ایک بہت ہی بہترین قول نظر سے گزرا تھا کہ ’’حقیقت کے ساتھ جینا بہتر ہے، ورنہ یاد رکھیں کہ ایک دِن بنا آپ کی اجازت کے حقیقت خود آپ کے ساتھ جینے آئے گی۔‘‘
حقیقت پیچیدہ موضوع ہے، لیکن اس کی پیچیدگی کو کسی حد تک آسان بناکر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ خاص کر ایسے دور میں جہاں فریبِ نظر کا راج ہے۔
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ishaq/
سائنس کہتی ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ حقیقت کیا ہے، اور ہم اس کو سمجھنے کے لیے صرف اپنے دماغ پر منحصر نہیں رہ سکتے۔ کیوں کہ آپ کا دماغ ایک خاص طریقے سے اور ایک محدود حد تک حواس کے ذریعے دنیا کو سمجھتا اور پرکھتا ہے۔ ان حواس سے پرے کے معاملات اسے نہیں معلوم (کچھ حقائق کو جاننے کے لیے ہم نے سائنس کی مدد سے آلات بنائے ) اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی حس کے ذریعے جو بھی تجربہ کرتے ہیں، وہ حقیقت نہیں…… لیکن عموماً جیسا آپ محسوس کرتے یا پھر سوچتے ہیں اور جب نتائج آپ کی سوچ کے برعکس ہوں، تب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ معاملات اتنے آسان اور بالکل ویسے نہیں، جیسا سطح پر نظر آتے ہیں۔
انسانوں کو دو قسم کی حقیقت کا سامنا ہے بقول نیوروسائنس دانوں کے۔ ایک تو فطرت کی اپنی حقیقت (Physical Reality) اور دوسری انسانوں کی سماجی حقیقت (Social Reality)، اور یہ حقیقت ہمارا دماغ بناتا ہے، مثال کے طور پر فطرت کے اعتبار سے پیسے کی کوئی حقیقت نہیں۔ آپ ڈالر سے بھرا بیگ خلا میں لے جائیں، تو یقینا اس کی وہاں کوئی قدر نہیں، لیکن دُنیا میں اِن کاغذ کے ٹکڑوں پر ہم اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار ہیں…… تو کیا ہم غلط ہیں؟ بالکل بھی نہیں! کیوں کہ انسان کے لیے سماجی حقیقت اتنی ہی اصلی اور اہم ہے، جتنا کہ فطرت کی حقیقت۔ دُنیا میں ہم ان کاغذ کے ٹکڑوں یعنی کہ پیسوں کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے۔ ایسے ہی ممالک کے درمیان بننے والی سرحدیں جو فطرت کے اعتبار سے تو بے کار ہیں، لیکن ہم انسانوں کی سماجی حقیقت کے مطابق وہ اصلی ہیں اور اِن سرحدوں کے اُس پار بنا اجازت کے جانے پر آپ کو مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فُلاں چیز سماجی تعمیر (Social Construct) ہے، اور اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ سچ نہیں ہے! سماجی تعمیر ہمارا دماغ تشکیل دیتا ہے اور ان سماجی تعمیر سے ملنے والی تکالیف آپ کے دماغ پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ فضول رسومات، منفی باتوں یا غربت کا اثر آپ کے دماغ پر پڑتا ہے، چاہے آپ کتنا ہی اس بات سے انکار کرلیں۔
سماجی حقیقت ہماری سپر پاؤر ہے۔ ہم کسی بھی نئے ٹرینڈ کو بناتے ہیں۔ سب لوگ اس پر متفق ہوتے ہیں اور پھر ہم اسے حقیقت ماننا شروع کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر قوانین جن کو فالو کرنے سے نظام بہتر چلتا ہے۔
سماجی حقیقت کی اپنی کچھ حدود اور منفی اثرات ہیں، مثال کے طور پر کچھ نظریات/ تصورات کسی ایک طبقہ/ قوم کے حق میں بہتر تو باقی کے طبقات/ اقوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سرمایہ دارانہ نظام کا فائدہ سرمایہ دار کو ہے، تو اس کا نقصان دوسرے طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو ہے۔
