کامریڈ بہادر شیر افغان کون ہے؟

جب معلوم و نامعلوم قوتوں کی جانب سے حالیہ اہلِ سوات کی نبض ’’سہ بارہ‘‘ چیک کی جا رہی تھی، تو مٹہ میں ایک سیاہ پوش شخص جو میانہ قد تھا، جس کے بال بھونسلے، داڑھی صاف، موچھ گھنی اور آواز گرج دار ہونے کے ساتھ ساتھ پُراعتماد بھی تھی۔ وہ تیور بدل بدل کر […]
میری واحد منفی خفیہ رپورٹ

4 اپریل 2003ء کو جب میں 60 سال کی عمر میں ملازمت سے سبک دوش ہوا، تو الوداعی پارٹی کے بعد ہیڈکلرک نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور ایک ضخیم فائل مجھے دکھاتے ہوئے کہاکہ گھر جاتے وقت یہ ساتھ لے کے جانا۔ فائل کے اُوپر موٹے لفظوں میں لکھا ہوا تھا: ’’اینول کانفڈنشل […]
ہمارے دور کی چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات

آج دراصل مجھے اچانک خیال آیا کہ اپنے لڑکپن کے ملبوسات کے بارے میں کچھ آپ حضرات کے گوش گزار کروں…… اور چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات کی یادیں بھی تازہ کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ اُس دور میں […]
60ء کی دہائی کا سوات

بچپن میں ایک عوامی گیت سنا تھا۔ کچھ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ ’’اگر یہی صورتِ حال رہی، تو مینگورہ بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘کہ داسے حال وی نہ ٹینگیگی منگورہ ورتہٹینگ شہ زرگرہ ورتہاجمالاً کسی زرگر نے ٹانگ میں مکان بنوایا تھا، تو برسات کے پہلے ریلے میں بہ گیا تھا۔کسی […]
The Archaeology of Swat Between the Two World Wars (Part 02)
5 جون، جشنِ سوات اور چند یادیں

سوات کا جشن 1949ء کے بعد ہر سال 12 دسمبر کو یومِ تاج پوشی کے نام سے منعقد ہوتا تھا۔ اس موقع پر بیرون ریاست سے بھی سرکاری مہمان آتے تھے۔ سوات کی شدید سردی اُن کے لیے ایک مشکل طلب مسئلہ تھی۔ چند سال بعد والیِ سوات نے فیصلہ کیا کہ 12 دسمبر کی […]
The Archaeology of Swat Between the Two World Wars (Part 01)
ریاستِ سوات کے سول اور عدالتی نظام کے چند پہلو

قطعِ نظر اس بات کے کہ معترضین کیا کہتے ہیں…… اور مجھے کن القاب سے نوازتے ہیں……وہ جانے اور ان کا ضمیر! میرے خیال میں سابقہ ریاستِ سوات کا نظام جس طرح 52 سال تک چلتا رہا، جس طرح اس سسٹم نے ارتقا کے مراحل طے کیے اور جو عین میچورٹی کی حالت میں زمین […]
ماضی کے جھروکے سے

سورج غروب ہو رہا تھا۔ مَیں اپنی دانست میں مینگورہ سے اپنے گھر سیدو شریف جا رہا تھا۔ میری عمر اُس وقت بہ مشکل کوئی 9، 10 سال ہوتی ہوگی۔ بازار بالکل سنسان دکھائی دے رہا تھا۔ تانگوں کا اڈا بھی خالی تھا۔ اگر کئی تانگا ہوتا بھی، تو میرے پاس ایک پیسا بھی نہیں […]
یادِ ماضی

ودودیہ سکول کے پرائمری بلاک میں ہمیں ادنا جماعت میں پڑھتے ایک مہینا بھی نہیں گزرا تھا کہ ہمیں سیدو شریف سے جنوب کی طرف مرغ زار جانے والی سڑک کے کنارے شگئ کے مقام پر نئے تعمیر شدہ ’’اینگلو ورنیکولر مڈل سکول‘‘ میں منتقل کردیا گیا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
سانحۂ پبلک سکول سنگوٹہ، ذہن میں شیطان گھس گیا تھا، ملزم کا اقبالِ جرم

(خصوصی رپورٹ) سنگوٹہ پبلک سکول میں سکول وین پر فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار عالم خان نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالِ جرم کرلیا۔ ملزم نے بتایا کہ اُس وقت اُس کے ذہن میں شیطان گھس گیا تھا، جس کی وجہ سے اُس نے فائرنگ کی۔ اِس سے پہلے منگلور پولیس نے سکول وین ڈرائیور حمید […]
تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی اور جمہوریت

ملاکنڈ ڈویژن کا علاقہ، بشمول باجوڑ، برطانوی ہند سے ایک امتیازی آئینی حیثیت کا حامل تھا۔ یہ خصوصی آئینی حیثیت پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد سارا عرصہ برقرار رہی۔ 1969 ء تک بحیثیتِ سوات، دیر اور چترال کی ریاستوں اور ملاکنڈ پروٹیکٹیڈ ایریا (عرف عام میں ملاکنڈ ایجنسی) اور باجوڑ کے، یہاں […]
د ترھہ گرو واپسی او اولسی پاسون Return of Terrorists & Public Uprising
سوات: ایک تنقیدی جائزہ

(اس مضمون کا قریباً دو تہائی حصہ کتابی سلسلہ ’’دنیازاد‘‘ کی کتاب نمبر 25 (2009ء) اور روزنامہ آزادی سوات کے 9 تا 14 دسمبر 2009ء کے شمارہ جات میں جب کہ پورا ’’ماہنامہ شعور سوات‘‘ کے جلد نمبر 1، شمارہ جات نمبر 2 تا 5، 2010ء میں شائع ہوا تھا۔ اب اسے لفظونہ ڈاٹ کام […]
سرزمینِ سوات (تبصرہ)

برصغیر پاک و ہند پر جب انگریز حکم ران تھے، تو وہ اپنا تسلط قائم رکھنے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے مختلف حربوں سے کام لیتے تھے۔ جہاں وہ طاقت کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرسکتے، تو اپنی بے محابا عسکری قوت سے کام لیتے، جہاں انھیں محسوس ہوتا کہ بات چیت یا نرم […]
جہان آباد بدھا

نہ جانے کیوں مجھے جہان آباد پہنچ کر ایک عجیب سے اطمینان کا احساس ہوتا ہے؟ اس کی ایک وجہ شاید شہر کے ہنگاموں سے دور اس مقام کا پُرفضا ہونا ہے اور دوسری وجہ یہاں پتھر پر کندہ شدہ گوتم بدھ کا ایک بڑا مجسم ہے جو تقریباً 13 سے 14 صدیوں پرانی تاریخ […]
شرب گل

کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں، سوات میں ایک ’’شرب گل‘‘ (یا شرف گل) نامی مزاحیہ فن کار ہوا کرتا تھا جو لوگوں کو ہنساتا تھا۔ نامی گرامی لوگوں کو بھری محفل میں مذاق مذاق میں گالیوں سے بھی نوازتا تھا اور لوگ پھر بھی ہنستے تھے۔ کوئی ان کے منھ سے گالی کھا کر […]