بنجاریانو محلہ (مینگورہ سوات)
آئینی ترمیم پر بغلیں بجانے والوں کے نام
ابوبکر صدیق کی یاد میں
ریڈیو سے جڑی ہماری یادیں

کبھی کبھی بڑھتی ہوئی ایجادات کا طوفان انسان کو ماضی کی طرف حسرت سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے ۔موبائل نٹ ورک نے تو انسان کو بالکل جکڑ لیا ہے ۔ مجھے تو یاد نہیں رہا کہ آخری بار مَیں نے کب ٹی وی چلاکر دیکھا ہے ۔ خبریں بھی یوٹیوب پر دیکھتے ، پڑھتے […]
ڈاکٹر عبدالوہاب کی زندگی پر ایک نظر
کبھی خواب نہ دیکھنا (دسویں قسط)

مَیں نے سوات کے حکم ران خاندان کے ناموں، اُن کی اصل اور بادشاہ صاحب کی جد و جہد اور کامیابیوں کے بارے میں جانا۔ مَیں نے اُن کی بے رحم اور بے خوف لڑائیوں اور مشکل حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ مَیں نے سوات پر عبدالغفور المعروف […]
مشر حلیم وکیل صاحب کی یاد میں
محمود استاد صاحب کی یاد میں
رحمت اللہ خان کی یاد میں

قارئین! آج رحمت اللہ خان المعروف ’’رحمت لالا‘‘ ولدِ فضل مولا سیدو شریف کے بارے میں نشست لیتے ہیں۔ مینگورہ سوات کی پچھلی نسل کے آبائی شہری جب گراسی گراؤنڈ کے پاس سے گزرتے، تو یقینا رحمت لالا کی خوب صورت شخصیت دیکھے بغیر نہیں گزر پاتے ہوں گے۔ رحمت لالا ایک بہترین فٹ بالر، […]
پاکستان کا قیام، استحصال اور موجودہ تحریکیں: ایک جائزہ

ریاست کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی ضامن ہو۔ قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے، قطعِ نظر اس کے کہ اس کی قومیت، مذہب، نسل یا علاقے کا تعلق کیا ہے…… لیکن […]
ہمارے دور میں سینما گھروں کے ٹکٹ ریٹ

تحریر: ساجد آرائیں 1992ء میں جب سینما بینی کا آغاز ہوا، تو لاہور شہر کے سینماؤں کے ٹکٹ ریٹس معمولی سے فرق کے ساتھ مختلف ہوتے تھے۔ لاہور میں سینماؤں کی دو اقسام تھیں: مین سرکٹ کا سینما اور سائیڈ سینما۔ مین سرکٹ سے مراد سینما کی مرکزی مارکیٹ لاہور کے ایبٹ روڈ اور میکلورڈ […]
’’حیات‘‘ غلام فاروق اور ’’مرحوم‘‘ غلام فاروق

قارئین! غلام فاروق سے شناسائی تو معلوم نہیں کتنی پرانی ہے،مگر کالج میں پہنچا، تو پتا چلا کہ وہ ایک کلاس آگے تھا، آج کے غلام فاروق سے بہت مختلف۔ غلام فاروق ایک سیدھا سادھا، گرم جوش اور منھ پھٹ نوجوان تھا۔ لمبا چوڑا اور وجیہہ شخصیت کا مالک۔ غلام فاروق کی سنگت، زندگی اور […]
سٹیٹ فورسز کا مرکزی دفتر

ریاستِ سوات کا پورا سکرٹیریٹ جس میں حکم ران اور ولی عہد کے دفاتر بھی شامل تھے، اُنھی اونچی چناروں کے سائے میں تھا، جہاں آج کل کمشنر، آر پی اُو اور دیگر دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ریاست کا فوجی دفتر اسی بلڈنگ میں واقع تھا، جو ادغام کے بعد ابھی تک ڈسٹرکٹ کمپٹرولر […]
شاہی قلعہ چترال

