جب بھی کبھی جہانزیب کالج کے سامنے سے گزرتا ہوں، تو لگتا ہے کہ کسی قریبی رشتے دار کی قبر کے سامنے سے گزر رہا ہوں۔
دراصل بچپن سے جہانزیب کالج کا ایک رعب مجھ پر قائم رہا۔ والد (مرحوم)، چچا، ماموں اور جس کو بھی مَیں جانتا تھا، جہانزیب کالج سے گریجویشن کرچکے تھے۔ اس کالج، یہاں کے ماحول اور اساتذہ سمیت لائبریری کے سحر انگیز ماحول کے اثرات لے کر مَیں پھولتا پھلتا گیا۔ چوں کہ سیدو شریف بہت کم آنا جانا ہوتا تھا، زیادہ عیدین کے موقع پر تانگے میں بیٹھ کر سیدو بابا مزار اور بازار کی سیر کرتا۔ سیدو بابا مزار اور خاص کر ملحقہ بازار، چینہ مارکیٹ سے پہلے خواتین کی خریداری کے لیے مخصوص جگہ ہوا کرتا تھا۔ نمازِ عید کے لیے ٹوپی، عود و عِطر اور عید کے دن کپڑوں پر پھول والی مہر لگانے کے لیے سیدو بازار مخصوص جگہ تھی، مگر جب بھی جہانزیب کالج کے سامنے سے تانگا گزرتا، مَیں سہم سا جاتا اور ایک ہی خواہش ہوتی کہ کاش! مجھے کوئی جہانزیب کالج کی سیر کرا دے، مگر ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!‘‘
اُس وات یہ حسرت، حسرت ہی رہی۔
ساجد امان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/saj/
جہانزیب کالج پہلے دن پہنچا، تو عبداللہ یوسف زئی سے ملاقات ہوئی۔ ہم ایک ہی گلی محلے کے لوگ تھے۔ اس طرح محمد امین اسلامی جمعیت طلبہ، فضل رحمان نونو جن کے والد صاحب کے ساتھ میرے والد صاحب کی علیک سلیک تھی، غفور صاحب، جو اُستاد تھے، امان اللہ خان صاحب، اور مرحوم فضل کریم سے ملا۔
غفور صاحب اور امان اللہ خان صاحب مجھے اپنے ساتھ کلاس لے گئے۔ کالج پریس کی طرف فرسٹ فلور پر پہلے کمرے میں کلاس تھی۔ اُسی کلاس میں تمام سیاسی طلبہ تنظیموں کے سربراہ موجود تھے۔ پروفیسر صاحب نے میرے بارے میں خصوصی پوچھا۔ خوش گوار ماحول تھا، مگر مَیں خیالوں کی دنیا میں بہت آگے نکل چکا تھا۔ کلاس ختم ہوئی۔ آخری کلاس شاید مطالعہ پاکستان کی تھی، مَیں نے لائبریری دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلے بالکونی گیا، تو نیچے سے آوازیں آنے کا شور سُن کر فضل کریم مجھے کھینچ کر لائبریری میں لے گئے، جہاں اخباروں کو دیکھ کر مَیں حیران رہ گیا۔ پوچھا: ’’اخبار روزانہ کی بنیاد پر نئے آتے ہیں؟‘‘ کہا گیا: ’’جی، بڑے اہتمام کے ساتھ آتے ہیں اور یہاں لگ جاتے ہیں۔ اخبار میں لکیریں کھینچنا جرم ہے!‘‘ پھر نیچے اُترنے لگے، تو کہا گیا کہ نیچے اُترنے اور اوپر آنے کے لیے سیڑھیاں مخصوص ہیں۔ نیچے واقعی لائبریری کا ماحول تھا۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
جہانزیب کالج  
جہانزیب کالج، ریاستِ سوات کا علی گڑھ  
جہانزیب کالج کے ایلم رسالہ کی مختصر تاریخ  
اُردو زبان و ادب کی تاریخ میں جہانزیب کالج کی خدمات  
یہ کالج میں میرا پہلا دن تھا، خوابوں کا دن۔ واپس محلے میں آیا، تو دوست پوچھ رہے تھے کہ تمھارے ساتھ ’’فولنگ‘‘ ہوئی؟ میں حیران ہوا اور جواب دیا: ’’بالکل نہیں!‘‘
بس جب چھولوں کی پلیٹ لی، تو چھولے بیچنے والا ہنس رہا تھا۔ اُس کی یہ عادت مجھے زہر لگی۔ تھوڑے سے چھولے کھانے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ چھولوں کے نیچے مرچی زیادہ ڈالی گئی تھی۔ مَیں نے دل میں اُس پر طنز کیا کہ چھولوں کی پلیٹ بنانی نہیں آتی۔ مَیں نے محسوس نہ ہونے دیا کہ میزبان شرمندہ نہ ہو، مگر مجھے تکلیف بہت ہوئی ۔ (مرحوم) قاسم ایم جی آر، منظور ایگل بھی کھڑے تھے۔ قاسم بے وجہ ہنس رہے تھے۔ باقی خاموشی تھی۔ کئی دن بعد مجھے پتا چلا کہ مرچی ڈال کر دانستہ میرا استقبال اس طرح کیا گیا، یعنی مَیں ’’فولنگ‘‘ کا شکار ہوا تھا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