سید احمد بریلوی کا دورۂ سوات

سید احمد (شہید) بریلوی (1786ء تا 1831ء) جو شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیمات سے متاثر ہوکر ہندوستان میں اسلامی اقدار کے احیا کے علم بردار بنے، شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں، خاص طور پر پنجاب اور خیبرپختونخوا، میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے مظالم کے خلاف جہاد کے لیے سرگرم ہوئے۔سید احمد (شہید) […]
ریاستِ سوات دور کا ایک افسوس ناک واقعہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں ریاستی نیم مسلح نفری کی ایک مخصوص تعداد تعینات تھی، جو معمول کے مرمت کے کام، جیسے پتھر سے بنی گلیوں اور نالیوں کی مرمت و بہ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیس ویں قسط)

مَیں اپنی شادی کی تفصیلات کو چھوڑ رہا ہوں۔ وہ بہت دردناک ہیں۔ مَیں دوبارہ ان یادوں سے نہیں گزرنا چاہتا۔ وہ زخم برسوں پہلے بھرچکے ہیں۔ میری بیوی کو دو چیزوں کا جنون تھا، روح کی صفائی اور گھر کی صفائی۔ پہلے تو وہ 24 گھنٹوں میں 8 بار نماز پڑھتی تھی، جب کہ […]
شاہ روان کپتان

گاؤں ’’منگلور‘‘ سوات کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے، جس کو نظر انداز کرکے سوات کی تاریخ کو سمجھا جاسکتا ہے، نہ یوسف زئی تاریخ مکمل ہوتی ہے، نہ قدیم سواتیوں بارے روشنی ہی مل سکتی ہے۔ آپ اگر مزید تفصیل میں جائیں، تو سمجھ لیں کہ اس گاؤں بغیر قدیم بدھ مت اور […]
سید محمد المعروف کچے اُستاد

مینگورہ شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔ اردگرد کے پہاڑوں پر بھی آبادیوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گنجان آباد ترین شہروں اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کے لحاظ سے مینگورہ شہر پہلے نمبروں پر آتا ہے۔جب مینگورہ شہر کی لمبائی کی حد محض سہراب خان چوک تک تھی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (سترھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (سولھویں قسط)
بنجاریانو محلہ (مینگورہ سوات)
گلِ نرگس سے جڑی یادیں

ایک وقت تھا (90ء کی دہائی) جب مینگورہ شہر کی ندی کا پانی صاف ہوا کرتا تھا، مجھے یاد ہے اس کے پانی سے اہلِ مینگورہ وضو کیا کرتے تھے۔ خواتین کپڑے دھونے جب کہ لڑکے بالے نہانے آیا کرتے۔ ندی کے دونوں طرف گلِ نرگس (جنھیں ہم پشتو میں اُس وقت گُلِ گنگس پکارا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (دسویں قسط)

مَیں نے سوات کے حکم ران خاندان کے ناموں، اُن کی اصل اور بادشاہ صاحب کی جد و جہد اور کامیابیوں کے بارے میں جانا۔ مَیں نے اُن کی بے رحم اور بے خوف لڑائیوں اور مشکل حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ مَیں نے سوات پر عبدالغفور المعروف […]
مشر حلیم وکیل صاحب کی یاد میں
’’حیات‘‘ غلام فاروق اور ’’مرحوم‘‘ غلام فاروق

قارئین! غلام فاروق سے شناسائی تو معلوم نہیں کتنی پرانی ہے،مگر کالج میں پہنچا، تو پتا چلا کہ وہ ایک کلاس آگے تھا، آج کے غلام فاروق سے بہت مختلف۔ غلام فاروق ایک سیدھا سادھا، گرم جوش اور منھ پھٹ نوجوان تھا۔ لمبا چوڑا اور وجیہہ شخصیت کا مالک۔ غلام فاروق کی سنگت، زندگی اور […]
مینگورہ کا بنگالی خاندان

نعیم اختر صاحب کا مشکور ہوں جنھوں نے مینگورہ بنگالی کورنئی (مینگورہ بنگالی خاندان) کا تعارف بہت آسان اور سادہ سا کیا ہے۔ یقینا مینگورہ شہر کے نوجوانوں کے لیے یہ تعارف آسانی پیدا کرے گا۔ یحییٰ خان اس ’’کورنئی‘‘ (خاندان) کی بنیاد رکھنے والے تھے، جن کے تین بیٹے تھے۔ ان کے نام اجڑ […]
عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج سے وابستہ یادیں

پچھلے ہفتے جہانزیب کالج کے کچھ طلبہ کے ساتھ ایک بہت ہی مفید نشست رہی۔ مَیں اُن پیارے بچوں کا از حد ممنون ہوں، جنھوں نے نہایت تحمل سے مجھے سنا اور میری ثقلِ سماعت سے درگزر کرتے رہے۔ گفت گو کے اختتام پر اُن کے چند مختصر سوالات پر بحث سمیٹتے ہوئے میری توجہ […]
مینگروال بنجاریان

مینگورہ شہر میں آباد ایک قدیم محلہ جو اَب بھی باقی شہر کے برعکس اپنی انفرادیت اور بنیادی ڈھانچا قائم رکھے ہوئے ہے، محلہ بنجاریان ہے۔ اس میں قائم بنجاریان مسجد جس میں کسی وقت احمدین طالب بہ حیثیت طالبِ علم مقیم تھے، اس کی زمین باچا صاحب نے وقف کی اور بنجاریانوں (بنجاریوں) نے […]
جہانزیب کالج میں میرا پہلا دن

جب بھی کبھی جہانزیب کالج کے سامنے سے گزرتا ہوں، تو لگتا ہے کہ کسی قریبی رشتے دار کی قبر کے سامنے سے گزر رہا ہوں۔ دراصل بچپن سے جہانزیب کالج کا ایک رعب مجھ پر قائم رہا۔ والد (مرحوم)، چچا، ماموں اور جس کو بھی مَیں جانتا تھا، جہانزیب کالج سے گریجویشن کرچکے تھے۔ […]
ون مین آرمی ’’فیاض ظفر‘‘

یہ 2009ء کے ظالم طویل دن تھے، جن میں ایک ایک لمحہ گھنٹے جتنا لمبا محسوس ہوتا تھا۔ سوات میں قانون نامی شے کا وجود نہیں تھا۔ ریاست سرنگوں تھی۔ مولانا صوفی محمد کو ریاست نے زمین پر ناک رگڑ کر باعزت رہا کیا تھا۔ سید طلعت حسین صاحب سے شناسائی کے لیے کئی حوالے […]
امیر دوست خان دھوبی

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے […]
قوم کا پیسا مَیں معاف نہیں کرسکتا (والئی سوات)

یہ نہایت خوش آیند بات ہے کہ اس سال پانچ جون کو مرحوم والیِ سوات میاں گل جہان زیب کا یومِ ولادت شایان شان طریقے سے منانے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دراصل اُس طلسماتی شخصیت کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے کہ ریاست کے ادغام پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود […]
خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]