چترال کا ’’شاہی قلعہ‘‘ کھوار قوم کی تہذیب و تمدن اور سلطنتِ چترال کی عظمت رفتہ کا امین ہے۔ یہ شمال کی طرف پاکستان کا آخری ضلع ہے۔ تاجکستان اور چترال کے درمیان 10 سے 12 میل لمبی واخان کی پٹی حائل ہے۔ کسی زمانے میں واخان کوریڈور کا یہ علاقہ بھی ریاستِ چترال کا […]
سارجنٹ میجر مہاتما گاندھی

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر سے ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج ختم ہوا اور گریٹ بریٹن کی بہ راہِ راست حکم رانی شروع ہوئی۔ اُس صدی کے آخر میں ’’انڈین سول سروس‘‘ کے ایک ریٹائرڈ آفیسر ’’اکٹیوین ہیوم‘‘ (Allan Octavian Hume) نے انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھ دی، تاکہ ہندوستانیوں کو سیاست […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (قسطِ اول)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جائے گا) مَیں (فضل رازق شہابؔ) 5 اپریل 1943ء کو سیدو شریف کے افسر آباد میں نسبتاً ایک چھوٹے گھر میں پیدا ہوا، جہاں ریاست کے اعلا عہدے […]
مسلم لیگ (ن) کی اداروں پر حملہ آوری کی تاریخ

مسلم لیگ (ن) کا مقدس اداروں پر حملہ آوری کا وطیرہ بہت پرانا ہے۔ عدالتیں جب بھی کوئی فیصلہ اس کی منشا اور خواہش کے مطابق نہیں دیتیں، تو یہ جماعت عدلیہ کے مقدس ادارے پرحملہ آور ہوجاتی ہے۔ 1998ء میں سپریم کورٹ پر حملہ کو کوئی کیسے فراموش کرسکتا ہے؟ میاں محمد شہباز شریف […]
مینگورہ کا بنگالی خاندان

نعیم اختر صاحب کا مشکور ہوں جنھوں نے مینگورہ بنگالی کورنئی (مینگورہ بنگالی خاندان) کا تعارف بہت آسان اور سادہ سا کیا ہے۔ یقینا مینگورہ شہر کے نوجوانوں کے لیے یہ تعارف آسانی پیدا کرے گا۔ یحییٰ خان اس ’’کورنئی‘‘ (خاندان) کی بنیاد رکھنے والے تھے، جن کے تین بیٹے تھے۔ ان کے نام اجڑ […]
چند تاریخی غلطیاں اور ان کی تصحیح

ہم ہر سال اگست کی 14 تاریخ ہندو، انگریز تسلط سے آزادی کا جشن مناتے ہیں اور اِک محب وطن پاکستانی کو جشنِ آزادی منانے پر فخر بھی محسوس کرنا چاہیے، لیکن کیا واقعی ہم نے تاجِ برطانیہ سے 14 اگست 1947ء کو مکمل آزادی حاصل کرلی تھی؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ زمانۂ طالبِ علمی […]
کیلاشی جدید تحقیق کے آئینے میں

28 جون 2024ء کی سہ پہر کو، نمازِ جمعہ کی ادائی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہی مولانا زبیر گورداسپوری صاحب فرمانے لگے کہ یار تم تو کہتے تھے کہ یہاں غیر مسلم لوگ آباد ہیں، مگر یہ مسجد تو نمازیوں سے بھری پڑی تھی۔ مَیں نے کہا کہ یہاں ’’شیخاں دیہہ‘‘ میں اَب […]
عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج سے وابستہ یادیں

پچھلے ہفتے جہانزیب کالج کے کچھ طلبہ کے ساتھ ایک بہت ہی مفید نشست رہی۔ مَیں اُن پیارے بچوں کا از حد ممنون ہوں، جنھوں نے نہایت تحمل سے مجھے سنا اور میری ثقلِ سماعت سے درگزر کرتے رہے۔ گفت گو کے اختتام پر اُن کے چند مختصر سوالات پر بحث سمیٹتے ہوئے میری توجہ […]