’’نیو کولونیل ازم: سامراج کی […]
کولونیل ازم کیا ہے؟

کولونیل ازم (Colonialism) کی ابتدا یورپ سے ہوئی، جب پرتگالی سمندری رستوں کی تلاش میں نکل گئے۔ شروعات میں یہ منڈیوں تک رسائی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی دریافت تھی، جو بعد میں اُن کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوئی۔ عثمانیوں کے زمینی رستے بند کرنے کا نقصان مشرق ہی کو اُٹھانا پڑا۔ کیوں […]
افسر آباد (سیدو شریف) سے جڑی یادیں

ہمارے افسر آباد میں اکثر پڑوسی بدلتے رہے، مگر ایک ہم تھے کہ آخری حویلی کی مسماری تک وہیں پر رہے۔ اُس کے بعد بھی افسر آباد سے نہ نکل سکے۔ وہیں پر سڑک کنارے جدید طرز کے 4 بنگلوں کے بلاک میں سے ایک میں شفٹ ہوگئے۔ اُسی میں 14 سال مزید گزارے اور […]
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بیویاں اور لونڈیاں

تحریر: احمد نعیم آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی چار منکوحہ بیویاں اور متعدد لونڈیاں تھیں۔ 1837ء میں جب وہ رسمی طور پر بادشاہ بنا، تو اُس کی باقاعدہ ایک ہی بیوی تھی، جس کانام تاج محل بیگم تھا اور وہ دربار کے ایک موسیقار کی بیٹی تھی۔ یہی وہ بیوی تھی جو بہادر […]
بزوگر حاجی صاحب

ہمارے یہاں سوات میں کئی بزرگوں کے نام ایسے ہیں، جنھیں سن کر عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے ناموں میں خچن، چڑی، بدے، خڑے اور ہمارے دادا (مرحوم) کا نام ’’بزوگر‘‘ شامل ہیں۔ اولاد اچھی ہو، تو صدقۂ جاریہ کے مصداق والدین کے لیے دعاؤں کا ذریعہ بنتی ہے۔ بری ہو، تو اولاد کے […]
سوات، 1971ء کے انتخابات کی ایک یاد

سوسائٹی سے شایستگی اور رواداری اُٹھ گئی ہے۔ ہما شما قسم کے لوگ سیاست میں کیا آئے، شرافت کا جنازہ نکل گیا۔ اتنے چھچھورے لوگ لیڈر بن گئے ہیں، جو پہلے تو بہ وقتِ ضرورت آپ کو باپ بھائی اور دوست بنائیں گے…… اور منتخب ہونے کے بعد اُن کی گردنوں میں سریا لگ جاتا […]
محلاتی سازشوں کا شکار نواز شریف

پانامہ ڈرامے کی بدولت محمد نوازشریف کو سپریم کورٹ کے ذریعے نااہل قرار دے کر ایوانِ اقتدار سے نکلوا یا گیا۔ نواز شریف نے جلسوں، ریلیوں اور میڈیا ٹاکس میں متعدد مرتبہ اس جملے کو دہرایا کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ یہ جملہ اتنا مشہور ہوا کہ نواز شریف کے چاہنے والوں اور مخالفین دونوں کی […]
رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان کی زندگی اور جد و جہد

زمونگ خادم، زمونگ سالار، زمونگ رہبر ولی خان تل دی جوندے وی د دی قام د زڑگی سر ولی خان ھغہ د ننگ میدان چی تل پہ باچا خان ولاڑ وو نن پہ ھغی ڈگر ولاڑ دے لکہ غر ولی خان مونگ ورتہ نمر د پختون خوا د اسمان زکہ وایو ہرے تیارے لہ تل […]
روحی بانو کی زندگی پر اِک نظر

