کام یابی کا گر سکھانے والی کتاب

تبصرہ: تنویر گھمن زندگی کی تیز رفتاری ہمیں کئی سمتوں میں کھینچ رہی ہے۔ ایک ہی وقت میں کئی کام، بے شمار فیصلے اور نہ ختم ہونے والی ذمے داریاں۔ ہم جتنا زیادہ مصروف رہتے ہیں، خود کو اتنا ہی کام یاب سمجھتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ہم حقیقت میں آگے بڑھ […]
’’معین الطریقت‘‘ کا مختصر سا جائزہ

تبصرہ: سیمیں کرن’’معین الطریقت‘‘ جب میرے ہاتھ آئی جو کہ شیخ ابنِ عربی کے رسالہ ’’الامر المحکم المربوط فی ما یلزم اہل طریق اللہ من الشروط‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے اور اسے اُردو قالب میں پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی نے ڈھالا ہے۔ وہ خود ایک معروف علمی روحانی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ بہت […]
ناول ’’موبی ڈک‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عبد اللہ خالد ہرمین میلول (Herman Melville) جو 19ویں صدی کے ایک امریکی مصنف تھے، جن کی کہانیاں سمندری مہمات، انسان کی نفسیات اور قسمت کے کھیل کے گرد گھومتی ہیں۔ 1819ء میں نیویارک میں پیدا ہونے والے میلول نے اپنی جوانی میں مختلف ملازمتیں کیں، لیکن بالآخر سمندر نے اُنھیں اپنی طرف راغب […]
’’ون فلیو اُوور دی کوکوز نیسٹ‘‘ اور ہمارا نظامِ تعلیم

دوسرے ہسپتالوں کے برعکس یہ ایک سرد، بے رحم جگہ تھی، جہاں سفید دیواریں اور تیز روشنیاں مریضوں کے بے جان چہروں پر پڑ رہی تھیں۔ ہوا میں جراثیم کُش دوا کی بُو اور مایوسی کی ایک گہری چادر تھی، جسے نرس ’’ریچڈ‘‘ اپنی پُرسکون لیکن کنٹرول کرنے والی آواز سے مزید گہرا کر رہی […]
’’دی سائلنس آف دی لیمبز‘‘ اور معاشرتی حقیقت

تصور کریں کہ ایک لمبا، تاریک اور سرد راستہ، جہاں روشنی کبھی کبھی جھپکتی ہے اور ہوا میں عجیب سا خوف محسوس ہوتا ہے، جیسے ہر کونے میں کوئی چھپی ہوئی کہانی ہو۔ یہ راستہ ایک ایسی جگہ کی طرف جاتا ہے جہاں دنیا کے سب سے خطرناک ذہنوں کو قید کیا گیا ہے اور […]
گیبرئیل گارشیا مارکیز ناول ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ (تبصرہ)

تحریر: شیراز حسن کولمبیا کے نوبیل انعام یافتہ ادیب گیبرئیل گارشیا مارکیز (Gabriel Garca Mrquez) کی وفات کے 10 سال بعد اُن کے جنم دن کے موقع پر اُن کے ایک گم شدہ ناول کی اشاعت ہوئی ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘۔ چھے ابواب پر مشتمل تقریباً 100 صفحات پر مشتمل یہ مختصر ناول مارکیز اپنی […]
فارن ہائیٹ 451 (تبصرہ)

تبصرہ نگار: عمران اعوان کورش ’’فارن ہائیٹ 451‘‘ دراصل ’’رے بریڈ بری‘‘ (Ray Bradboury) کا ناول ہے، جسے شائع کیا ہے ’’سٹی بک پوائنٹ‘‘ نے اور مترجم ہیں فاطمہ رحما صاحبہ، جو خود اس ناول کے بارے میں اپنی رائے کچھ اس انداز سے پیش کرتی ہیں: ’’70 سال پہلے لکھا گیا ناول، مصنف کے […]
خالد حسینی کا ایک دل چسپ ناول

تبصرہ: نوشابہ کمال کافی پہلے کہیں پڑھا تھا:’’جس کا درد اُسی کا درد، باقی سب تماشائی!‘‘ خالد حسینی کا ناول ’’آ تھازؤنڈ سپلینڈڈ سنزز‘‘ پڑھ کر کچھ ایسا ہی احساس ہوتا ہے۔ مختلف عالمی طاقتوں کے لیے افغانستان ایک اکھاڑا تھا، جہاں سب نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے ملک اور چند اور ممالک […]
’’منطق الطیر جدید‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: احمد خیال ’’خواجہ فریدالدین عطار نیشا پوری‘‘ کی مثنوی ’’منطق الطیر‘‘ مستنصر حسین تارڑ کے حواس پر ایسے چھائی کہ اُن کے ناول ہوں، یا حقیقی زندگی، پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ اور چہکار گونجتی سنائی دیتی ہے۔ تارڑ کے ناولوں میں موجود پرندوں سے تو آپ یقینا آگاہ ہوں گے۔ حقیقی زندگی میں اُن […]
کتاب ’’جانے دیں‘‘ کے 10 اسباق

تحریر و تلخیص: طاہر راج پوت کتاب ’’جانے دیں‘‘ جھک جانے کی طرف راستہ ہے۔ یہ کتاب جو زندگی کے بہاو کے ساتھ چلنے کا نام ہے، سے 10سنہری اُصول نذرِ قارئین ہیں: ٭ اٹیچمنٹس کو چھوڑ دیں:۔ اپنی خواہشات، مطلوبہ نتائج اور توقعات کے ساتھ اٹیچمنٹ چھوڑ دیں۔ زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول […]
’’ودرنگ ہائٹس‘‘ عشقِ بلا خیز کی داستاں

تبصرہ: انور مختار شہزاد حسین بھٹی صاحب ’’ہم سب بلاگ‘‘ پر اس ناول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایملی کا ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ پہلی بار 1847ء میں ایلس بیل کے قلمی نام سے شائع ہوا، لیکن 1850ء میں شائع ہونے والا ایڈیشن ان کے حقیقی نام سے چھاپا گیا۔ یہ ناول گوتھک فکشن ہے […]
ناول ’’اندھیرے میں‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عمر خان رابندر ناتھ ٹیگور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اُن کا شہرہ آفاق ناول ’’ٹھاکرانی کی ہاٹ‘‘ ٹیگور کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے، جس کا اُردو ترجمہ پرتھوی راج نشتر نے ’’اندھیرے میں‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا […]
ودرنگ ہائیٹس (تبصرہ)

تحریر: فاطمہ عروج راؤ ایملی برونٹے (Emily Bront) کا ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘(Wuthering Heights) ایک شاہ کار ناول ہے، جو 1847ء میں ’’مس کاٹلی نیوبی پبلشرز، لندن‘‘ سے تین جلدوں میں شائع ہوا۔ ایملی برونٹے برطانوی مصنفہ ’’شارلٹ برونٹے‘‘ (جن کی شہرہ آفاق تصنیف ’’جین آئر‘‘ ہے) کی بہن تھیں۔ ’’ایملی برونٹے‘‘، ’’شارلٹ برونٹے‘‘ اور ’’این […]
شارلٹ برونٹے کا ناول ’’جین آئر‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: فاطمہ عروج راؤ ’’شارلٹ برونٹے‘‘ (Charlotte Brontë) کا ناول ’’جین آئر‘‘ جس پر اَب تک تقریباً 10 فلمیں بن چکی ہیں، ایک فکشن ناول ہے۔ شارلٹ برونٹے ایک برطانوی مصنفہ تھیں، جن کا پہلا ناول اس لیے شہرت نہ پاسکا، کیوں کہ مصنفہ ایک گم نام لڑکی تھی…… لیکن ’’جین آئر‘‘ کے مشہور […]
کلیلہ و دِمنہ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: زین سلیم دنیا کی 40 بڑی زبانوں میں ترجمہ ہونے والا ہندوستانی کلاسیک شاہ کار ’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ کہانیوں اور داستان کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کو مشہور عربی ادیب عبد اللہ بن المقفع نے عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ ابن المقفع نے اسے اپنے ہی انداز میں لکھا۔ پھر اُردو ترجمہ مفتی […]
گھاس کی پتیاں (تبصرہ)

تحریر: اقصیٰ گیلانی والٹ وٹمن 1819ء میں امریکی شہر نیویارک کے ایک غریب مستری کے گھر پیدا ہوا۔ 9 بہن بھائیوں میں اُس کا دوسرا نمبر تھا۔ وہ صرف چار پانچ برس ہی سکول جا پایا اور فقط 11 برس کی عمر میں تعلیم چھوڑ کر پہلے باپ کے ساتھ مزدوری کرنے لگا اور پھر […]
توروالی-انگلش ڈکشنری برائے طلبہ کا جائزہ

ہمارا، ادارہ برائے تعلیم و ترقی (آئی بی ٹی)، کا عزم ہے کہ حالات جس قدر بھی ناساز ہوں اور وسائل ناپید ہوں، ہم نے اپنی محبوب مادری زبان کے احیا اور فروغ کے لیے کسی بھی صورت میں کام جاری رکھنا ہے، اور اپنے لوگوں کے لیے اور تعلیمی، علمی و تحقیقی حلقوں کے […]
جنت کی تلاش (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز ’’مُلک ہار جائے، تو کچھ نہیں ہوتا۔ آدمی مر جائے، تو کچھ نہیں مرتا۔انسان کی اُمنگ مار دی جائے، تو سب کچھ مر جاتا ہے۔‘‘ ذی روح انسان کے نزدیک جنت کی کنجی نیکی و بدی، خیر و شر، اچھائی و برائی کے ترازوے میں تو لے جانے والے نامۂ اعمال […]
موت کی خوشی (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز ’’البرٹ کامیو‘‘ کے اس ناول کے توسط میری ملاقات ورکنگ کلاس کے ایک ایسے نوجوان سے ہوئی ہے، جو دن رات خوشی کے حصول کے لیے سرگرداں رہتا ہے۔ اُس کے نزدیک خوشی سے مراد دولت ہے۔ دولت کے بغیر انسان خوش و خرم، مطمئن اور پُرسکون نہیں رہ سکتا۔ وہ […]
اینمل فارم (تبصرہ)

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز ’’جارج آرویل‘‘ سے میرا پہلا تعارف اُن کی کتاب ’’1984‘‘ سے ہوا۔ ’’1984‘‘ جارج آرویل کا وہ ناول ہے، جو سال 1984ء میں 40 لاکھ سے زاید کی تعداد میں فروخت ہوا۔ اب اتنے سال گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ کتاب متعدد اداروں سے مختلف زبانوں میں شائع ہو رہی […]
کاندید (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز خوف زدہ، حواس باختہ،گُم صم، لہولہان اور لرزہ براندام کاندید خود سے سوال کرتا ہے: ’’اگر یہی بہترین دنیا ہے، تو اس سے بدتر کون سی ہوگی؟ مجھے جو کوڑے لگے ہیں، اُنھیں تو مَیں نظر انداز کرسکتا ہوں۔ اس لیے کہ اس سے قبل بلغاریوں نے بھی میرے ساتھ ایسا […]