تحریر: ثنا بی بی (سوات)
والیِ سوات جناب میاں گل جہانزیب کی علم دوستی کا منھ بولتا ثبوت ’’گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج‘‘ دنیا بھر میں مشہور و معروف ادارہ ہے اور اس کا شمار بہترین اور اعلا تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ اس لیے جہانزیب کالج والیِ سوات میاں گل جہانزیب کے نام سے موسوم ہے۔
پروفیسر شاہ عالم خان کے مطابق اس درس گاہ کا سنگ بنیاد 1950ء میں رکھا گیا تھا۔ اس میں پہلے نویں اور دسویں تک کلاسیں لی جاتی رہیں۔ بعد میں 15 ستمبر 1952ء کو باقاعدہ انٹرمیڈیٹ کی کلاسوں کا آغاز کیا گیا۔ ڈگری کلاسوں کا آغاز 1954ء میں کیا گیا، جس میں ابتدائی طور پر صرف دو طالب علموں ’’سیّد احمد جان‘‘ آ ف اسماعیلہ (صوابی) اور محمد اقبال آف اتمانزئی (چارسدہ) نے داخلہ لیا۔
جہانزیب کالج وہ عظیم درس گاہ ہے جس سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات ملکی اور بین الاقوامی طور پر اعلا عہدوں پر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں…… جن میں نامی گرامی سائنس دان، ڈاکٹر، پروفیسر، جج، وکیل اورانجینئروں کے علاوہ مصنفین، محققین اور شعرا بھی شامل ہیں۔
جہانزیب کالج میں تقریباً 21 کے قریب مختلف شعبے ہیں جن میں مختلف حوالوں سے تحقیقی کام ہو چکا ہے۔ وقت کے ساتھ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ ان شعبوں میں سائنسی علوم کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں جن میں فزکس، کیمسٹری، باٹنی، زوالوجی، میتھس، کمپیوٹر سائنس، انگلش، اُردو، پشتو، اسلامک اسٹڈیز، سیاسیات، سماجیات، شہریت، تاریخ، جسمانی تعلیم اور الیکٹرانکس وغیرہ کے شعبے شامل ہیں جہاں تحقیقی حوالوں سے کام ہو رہا ہے۔
شعبۂ اردو جہانزیب کالج کے دیگر شعبوں کی طرح انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں جہانزیب کالج میں بی ایس کی سطح پر تحقیقی کام ہورہا ہے۔ اگرچہ جہانزیب کالج میں اُردو زبان و ادب کا شعبہ پہلے سے موجود تھا لیکن بی ایس اُردو کا باقاعدہ آغاز 2012ء میں کیا گیا۔ شعبۂ اردو کے قیام سے اس شعبے میں بھی تحقیقی کام کا آغاز ہوا۔اس میں داخلہ لینے والے پہلے طلبہ 2016ء میں یہاں سے ڈگری لے کر فارغ ہوئے۔ شعبۂ اردو جہانزیب کالج کا عملہ پی ایچ ڈی ڈاکٹروں اور ایم فل سکالروں پر مشتمل ہے جو تحقیق کے اسرار و رموز سے خوب واقفیت رکھتے ہیں اور یہی صلاحیتیں وہ اپنے طلبہ میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
شعبۂ اردو جہانزیب کالج میں اب تک جن موضوعات پر تحقیقی حوالوں سے کام ہوا ہے ان میں سے چند کا ذکر حوالے کے لیے ضروری ہے۔ اب تک کی گئی تحقیقی کام کا مختصر احوال ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:
٭’’منیر نیازی کی شاعری میں اساطیر‘‘، مقالہ نگار: احسان الحق۔
٭ ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ میں موجود شاعری کا تنقیدی جائزہ، مقالہ نگار: عمر باچا۔
٭ ’’تلمیحاتِ احمد ندیم قاسمی‘‘، مقالہ نگاران: مدرار اللہ، محمد ریاض، محمد غنی۔
٭ ’’ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کے نسوانی کرداروں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘، مقالہ نگاران: شجاعت علی، شمیم اختر۔
٭ ’’ملک العزیز ورجنا: تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘، مقالہ نگار: بلال حسین۔
٭ ’’فیاض وردگ کی شاعری کا فکری و فنی جائزہ‘‘، مقالہ نگار: اعجاز خان۔
٭ ’’ناول خدا کی بستی میں خیر و شر کا تقابلی جائزہ‘‘، مقالہ نگار: عنایت اللہ۔
٭ ’’زیتون بانو کے افسانوں میں عورت کا تصور‘‘، مقالہ نگار: ساجد خان۔
٭ ’’ناصر کاظمی کی شاعری میں حزنیہ عناصر کا تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ نگار: نذیر۔
٭ ’’گھنگھرو ٹوٹ گئے میں رومانوی عناصر کا تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ نگار:محمد حسین۔
٭ ’’اظہار اللہ اظہارؔ کی شاعری میں ترقی پسند عناصر کا تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ نگار: فضل ستار۔
٭ ’’شائد کی روشنی میں جون ایلیا کی شاعری میں وجودیاتی عناصر کا جائزہ‘‘، مقالہ نگار: فضل ہادی خان۔
٭ ’’منور روؤف کے افسانوں میں اصلاحی رجحانات‘‘، مقالہ نگار: نگہت۔
٭ ’’نرملا کا تجزیاتی مطالعہ: معاشرتی جبر کے تناظر میں‘‘ ، مقالہ نگار: واجد علی۔
٭ ’’اسلامی ثقافت کی روح: تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ نگار: وسیم علی۔
٭ ’’مرزا غالب کی اُردو شاعری میں صنعت التفات‘‘، مقالہ نگار: عدنان امجد۔
٭ ’’غلام عباس کے افسانوں میں اہلِ حرفہ‘‘، مقالہ نگار:سدرہ سمیع۔
درجِ بالا تحقیقی کاوشیں صرف نمونے کے طور پہ پیش کی گئیں۔ ان کے علاوہ بھی دیگر مقالات موجود ہیں جن میں کلامِ اقبال اور خطباتِ اقبال کے حوالے سے کیا گیا کام سراہنے کے قابل ہے اور جن کا مطالعہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان مقالات سے شعبۂ اردو کے اساتذہ اور طلبہ نے ثابت کیا کہ وہ تحقیق کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ شعبۂ اُردو سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات ملکی سطح پر مختلف یونی ورسٹیوں سے ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کرچکے ہیں اور چند ایسے بھی ہیں جوسرکاری و غیر سرکاری محکموں میں مصروفِ عمل ہیں۔ شعبۂ اردو جہانزیب کالج میں بہترین عملہ موجود ہے جو ایچ ای سی کے معیار کے عین مطابق ہے۔ اگر یہاں بی ایس کے ساتھ ساتھ ایم فل کلاسوں کا اجرا کیا جائے، تو طلبہ و طالبات کو اپنے ہی علاقے میں ایم فل کی ڈگری حاصل کرنے کی سہولت مل جائے گی اور وہ طلبہ و طالبات جو دل میں اعلا تعلیم کا جذبہ تو رکھتے ہیں…… لیکن ایم فل کا شعبہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا خواب پورا نہیں کر پاتے…… ان کے خوابوں کو تعبیر بھی مل جائے گی۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