ریاستی دور میں رکھے جانے والے عام نام

شاید آپ لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ پشتو سپیکنگ لوگوں میں بالعموم اور سواتیوں میں بالخصوص بعض نامانوس، نامعلوم اور مہمل قسم کے نام رکھے جاتے ہیں، جن میں بعض کے تو معنی بھی نہیں نکلتے۔ مثال کے طور پر ’’جانس‘‘ (Janas) ایک عام سا نام ہے، مگر میری سمجھ […]
روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]
مور پنڈیٔ کاکا (مدین) کی یاد میں

عبد الرحیم میاں، جنھیں عام طور پر مور پنڈیٔ کاکا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اخوند خیل میاں گان کے چشم و چراغ تھے۔ اُن کی پیدایش 1872ء کے آس پاس تیرات مدین سوات میں ہوئی اور 1949 عیسوی بہ مقام مور پنڈیٔ (مدین) میں ہوئی۔ عبد الرحیم کاکا کے والدِ بزرگوار کا […]
سوات، 1965-66ء کے خوف ناک زلزلے

غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں […]
عجب خان حاجی صاحب کی یاد میں

6 مئی 2020ء کے ایک بہت ہی تھکا دینے والے دن عین نمازِ عصر کی اذان کے ساتھ عجب خان حاجی صاحب نے اذان کا جواب دینا اور کلمۂ شہادت پڑھنا شروع کیا۔ اذان ختم ہوئی اور حاجی صاحب خاموش ہوگئے۔ فوراً رحمان اللہ بابو صاحب کو بلایا گیا، وہ لمحوں کے حساب سے پہنچے […]
ملوک حاجی صاحب، ایک سچا دوست

گذشتہ کچھ دنوں سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر چند مخصوص دوستوں کی جانب سے مینگورہ کی ایک نام ور شخصیت کے بارے میں کچھ ہونی اَن ہونی باتیں سامنے آتی رہیں۔ مَیں نے ایک آدھ کا جواب دیا بھی…… مگر آج جی چاہتا ہے کہ کچھ متنازع باتوں کو نظر انداز […]
صنوبر استاد صاحب

سنہ 1980ء کی دہائی میں جن اساتذہ کا توتی بولتا تھا، اُن میں سے ایک صنوبر اُستاد صاحب بھی تھے۔ خورشید علی میرخیل، صنوبر اُستاد صاحب کے داماد اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حاجی بابا میں ’’سیکنڈری سکول ٹیچر‘‘ (ایس ایس ٹی) کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ صنوبر […]
حاجی سیف الملوک (ملوک حاجی صیب) کی یاد میں

ضیاء الحق کا دور تھا۔ وہ پوری فوجی طاقت اور جلال کے ساتھ مسندِ اقتدار پر براجمان تھے۔ ان کے نیچے لیفٹیننٹ جنرل فضل حق سرحد کے گورنر اور صوبائی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ طاقت تو رکھتے ہی تھے مگر اُن کا نشہ اُس طاقت سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ساجد امان کی دیگر تحاریر […]
کچھ باجکٹہ (بونیر) کے سید کریم خان کے بارے میں

غالباً1961ء کا سال تھا۔ اگست کا مہینا تھا اور برسات کا موسم تھا۔ ہم یعنی ’’سٹیٹ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ‘‘ کا عملہ اپنے سربراہ محمد کریم صاحب کے ساتھ آلوچ میں ایک دن رات گزارنے کے بعد واپس سیدو شریف کی طرف آرہے تھے۔ ڈھیرئی پہنچے، تو شدید بارش ہونے لگی۔ سڑک کچی تھی اور بارش […]
کچھ ناخواندہ ماہرِ تعمیرات عبید اُستاد کے بارے میں

آج کی نشست عبید استاد کے نام کرتا چلوں۔ عبید استاد، دستخط مستری کی طرح اَن پڑھ تھے اور دستخط مستری ہی کی طرح ماہرِ تعمیرات تھے۔ 1928ء سے جولائی 1969ء تک جب ریاست ختم ہوئی، بونیر میں جتنی بھی ریاستی عمارات از قسم ہسپتال، سکول، ڈسپنسری، رہایشی مکانات، عدالتیں اور پل تعمیر ہوئے، وہ […]
ہماری بچپن کے روزوں کی یادیں

رمضان شروع ہوا چاہتا ہے۔ رمضان شریف کا برکتوں والا مہینا ہے اور دُکان داروں نے چھریاں تیز کردی ہیں۔ کوئی مال چھپا رہا ہے، کوئی سجا رہا ہے۔غریب کا تو ہمیشہ سے برا حال ہے۔ اس دفعہ متوسط طبقہ بھی پریشان ہے کہ کس طرح رمضان کو "Manage” کرنا ہے۔ مَیں تو ذاتی طور […]
والئی سوات کے پرائیویٹ سیکرٹری پردل خان لالا

بیورو کریسی چاہے پاکستان جیسے بڑے ملک کی ہو، یا سوات کی مختصر سی ریاست کی۔ کئی مشترک قدریں رکھتی ہے۔ مثلاً: ’’کرپشن۔‘‘ یہ ضروری نہیں کہ سول اور ملٹری بیورو کریسی "As a whole” بدعنوانی میں ملوث ہو۔ وہ جو کہتے ہیں: ’’ہر بیشہ گمان مبر کہ خالی است، شاید کہ پلنگ خفتہ باشد۔‘‘ […]
پروفیسر خواجہ عثمان علی کی آمد اور کچھ پرانی یادیں

ٹائم تو مَیں نے نہیں دیکھا، مگر شام سے تھوڑی دیر پہلے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میرا پوتا مزمل باہر گیا اور واپس آکر بتایا کہ ’’پروفیسر خواجہ عثمان علی صاحب آئے ہیں۔‘‘ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ یقین کیجیے مَیں تھوڑا سا […]
ہماری کیرم بورڈ سے جڑی جوانی کی یادیں

کل پرسوں اپنے پوتوں کے ساتھ کیرم کھیل رہا تھا۔ مَیں نے ایک دفعہ ویسے کَہ دیا کہ مجھے وہ دن بہت یاد آرہے ہیں، جب مَیں ڈگر کالج کی کالونی میں قیام پذیر تھا۔ ہم یعنی پروفیسر ہمایوں خان، پروفیسر قاضی عبدالواسع اور ہمارے ایس ڈی اُو جمیل الرحمان صاحب اور مَیں شام کے […]
فتنۂ قادیانیت اور لڑکپن کی یادیں

آج کل کے ایک متنازع فیصلے پر اُٹھتے ہوئے ’’سوشل میڈیائی ہنگامے‘‘ نے مجھے کالج کے وقتوں کا ایک واقعہ یاد دِلا دیا۔ سب سے پہلے کچھ اُس کا نقشا کھینچ لوں۔ 1958ء میں جب مَیں نے جہانزیب کالج میں داخلہ لیا۔ اُس وقت میرے بچپن کے دوست اسفندیار ’’سیکنڈ ائیر‘‘میں تھے، یعنی مجھ سے […]
بزوگر حاجی صاحب

ہمارے یہاں سوات میں کئی بزرگوں کے نام ایسے ہیں، جنھیں سن کر عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے ناموں میں خچن، چڑی، بدے، خڑے اور ہمارے دادا (مرحوم) کا نام ’’بزوگر‘‘ شامل ہیں۔ اولاد اچھی ہو، تو صدقۂ جاریہ کے مصداق والدین کے لیے دعاؤں کا ذریعہ بنتی ہے۔ بری ہو، تو اولاد کے […]
ریاست سوات دور کا شگئی سکول

شگئ سکول سیدو شریف کے ساتھ ہماری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ مرغزار روڈ کے کنارے ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے ۔ 1949ء کے ابتدا میں ودودیہ ہائی سکول کے پرائمری بلاک میں مختصر مدت کے بعد ہم کو اس نئے تعمیر شدہ سکول میں منتقل کیا گیا۔ یہاں پر ہمارے اولین […]
سوات، 1971ء کے انتخابات کی ایک یاد

سوسائٹی سے شایستگی اور رواداری اُٹھ گئی ہے۔ ہما شما قسم کے لوگ سیاست میں کیا آئے، شرافت کا جنازہ نکل گیا۔ اتنے چھچھورے لوگ لیڈر بن گئے ہیں، جو پہلے تو بہ وقتِ ضرورت آپ کو باپ بھائی اور دوست بنائیں گے…… اور منتخب ہونے کے بعد اُن کی گردنوں میں سریا لگ جاتا […]
آڑو کے سوات پر منفی اثرات

سوات کی اِکالوجی اور اِکانومی دونوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی فصل ’’آڑو‘‘ ہے۔ گرمیاں اب بدبودار اور ناقابلِ برداشت ہوگئی ہیں۔ فضا میں ہر وقت 8 مہینے مختلف قسم کی دوائیوں کی بد بو پھیلی رہتی ہے۔ پرندوں کی کئی اقسام ناپید ہوچکی ہیں۔ سبزہ و شادابی کا وہ احساس جو […]
تاریخی ودودیہ سکول کے اولین طلبہ

جیسا کہ سکول ریکارڈ سے ظاہر ہے، ودودیہ ہائی سکول کے دوسرے دور کا آغاز یکم اپریل 1952ء کو ہوا۔ جب سنٹرل جیل سیدو شریف کو مناسب ترمیم کے ساتھ سکول میں تبدل کیا گیا۔ ہم پانچویں کلاس میں اس کے ابتدائی طلبہ میں شامل ہوئے۔ میرے اس وقت کے کلاس فیلوز میں میرے بڑے […]
خونہ چم کا تاریخی چشمہ

آج بیٹھے بیٹھے بلاوجہ خونہ چم کے چشمے کی یاد آگئی۔ ہم اُن دنوں چھوٹے بچے تھے ۔ یہی کچھ 5 یا 6 سال کے۔ شگئی سکول میں پڑھتے تھے۔ روزانہ چاہے گرمی ہو یا سردی…… افسر آباد سے لے کر شگئی سکول تک جانا معمول رہتا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]