ماضی میں جو مذاکرات ہوئے، وہ کسی مخصوص مقصد یا فوجی ضرورت کے تحت ہوئے، لیکن جیسے ہی مقصد پورا ہوا، سیاسی فضا پھر کشیدگی کا شکار ہوگئی۔ ’’تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان‘‘ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک جامع ایجنڈا پیش کیا، جو کسی ایک شخصیت یا جماعت کے مفاد کے بہ جائے قومی مسائل، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور محاذ آرائی کے خاتمے پر مبنی تھا، لیکن اس ایجنڈے پر سنجیدگی سے پیش رفت نہ ہوسکی اور نتیجتاً دونوں جانب خاموشی چھاگئی، جب کہ مسائل جوں کے توں برقرار رہے۔
پاکستان میں ایک بار پھر مفاہمت اور مذاکرات کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر خطاب کے دوران میں اپوزیشن کو میثاقِ جمہوریت اور معیشت کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان ہے تو ہم ہیں، اس لیے جو بھی قربانی دی جائے، کم ہے۔‘‘
محمود خان اچکزئی نے اسی اجلاس میں شہباز شریف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کہتے ہیں کہ غلطیوں کی اصلاح ہوسکتی ہے۔ آئیں، بیٹھیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں۔ اس پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔ اسی میں ملک اور عوام دونوں کا فائدہ ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوا، تو ہم شہباز شریف کی غیر مشروط حمایت کریں گے۔ آئیں، ایک معاہدہ کریں، تاکہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگ نہ کھینچیں اور جو بھی انتخابات جیتے، وہ پانچ سال تک حکومت کرے۔‘‘
تاہم حکومت کی جانب سے کوئی مُثبت جواب سامنے نہیں آیا۔
قارئین! وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے اپوزیشن کو میثاقِ جمہوریت اور مذاکرات کی جو دعوت دی ہے، وہ بادی النظر میں سنجیدہ نہیں لگتی۔ تحریکِ انصاف سمجھتی ہے کہ اگر واقعی وزیرِ اعظم شہباز شریف سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں، تو وہ تحریکِ انصاف کو اُن سے چھینی گئی نشستیں واپس کریں، جب کہ آگے بڑھنے کے لیے لازم ہے کہ نو مئی کے واقعات کو قانونی یا سیاسی طور پر نمٹایا جائے… لیکن دونوں آپشن پر کوئی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ تحریکِ انصاف کو یقینِ کامل ہے کہ شہباز شریف یہ سب کچھ کرنے سے قاصر ہیں، لہٰذا ایسے میں مذاکرات بھی محض ایک سیاسی نعرہ ہی ثابت ہوسکتے ہیں۔
وفاقی وزیرِ قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا سیاسی رابطوں اور اپوزیشن کے تحفظات کے بارے میں کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں اپوزیشن اراکین کے مطالبات اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبات وعدے کے مطابق وزیرِ اعظم تک پہنچا دیے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومتی صفوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ملک کی سالمیت، معاشی استحکام اور سیاسی استحکام کی حقیقی فکر لاحق ہوتی، تو وہ پہلی مرتبہ وزیرِ اعظم بننے کے بعد آئین اور قانون کے مطابق صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور قومی اسمبلی کے انتخابات بروقت کرا لیتے، لیکن ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر ایسا نہ کیا گیا۔ اب جب کہ وہ دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنے ہیں، تو دونوں ایوانوں، یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی، سے ایسی آئینی ترامیم منظور کرائی گئی ہیں کہ ریاستی ادارے اپنی اصل حیثیت کھوتے جا رہے ہیں اور نادیدہ قوتوں کے اثر و نفوذ کے تاثر کو مزید تقویت مل رہی ہے۔
وزیرِ اعظم، اپوزیشن جماعت ’’تحریکِ انصاف‘‘ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، لیکن مذاکرات کے لیے راہ ہم وار نہیں کر رہے۔ تحریکِ انصاف، جو اب ملک کی سب سے بڑی پارلیمانی اور سیاسی جماعت ہے، کے بانی عمران خان، مرکزی و صوبائی قائدین اور عام کارکنان پورے ملک میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان مقدمات میں عمران خان، مرکزی و صوبائی قیادت اور کارکنوں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جب کہ بعض اب بھی عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔
اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات سے پہلے عمران خان کی اپنی بہنوں، وکلا اور پارٹی قائدین سے ملاقات کرائی جائے، انھیں علاج کے لیے ’’شفا انٹرنیشنل‘‘ منتقل کیا جائے، لیکن حکومت ایسا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں چاہتے ہیں کہ ملک میں امن و سکون ہو، سیاسی اور معاشی استحکام پیدا ہو، تاکہ سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوں، مگر یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امن و امان اور سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری ممکن نہیں۔ اس کے باوجود حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس حقیقت سے نظریں چراتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر واقعی حکومت ایسا چاہتی ہے، تو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔
حکومت نے قانون سازی کے ذریعے ریاستی اداروں کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی ہے اور ہائبرڈ جمہوری نظام کے لیے ایسے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں، جو بہ ظاہر مذاکرات کے نام پر پیش کیے جاتے ہیں، لیکن درحقیقت ہائبرڈ نظام کے قیام کی ایک منظم کوشش محسوس ہوتے ہیں۔
حکومت اور تحریکِ انصاف، دونوں کی مذاکرات سے متعلق باتیں سن کر وسیم بریلوی کا یہ قطعہ یاد آتا ہے کہ
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
گھر سجانے کا تصور، تو بہت بعد کا ہے
پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