ڈاکٹر لیزا ایک سائنس دان ہیں اور عموماً سائنس دان دور رہتے ہیں سیاست سے، لیکن لیزا اپنی کتاب کے ایک باب میں کہتی ہیں کہ میں ابھی سیاست کے گندے کیچڑ میں قدم رکھ کر کہوں گی کہ اگر سیاست دان عوام کی بھلائی چاہتے ہیں، تو انسانی دماغ اور اس پر سماجی حقیقت (Social Reality) سے پڑنے والے منفی اثرات کو مدِنظر رکھنا ہوگا۔ آپ سیاست کو سائنس سے الگ نہیں رکھ سکتے۔ آپ کو انسانی دماغ اور ذہن کو مدِنظر رکھ کر پالیسی تشکیل دینی ہوگی۔ اگر ہمارا ملک غریب اور کرپٹ ہے، تو اس غربت، کرپشن اور لاقانونیت کا اثر ہمارے دماغ اور صحت پر ہوتا ہے۔
پاکستان میں اگر آپ کو مسائل کا سامنا ہے، تو اس میں آپ قصوروار ہوں گے شاید کسی حد تک، لیکن آپ کے ملک کا نظام جو کہ سماجی حقیقت ہے، زیادہ قصوروار ہے، کیوں کہ آپ اس کے تابع ہیں، آپ اپنے حکم رانوں کے بنائے قوانین کے تابع ہیں، اکثر آپ کی محنت اور ٹیلنٹ کے آڑے یہی سماجی حقیقت آتی ہے، جب آپ کا حق کسی ایسے انسان کو دیا جاتا ہے جو انسانوں کی بنائی سماجی حقیقت میں طاقتو ر اور بااثر ہے۔ یہ پیراگراف لکھتے ہوئے مجھے ایک مشہور سرمایہ دار وارن بفے کا قول یاد آگیا جب اُس نے کہا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت مانتا ہے کہ وہ امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہوا۔ کیوں کہ اُس سرزمین پر مواقع زیادہ ہیں۔
آپ کو جو ٹرینڈ دکھایا جاتا ہے، آپ کا دماغ اُسے حقیقت مان لیتا ہے۔ اِس کھیل کو طاقت ور لوگ سمجھتے ہیں نیورو سائنس اور سائیکا لوجی کی مدد سے، آپ اُن کے ہاتھ کی کٹھ پتلی ہیں۔ اُنھیں جو بھی آپ سے کروانا ہوتا ہے، وہ اسے اپنے طریقے سے پیش کرتے ہیں، آپ بنا سوال کیے اس بنائی ہوئی لکیر کو پیٹتے رہتے ہیں۔ پھر جب حقیقت آشکار ہوتی ہے، تب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ سوچ کر آپ اس لکیر پر چلے تھے نتائج تو اس کے برعکس ہیں، لیکن تب تک ہوش یار اور طاقت ور اپنے مقاصد کو حاصل کرچکے ہوتے ہیں۔ آپ کا دماغ چلتا ہی اسی طرح ہے اور اس میں آپ کا قصور نہیں، تب تک جب تک آپ کو شعور نہیں۔
اکثر جب ہماری بنائی سماجی حقیقت فطرت سے ٹکراتی ہے، تو جیت فطرت کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر موسمیاتی تبدیلی، جہاں ہم نے اپنی سماجی حقیقت کو بہتر بنانے کے لیے خام تیل جلایا اور ترقی کی، لیکن اس خام تیل کے منفی نتائج بھی آئے جو ماحولیاتی نظام سے ٹکرا گئے اور اب ساری دنیا اس موسمیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں ہے۔
ہم انسانوں کی زندگی پیچیدہ اور تکلیف دہ ہے، کیوں کہ ہم دو حقائق کے بیچ جھونجھ رہے ہیں…… لیکن یہ پیچیدگی یہاں ختم نہیں ہوتی!
ہر انسان کی اپنی الگ حقیقت بھی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ دنیا میں جتنے ارب انسان ہیں، اُتنے ارب مختلف حقائق موجود ہیں۔ کیوں کہ ہر انسان اپنی زندگی میں مختلف تجربات سے گزرتا ہے۔ اگر کسی نے ٹروما دھوکا اور نفرت کا سامنا کیا ہو، تو اس کے لیے دنیا کی حقیقت دھوکا اور نفرت ہے۔ اگر کسی نے محبت اور کئی اچھے مواقع کا سامنا کیا ہو، تو اس کے لیے دنیا ایک اچھی جگہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تجربات سے ملا علم سب سے زیادہ قابلِ بھروسا علم ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے تجربات کو بے شک اہمیت دیں، لیکن صرف اپنے تجربات کو ہی اہمیت نہ دیں!