ایک وقت تھا کہ پاکستان ڈراما انڈسٹری پر روحی بانو کا راج تھا۔ وہ خداد صلاحیتوں کی مالک تھی۔ اپنے وقت کی حسین ترین اداکارہ تھی۔ اُس نے وہ عروج دیکھا کہ لوگ جس کا محض خواب ہی دیکھتے ہیں۔ وقت اُس کا تھا اور وہ راج کماری کی طرح شوبز انڈسٹری پر راج کر […]
ہر ظالم کے آگے ڈٹ جانے والے عبداللطیف آفریدی

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی راہ نما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عبدالطیف آفریدی (مرحوم) 14 جنوری 1943ء کو صوبہ سرحد (اَب خیبر پختون خوا) کے قبائلی علاقے وادیِ تیراہ خیبر ایجنسی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1966ء میں پشاور یونی ورسٹی سے ماسٹر […]
کچھ ارفع کریم کے بارے میں

ڈھیر سارے لوگ پیدا ہونے کے بعد زندگی ’’گزارتے‘‘ ہیں اور تھوڑے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندگی ’’جیتے‘‘ ہیں۔ بڑے کارنامے آخرالذکر ہی انجام دیتے ہیں کہ جیون کا حق موڑنے والے یہی ہوتے ہیں۔ جو زندگی ’’جیتے‘‘ ہیں زمانہ اُنھیں مرنے نہیں دیتا۔ وہ اپنے کارناموں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں…… دلوں […]
1965ء کے صدارتی انتخابات

سابق فوجی آمر جنرل ایوب خان نے سیاسی دباو کو ختم کرنے اور اپنے آپ کو ’’قانونی جواز‘‘(Legal Cover) دینے کے لیے 1964ء میں صدارتی انتخابات کا اعلان کیا۔ یوں پاکستان کی تاریخ کے پہلے صدارتی انتخابات (Presidential Elections) دو جنوری 1965ء کو منعقد ہوئے۔ ان انتخابات میں چار امیدواروں نے حصہ لیا…… لیکن اصل […]
تاریخی ودودیہ سکول کے اولین طلبہ

جیسا کہ سکول ریکارڈ سے ظاہر ہے، ودودیہ ہائی سکول کے دوسرے دور کا آغاز یکم اپریل 1952ء کو ہوا۔ جب سنٹرل جیل سیدو شریف کو مناسب ترمیم کے ساتھ سکول میں تبدل کیا گیا۔ ہم پانچویں کلاس میں اس کے ابتدائی طلبہ میں شامل ہوئے۔ میرے اس وقت کے کلاس فیلوز میں میرے بڑے […]
خونہ چم کا تاریخی چشمہ

آج بیٹھے بیٹھے بلاوجہ خونہ چم کے چشمے کی یاد آگئی۔ ہم اُن دنوں چھوٹے بچے تھے ۔ یہی کچھ 5 یا 6 سال کے۔ شگئی سکول میں پڑھتے تھے۔ روزانہ چاہے گرمی ہو یا سردی…… افسر آباد سے لے کر شگئی سکول تک جانا معمول رہتا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
رشید عطرے کی یاد میں

فیض احمد فیضؔ کی ایک نظم مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ میڈم نورجہاں نے اس خوب صورتی سے گائی ہے کہ یہ نظم انھی سے منسوب ہو کر رہ گئی ہے۔ خود فیضؔ صاحب نے بھی اس نظم کی گائیکی کی تعریف کرتے ہوئے کَہ دیا تھا کہ ’’ہم نے یہ […]
تانگا اور یادوں کا اُمنڈتا طوفان

مجھے اپنا بچپن اور خاص کر 90ء کی دہائی اچھی خاصی باریکیوں کے ساتھ یاد ہے۔ اس حوالے سے ’’مینگورہ، اک شہر بے مثال‘‘ کے عنوان سے راقم کا 12 اقساط پر مشتمل ایک تحریری سلسلہ ان صفحات کی زینت بن چکا ہے۔ کامریڈ امجد علی سحاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے […]