تانگا اور یادوں کا اُمنڈتا طوفان

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

مجھے اپنا بچپن اور خاص کر 90ء کی دہائی اچھی خاصی باریکیوں کے ساتھ یاد ہے۔ اس حوالے سے ’’مینگورہ، اک شہر بے مثال‘‘ کے عنوان سے راقم کا 12 اقساط پر مشتمل ایک تحریری سلسلہ ان صفحات کی زینت بن چکا ہے۔ کامریڈ امجد علی سحاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے […]

یادوں کی پوٹلی سے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سرِ دست اہل دانش سے ایک سوال ہے۔ سب سے پہلے تو یہ واضح کروں کہ مَیں ذات پات کے حوالے سے قرآنی رہنمائی کا قائل ہوں کہ شعوب و قبائل صرف پہچان کے لیے ہیں…… اور اکرام صرف اعمال و تقوا کی بنیاد پر ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے […]

ایک شکار کی کہانی

کومبڑ سے نویکلے چوک تک سڑک کی لمبائی تقریباً 2 کلومیٹر ہے۔ اس کو سرکاری ریکارڈ میں کانڑہ بابا روڈ کہتے تھے، لیکن اس کے اور بھی عوامی نام تھے۔ جیسے: مری روڈ، ٹھنڈی سڑک۔ اس کے زیادہ تر لمبائی میں دونوں کناروں پر نہریں اور درخت ہوا کرتے تھے۔ آبادی کا دور دور تک […]

عبدالروف طوطا اور ڈاکٹر نجیب صاحب سے جڑی یادیں

٭ طوطا ایک نیچرل منتظم تھا۔ موقع اور تقریب کیسی بھی ہو، بس اس پر سب کچھ چھوڑو۔ طوطا جانے اور پروگرام۔ میرا خیال ہے یہ ان کی "Inborn” خصوصیت تھی۔اُن بھائیوں میں یہ خوبی شاید اُن کو گھٹی میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ آپ مسکن کی مثال لیجیے۔ کئی سالوں سے عثمان غنی […]

سفید محل (وائٹ پیلس) سے جڑی یادیں

White Palace

2 9 اکتوبر کو بعد از دوپہر ابوہا سے چلے سوئے مرغزار۔ کئی سال بعد اس سحر آنگیز گوشۂ عافیت کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں چند لمحے گزار کر عہدِ گذشتہ کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ کچھ ماضی کی جھلکیاں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]

ماضی کی پوٹلی سے

Fazal Raziq Shahaab

مَیں بچپن کی بعض باتیں صرف اس لیے دُہراتا ہوں کہ شاید کوئی اُن وقتوں کا ابھی تک زندہ ہو اور اُس سے رابطہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ سیدو شریف کے موجودہ رکشوں کے سٹینڈ سے جو گلی سیدو بابا کی مسجد کی طرف نکلتی ہے۔ اُس کے دونوں طرف اُن دنوں مکانات تھے۔ […]

ریاستی دور کے ودودیہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ودودیہ ہائی سکول کے سو (100) سال پورے ہونے کے موقع پر اسی سکول سے میٹرک کرنے والے ایک بے مثال طالب علم کے بارے میں کچھ معلومات آپ سے شیئر کروں گا۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ ’’اسفندیار‘‘ ہمارے بچپن اور جوانی […]

علامہ نورالاسلام (فلائنگ کوچ مولوی صیب)

Comrade Amjad Ali Sahaab

آج سے 22 یا 23 سال قبل نمازِ تراویح پڑھنے کے لیے ہمیں ’’محمد رحمان مسجد‘‘ (زڑہ ڈاکخانہ، مینگورہ) جانا پڑتا تھا، جہاں ’’فلائنگ کوچ مولوی صیب‘‘ محض 17، 18 منٹ کے دورانیے میں مختصر تراویح کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ بلا کے خوش طبع تھے لیکن رُکیے، اُن کے بارے میں کچھ رقم کرنے […]

تاریخی ’’گیمن کمپنی‘‘ کا ریاستِ سوات میں کام

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج 22 ستمبر کی صبح کو فیس بُک پر ایک ویڈیو ’’گیمن پل خوازہ خیلہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہم ہر پُل کو ’’گیمن‘‘ سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: […]

چکیسر سے جڑی چند یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سنہ 1962، 63ء کی بات ہے۔چکیسر میں ایک شادی کے موقع پر رات کو رقص اور موسیقی کا پروگرام تھا، جو کھلی جگہ میں ہورہا تھا۔ چند معزز صاحبان تو کرسیوں پر بیٹھے تھے۔باقی سب لوگ کثیر تعداد میں دائرے کی صورت کھڑے تھے۔ مَیں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ نسبتاً ایک نیم تاریک […]

محمد افضل خان لالا کی یاد میں

Fazl e Mahmood Rokhan

سوات بلکہ پورے پاکستان میں محمد افضل خان ’’خان لالا‘‘ کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہین۔ وہ اپنے نام کے ساتھ خان نہیں لکھتے تھے۔ گو کہ وہ سوات کے نامی گرامی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اپنا نام صرف ’’محمد افضل‘‘ لکھا کرتے تھے۔ فضل محمود روخان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]

افسر آباد کی کچھ یادیں

Afsar Abad Saidu Sharif

جب مَیں نے ہوش سنبھالا، تو اُس وقت ہماری مسجد افسر آباد (سیدو شریف) کے امام حافظ بختیار صاحب تھے۔ ان کی رہایش محمد شیرین کمان افسر صاحب (بعد میں کپتان/ منصف) کے پڑوس میں تھی۔ مسجد اُس وقت ایک بہت بڑے کمرۂ صلات، برآمدہ اور ایک کمرہ صحن کے کنارے باہر سے آئے طلبہ […]

ولی عہد میانگل اورنگزیب (مرحوم) سے وابستہ کچھ یادیں

آج جب مَیں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، 3 اگست ہے، جو ریاستِ سوات کے ولی عہد میانگل اورنگزیب کا یومِ وفات ہے۔ اُن کی زندگی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ کئی ڈاکیومینٹریز اُس سدا بہار شخصیت کے بارے میں ایک کلک کی دوری پر موجود ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر […]

ہیروڈوٹس آف سوات، ڈاکٹر سلطانِ روم

ہیروڈوٹس (Herodotus)، 484 تا 425 قبلِ مسیح کا ایک یونانی مورخ تھا، جس نے قدیم دنیا کی پہلی عظیم تواریخ (Histories) لکھیں۔ رومی قانون دان، فلسفی اور خطیب مارکس تولیئس سسرو نے بجا طور پر ہیروڈوٹس کو بابائے تاریخ قرار دیا۔ ایشیائی یونانی ہیروڈوٹس کا آبائی وطن ہالی کارناسس ایونیا میں کیریا (موجودہ ترکی میں […]

توپوں کی صفائی اور پریڈ کے نہ بھولنے والے دن

بچپن میں ہم ہفتے کے دو دن بہت خوش رہتے۔ ایک دن توپوں کی صفائی کا اور دوسرا رسالے، بگلرز اور مشین گن دستے کی مشترکہ پریڈ کا۔ توپ خانے کے کمان افسر عبدالحنان ہمارے پڑوسی تھے اور ہمیں اپنے بیٹوں اسفندیار اور اختر حسین کی طرح پیار کرتے تھے۔ صفائی کے مقررہ روز ہم […]

وادئی چغرزئی (بونیر) سے وابستہ چند یادیں

1969ء میں ادغامِ ریاست کے بعد بھی چغرزئی کا پورا علاقہ کئی سال تک سڑک سے محروم رہا۔ ریاستی دور میں بدال تک ایک کچی سڑک بنی ہوئی تھی، جو اُسی دور میں تعمیر شدہ سٹیٹ ڈسپنسری بدال کے قریب ختم ہوجاتی تھی۔ آگے چغرزئ کے مختلف دروں اور دیہاتوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل […]

سوات ہوٹل

’’سوات ہوٹل ‘‘، جسے اَب ’’سوات سیرینہ ہوٹل‘‘ کے نام سے پہچانا اور یاد کیا جاتا ہے، ریاستِ سوات کے دور میں میاں گل جہان زیب المعروف والی صاحب کے دورِ حکم رانی میں سرکاری ہوٹل کے طور پر وجود میں آیا۔ سرکاری ہوٹل میں تبدیل کرنے یا سرکاری ہوٹل قرار دینے سے قبل اس […]

محمد شیرین کمان افسر

آج کی نشست میں ایک تاریخ ساز شخصیت سے آپ کو ملواتا ہوں۔ ان کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ محمد شیرین کمان افسر ہیں، جو ریاست کے گھڑ سوار دستے کے کمان دار تھے۔ سیدو شریف ہی کے رسال دار غلام محمد ان کے سیکنڈ اِن کمانڈ تھے۔ فضل رازق […]

حاجی شیرزادہ (مرحوم)، مینگورہ کے ایک کامیاب تاجر

فون کی گھنٹی بجی۔ سکرین پر نظر ڈالی، تو پتا چلا کہ محمد خلیل قاضی صاحب بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ کال اُٹھائی، تو دوسری طرف سے آواز آئی: ’’ارے سحابؔ! تمھاری فیس بک وال پر حاجی شیرزادہ کے انتقال کی خبر پڑھی۔ یار، وہ تو مینگورہ شہر کے کامیاب کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے […]

بریکوٹ ہائی سکول، ریاستی دور کی نشانیوں میں سے ایک

ریاستِ سوات کے دور میں تعمیر ہونے والے اکثر سکول دہشت گردی کے دوران میں اڑادیے گئے۔ بچ جانے والے ہائی سکولوں میں بریکوٹ کا سکول بھی شامل ہے، جیسا کہ اس کے بورڈ سے ظاہر ہے۔ یہ سکول 1965ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے تعمیر کے دوران میں، مَیں چکیسر میں ڈیوٹی پر […]

یادوں کے دریچے سے

غلط فہمی ہوجائے، تو بڑی مشکل سے اِزالہ ہوتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ہم بہ سلسلۂ ملازمت ڈگر میں مقیم تھے۔ رہایش کی شدید قلت تھی۔ ہم ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں رہنے پر مجبور تھے۔ پورا علاقہ بونیر بجلی سے محروم تھا اور ابھی وہ […]