مدارس، مساجد و معاشرے پر اعتراضات کا جائزہ

Blogger Suhail Sohrab

آج کل بعض حلقوں میں یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ 10 کلومیٹر کے علاقے میں آپ کو 20 مساجد اور 25 مدارس تو مل جائیں گے، لیکن ایک بھی معتبر اور دیانت دار شخص نہیں ملے گا۔
اسی طرح بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ عصری تعلیم نے انجینئر، ڈاکٹر، سائنس دان، سیاست دان اور ماہرین پیدا کیے ہیں، مدارس نے کیا دیا ہے…؟ جب کہ کچھ لوگ یہ دعوا بھی کرتے ہیں کہ فرقہ واریت اور معاشرتی خرابیوں کی جڑ مدارس ہیں۔
دیکھا جائے، تو یہ اعتراضات بہ ظاہر دل کش معلوم ہوتے ہیں، لیکن اگر انھیں تعصب کے بہ جائے انصاف اور حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے، تو ان کی حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
کیا مساجد اور مدارس کی موجودگی اخلاقی برائیوں کے خاتمے کی ضمانت ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسجد اور مدرسہ ہدایت اور اصلاح کے مراکز ہیں، جبر اور نگرانی کے ادارے نہیں۔ اگر کسی علاقے میں ہسپتال موجود ہو اور پھر بھی لوگ بیمار ہوں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہسپتال ناکام ہیں؟ اگر سکول اور یونیورسٹیاں موجود ہوں اور پھر بھی جرائم پیش آئیں، تو کیا اس سے تعلیمی اداروں کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے؟
مساجد اور مدارس لوگوں کو دین، اخلاق، عبادت اور انسانیت کی تعلیم دیتے ہیں، لیکن کسی شخص کا ان تعلیمات پر عمل کرنا یا نہ کرنا اُس کا ذاتی اختیار ہے۔ قرآنِ مجید میں انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ اُنھوں نے حق کا پیغام پہنچایا، مگر سب لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ لہٰذا صرف اس بنیاد پر مساجد اور مدارس کو ناکام قرار دینا کہ معاشرے میں اب بھی خرابیاں موجود ہیں، ایک غیر منطقی طرزِ استدلال ہے۔
مدارس نے معاشرے کو کیا دیا؟
یہ سوال دراصل مدارس کے اصل مقصد کو سمجھے بغیر کیا جاتا ہے۔ مدارس کا بنیادی مقصد انجینئر، ڈاکٹر یا پائلٹ بنانا نہیں، بل کہ دین کے محافظ، علما، مفتیانِ کرام، خطبا، ائمہ مساجد، قرا، مفسرین اور دینی راہ نما تیار کرنا ہے۔ جس طرح میڈیکل کالج، ڈاکٹر بناتا ہے اور انجینئرنگ یونیورسٹی، انجینئر… اسی طرح مدرسہ عالمِ دین تیار کرتا ہے۔
اگر مدارس نہ ہوتے تو:
قرآنِ مجید کی تعلیم اور حفظ کا نظام باقی نہ رہتا۔ حدیث، فقہ اور اسلامی علوم کی تدریس کا سلسلہ منقطع ہو جاتا۔ نکاح، جنازہ، وراثت اور شرعی راہ نمائی کے لیے علما دست یاب نہ ہوتے۔ لاکھوں مساجد میں امامت اور خطابت کا نظام قائم نہ رہتا۔ اسلامی علمی ورثہ نئی نسلوں تک منتقل نہ ہو پاتا۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مدارس سے فارغ ہونے والے ہزاروں علما نے پوری زندگی انتہائی سادہ حالات میں گزار کر دین کی خدمت کی ہے، جب کہ ان کے پاس دولت اور دنیاوی آسایشیں حاصل کرنے کے بے شمار مواقع موجود تھے۔
کیا عصری تعلیم یافتہ طبقہ تمام مسائل سے پاک ہے؟
بعض لوگ عصری علوم کی کام یابیوں کا ذکر کرتے ہوئے مدارس پر تنقید کرتے ہیں۔ یقیناً سائنس، طب، انجینئرنگ اور دیگر علوم، انسانیت کے لیے نہایت مفید ہیں اور ان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا… لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کرپشن، رشوت، مالی فراڈ، سیاسی بدعنوانی، منشیات کی اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور قومی وسائل کی لوٹ مار مدارس کے فارغ التحصیل افراد کرتے ہیں، یا انھی جدید تعلیمی اداروں سے نکلنے والے لوگ بھی ان میں شامل ہوتے ہیں؟
اگر چند علما یا مدارس کی غلطیوں کی وجہ سے پورے دینی نظام کو موردِ الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے، تو پھر چند بدعنوان ڈاکٹر، انجینئر، جج، وکیل یا سیاست دانوں کی وجہ سے پوری جدید تعلیم کو بھی ناکام قرار دینا چاہیے۔ حال آں کہ ایسا کوئی انصاف پسند شخص نہیں کرسکتا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی ادارے کی قدر اُس کے مقصد اور مجموعی خدمات سے کی جاتی ہے، نہ کہ چند افراد کی کوتاہیوں سے۔
کیا فرقہ واریت کی جڑ مدارس ہیں؟
فرقہ واریت ایک پیچیدہ سماجی، تاریخی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ اسے صرف مدارس کے کھاتے میں ڈالنا حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں، نسلی تعصبات، سیاسی کش مہ کش اور نظریاتی اختلافات صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہے۔ جدید تعلیم یافتہ معاشروں میں بھی نسل پرستی، قوم پرستی، لسانی تعصب اور سیاسی انتہا پسندی پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت مدارس کی ایسی ہے، جو قرآن، حدیث، عبادات اور اخلاقیات کی تعلیم دیتی ہے۔ اگر کہیں کوئی شدت پسندی یا تعصب پایا جاتا ہے، تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے… لیکن چند مثالوں کی بنیاد پر ہزاروں مدارس کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف کے خلاف ہے۔
مساجد اور مدارس کی خاموش خدمات:
اکثر لوگ صرف تنقید دیکھتے ہیں، مگر وہ خدمات نہیں دیکھتے، جو خاموشی سے انجام دی جا رہی ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق:
لاکھوں بچوں کو مفت تعلیم دینا۔
غریب طلبہ کے لیے رہایش اور خوراک کا انتظام۔
قرآنِ مجید کی تعلیم اور حفظ۔
معاشرے میں اخلاقی اور روحانی تربیت۔
نکاح، جنازہ اور دینی راہ نمائی کی خدمات۔
قدرتی آفات اور مصیبتوں میں امدادی سرگرمیاں۔
نشے اور جرائم سے بچاو کے لیے اصلاحی کوششیں وغیرہ۔
یہ سب خدمات دراصل کسی بڑے اشتہار یا میڈیا مہم کے بغیر جاری رہتی ہیں، اسی لیے اکثر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مدارس تمام مسائل کا حل ہیں اور نہ جدید تعلیمی ادارے۔ صحت مند معاشرے کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کو ڈاکٹر بھی چاہیے اور عالم دین بھی، انجینئر بھی چاہیے اور حافظِ قرآن بھی، سائنس دان بھی چاہیے اور اخلاقی راہ نمائی کرنے والا معلم بھی۔
دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ مدارس کی اصلاح جہاں ضروری ہو، وہاں کی جائے… لیکن ان کی خدمات کا انکار نہ کیا جائے۔ اسی طرح جدید تعلیم کی اِفادیت کو تسلیم کیا جائے، مگر اسے اخلاق اور دین سے بے نیاز نہ سمجھا جائے۔ ایک متوازن معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں علمِ دین اور عصری علوم ایک دوسرے کے معاون بنیں، نہ کہ ایک دوسرے کے مخالف۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے