تصوف و خودی… اقبال کی فکری کش مہ کش

علامہ اقبالؔ نے اپنے ایک خط میں سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ ’’تصوف عالم اسلام میں اجنبی پودا ہے۔‘‘ تصوف اسلام کے ابتدائی دنوں میں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں تھا۔ مارٹن لِنگز اپنی کتاب (What is Sufism) میں لکھتے ہیں: ’’جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ تصوف، مذہب […]
امریکی خارجہ پالیسی اور رجیم چینج

20ویں صدی کے وسط میں اور جنگِ عظیم دوم کے بعد یورپی طاقتیں (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کم زور ہوگئیں۔ جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین دو مضبوط طاقتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ 1946ء میں ونسٹن چرچل کے "Iron Curtain” خطاب میں وہ کہتے ہیں کہ ایک لوہے کا پردہ برِاعظم (یورپ) پہ اُتر […]
خالی پن اور بیگانگی

کشور ناہید نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ محلے اور برادری کی محبتیں اور تعلق، اس ’’ڈیپ فریزر‘‘ نے برباد کردیا ہے۔ وہ ایسے کہ گھر میں کھانا زیادہ پک جاتا، شادی بیاہ کی دیگ اضافی ہوجاتی، یا قربانی کا گوشت، تو وہ پہلے برادری کے نام پر تقسیم کیا جاتا یا پھر […]
صیہونیت اور نازی ازم کی مماثلتیں

پہلی جنگِ عظیم میں شکست کے بعد جرمنی کے کئی خواب ٹوٹ گئے۔ تیسری دنیا میں نو آبادکاری، ولیم قیصر دوم کا جرمن کو دنیا کی برتر نسل ثابت کرنا اور یورپ کی قیادت جیسے خواب چکنا چور ہوگئے۔ 1919ء کی ’’ٹریٹی آف ورسائلز‘‘ (The Treaty of Versailles) کے بعد جرمنی کو حزیمت کا سامنا […]
نکسل واد تحریک کا دوسرا رُخ

ہندوستان کے بیش تر صحافتی، سیاسی اور علمی حلقوں میں تین الفاظ کا نہایت ہی غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ ’’اُگرواد‘‘، ’’الگاواد‘‘ اور ’’آتھنک واد‘‘ یعنی انتہا پسندی، علاحدگی پسندی اور دہشت گردی۔یہ الفاظ فلموں سے لے کے ہندوستانی میڈیا پر ہر جگہ سنائی دیتے ہیں۔ من پسند انتہا پسندوں کے لیے یہ الفاظ استعمال […]
ہندوستان میں کمیونسٹ تحریک کی تاریخ

’’جان ریڈ‘‘ (John Reed) نے روسی انقلاب پر اپنی شعرہ آفاق کتاب کو ’’تاریخ کو جھنجھوڑ دینے والے دس دن‘‘ (Ten Days That Shook the World) کا نام دیا تھا۔ دراصل اُس انقلاب نے صرف روس کو نہیں، بل کہ دنیا بھر کے محنت کشوں کو جھنجھوڑا تھا اور وہ اپنے طرزِ زندگی کے اثر […]
سامراج کے راستے کی دیوار ’’ابراہیم تراورے‘‘
’’جپسیز‘‘ کا مختصر تاریخی جائزہ

آریاؤں سے لے کر عربوں تک اور عربوں سے لے کر ترک، افغان اور انگریزوں تک، ہندوستان ہزاروں سال سے بیرونی اقوام کے لیے آماج گاہ رہا…… لیکن ہندوستان میں رہنے والی ایک ایسی قوم بھی تھی، جو اپنی دھرتی چھوڑ کے دنیا کے کئی حصوں میں قیام پزیر رہی اور پھر وہ جگہیں بھی […]
ہپی تحریک کا مختصر جائزہ

1960ء کی دہائی میں یورپ اور امریکہ کے خاندانوں کی روایتی اقدار اور نو عمر نوجوانوں کی ثقافتی اقدار کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا تھا۔ اس ’’جنریشنل گیپ‘‘ کی کئی وجوہات تھیں، جن میں جنگِ عظیم دوم کے بعد کا کنزیومر کلچر، اخلاقی اقدار میں تبدیلی، میڈیا اور ٹیکنالوجی نمایاں تھیں۔ ’’برتھ کنٹرول پلز‘‘ (Contraceptives) […]
جاپانی اور نازی جرمن فوج کا فرق

دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی:ایک طرف یورپی سامراجی طاقتیں، روس اور امریکہ تھیں۔دوسری طرف جرمنی، جاپان اور اٹلی جیسی طاقتیں تھیں۔پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مختلف وجوہات نے 20 سال کے عرصے تک دوسری جنگ عظیم کا راستہ ہم وار کیا۔ ’’ٹریٹی آف ورسائلز‘‘ (Treaty […]
مارکس ازم اور قومی سوال

قومی سوال کی بحث 20ویں صدی میں شروع ہوئی جس کا مقصد ’’نیشن‘‘، ’’نیشنل ازم‘‘ اور اس کے ساتھ جڑے مسائل کو منظرِ عام پہ لانا تھا۔ 1648ء میں ’’ٹریٹی آف ویسٹ فیلیا‘‘ (The Treaty of Westphalia) میں قوم کا ایک نیا نقطۂ نظر سامنے آیا۔ یہ معاہدہ کیتھولکس اور پروٹسٹنٹس کے بیچ 30 سال […]
عدم تشدد: عقیدہ یا نظریہ؟

عدم تشدد کی تاریخ ہندوستان میں آریائی تہذیب سے پہلے کی ہے، لیکن ہندوستانی، عدم تشدد کو آریائی تہذیب سے جوڑتے ہیں۔ چوں کہ دراوڑیوں کے ہاں عدم تشدد کو مذہبی مقام حاصل نہیں تھا، اس لیے یہ ایک آریائی نظریہ ٹھہرا۔ صدیوں تک آریا نسل مقامی دراوڑیوں کو مغلوب کرتی آئی۔ دراوڑیوں کو مغلوب […]
سارجنٹ میجر مہاتما گاندھی

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر سے ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج ختم ہوا اور گریٹ بریٹن کی بہ راہِ راست حکم رانی شروع ہوئی۔ اُس صدی کے آخر میں ’’انڈین سول سروس‘‘ کے ایک ریٹائرڈ آفیسر ’’اکٹیوین ہیوم‘‘ (Allan Octavian Hume) نے انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھ دی، تاکہ ہندوستانیوں کو سیاست […]
روس اور گرم پانی

افغانستان دنیا کے اُن چند ممالک میں ہے، جو زیادہ تر جنگ زدہ رہے۔ شاہ شجاع اور دوست محمد کی لڑائی سے لے کے اَب تک افغانستان ایک مستقل حالتِ جنگ میں رہا یا پھر یہی سے حملہ آور ہندوستان پہ قابض ہوئے۔ انگریزوں کے ہندوستان آنے کے بعد افغانستان کا خطہ روس اور برطانوی […]
تہذیب یا بربریت؟

جرمن فلسفی ’’والٹر بِنیامن‘‘ نے کہا تھا کہ تہذیب کی ہر یادگار، بربریت کی یادگار ہے۔ اپنے آپ کو باقی دنیا کے لوگوں سے مختلف سمجھنے کو تہذیب کا نام دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب انفرادیت اختیار کرگئی اور ان اصولوں کو جن کے اوپر تہذیب بنی ہے، اس کے ماننے والوں کو […]
صوبائی خودمختاری کیوں ضروری ہے؟

پاکستان کا بننا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہے۔ یہ وجوہات مغلیہ سلطنت کے اختتام سے لے کر تقسیمِ ہند تک پیدا ہوتی رہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں دو قومیتوں کی بنیاد رکھ دی تھی، یعنی مسلمان اور ہندو۔ مذکورہ دو قومیتوں کے درمیان خلیج نے دو الگ شناختیں […]
نیو کولونیل ازم کیا ہے؟

’’لینن‘‘ نے اپنی ایک کتاب میں سامراج کو سرمایہ داری کی انتہائی منزل قرار دیا تھا۔ لینن کے اس تجزیے کو حتمی نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ سامراجیت سرمایہ داری کی انتہائی منزل تو ہوسکتی ہے، لیکن آخری نہیں۔ "Ghana” کے مشہور انقلابی لیڈر ’’کوامے نکروما‘‘ (Kwame Nkrumah) کی کتاب ’’نیو کولونیل ازم: سامراج کی […]
کولونیل ازم کیا ہے؟

کولونیل ازم (Colonialism) کی ابتدا یورپ سے ہوئی، جب پرتگالی سمندری رستوں کی تلاش میں نکل گئے۔ شروعات میں یہ منڈیوں تک رسائی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی دریافت تھی، جو بعد میں اُن کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوئی۔ عثمانیوں کے زمینی رستے بند کرنے کا نقصان مشرق ہی کو اُٹھانا پڑا۔ کیوں […]