حقیقت کو دیکھ سکنے اور قبول کرنے کا نفسیات پر کیا اثر ہوتا ہے؟
حقیقت کو دیکھ سکنے اور قبول کرنے کا نفسیات پر کیا اثر ہوتا ہے؟
ایک مشہور قول ہے کہ سب موہ مایا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ سب فریب/ برم ہے، لیکن یہ جملہ اتنا آسان ہے نہیں، جتنا سننے میں لگتا ہے۔
مایا (مادی اشیا، جذبات، احساسات، خیالات) ہماری اولین حقیقت ہے اور اس مایا کے ساتھ موہ/ لگاو (Attachment) ہمارے ذہن کی فطرت ہے۔
دراصل اس جملے کا مطلب ہے کہ چیزیں جیسی سطح پر نظر آتی ہیں، وہ گہرائی میں اس کے برعکس ہوتی ہیں۔ اسی لیے ان کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب مایا کی تہہ ہٹ جاتی ہے، تب تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔
میری جاب ایسی ہے کہ مجھے عموماً لوگوں کے گہرے جذبات اور ان کے مسائل کے متعلق جاننے کو ملتا ہے۔ زیادہ تر لوگ حقیقت کو ویسے قبول نہیں کرنا چاہتے، جیسی وہ ہے۔ ایک بڑی تعداد موجودہ وقت کے تقاضوں کو قبول کرنے اور حقیقت سے نظریں چرانے کے لیے وہ سب کرجائیں گے، جو نہ صرف اُن کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں تک کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اس کی وجہ آگاہی (علم) نہ ہونا، ٹروما یا پھر اپنے حس سے ملنے والے پلیژر سے بہت زیادہ لگاو ہے۔ جب آپ حس سے ملنے والے پلیژر کو ہی سچ مان لیں گے، تو اس کے آگے جو درد آپ کی تاک میں بیٹھا ہے، اس کی تاب نہیں لاسکیں گے۔
مادی اشیا یا جذبات سے ملنے والی خوشی اور پلیژر کے احساسات جھوٹ نہیں، بلکہ اس سے لگاو رکھنا نقصان کا سودا ہے۔ کیوں کہ وہ احساسات عارضی ہیں۔ ان احساسات کے پیچھے بھاگنا، درد اور بوریت سے کراہت، اُکتاہٹ محسوس کرنا آپ کے ذہن کو اذیت میں رکھتا ہے۔ کیوں کہ پلیژر کی تہہ جب ہٹ جاتی ہے، تو درد سے واسطہ پڑتا ہے۔
مثال کے طور پر جب آپ کو کسی سے محبت ہوتی ہے، یا کوئی پُرکشش لگتا ہے، تو شروع کے دنوں میں جو پلیژر کا احساس ہے، وہ آپ کو یہ محسوس کرواتا ہے کہ جیسے یہ احساسات ہی سب کچھ ہیں۔ آپ کا اُس انسان کے ساتھ لگاو پیدا ہوجاتا ہے، لیکن لگاو میں پلیژر کے ساتھ جلن، حسد، توجہ کی بھوک، قابو میں کرنے کی چاہ، ہوس، وقت اور توانائی کا ضیاع اور اُس انسان کی جس سے آپ کو لگاو ہوچکا ہے، اُس کی آپ کی ذات میں وقت کے ساتھ ماند پڑتی دلچسپی وغیرہ، جن کا سامنا بعد میں بہت ممکن ہے کہ آپ کو کرنا پڑے۔
بے شک آپ کے پلیژر والے احساسات بھی حقیقی ہیں، لیکن اس کی تہہ میں جو درد اور عارضیت ہے، آپ اُسے نہیں دیکھ پارہے ہوتے۔
عموماً والدین یا معاشرہ کچھ بوسیدہ نظریات کو آپ پر سچ بتا کر لاگو کرتا ہے، لیکن جب وقت کے ساتھ اس بوسیدہ یا جھوٹے نظریے کی اصلیت سطح پر آتی ہے، تو بہت نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بچپن کے ٹروما کو شفایاب کرنے کے بعد جب آپ کا دماغ نئی حقیقتوں کو تجربہ کرتا ہے، تب آپ کو یقین نہیں آرہا ہوتا کہ آپ آج تک کس اندھیری نگری میں رہ رہے تھے، آپ نے اپنا کتنا وقت ضائع کیا۔
ٹروما شفایاب ہی تب ہوتا ہے، جب آپ ماضی میں ہوچکے واقعات سے خود کو نکال کر حال میں لے کر آتے ہیں۔ آپ ماضی کے فریب/ برم کو چھوڑ کر حال کی حقیقت سے جڑنے لگتے ہیں۔
میرا ذاتی تجربہ ہے، مَیں نے جب بھی حقیقت کو نظر انداز کیا ہے، جب بھی حقیقت کے خلاف دفاعی طریقۂ کار (Defence Mechanism) کا ساتھ دیا، تو بہت نقصان اُٹھایا۔ کچھ نقصان تو ایسے تھے کہ جن کی کبھی بھرائی نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں آپ کو ’’قبول کرنا‘‘ (Acceptance) جیسی تکنیک کو پریکٹس کرنا چاہیے۔ یہ سب ایک بار سے نہیں ہوتا۔ آپ کو جب بھی افسوس یا پچھتاوا ہو، تو آپ کو اُس افسوس کو قبول کرنے کی مشق کرنی ہوگی اور اس میں کئی دن/ مہینے / سال لگ سکتے ہیں۔ یہ اِس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا ذہن کس قسم کا ہے، جلدی اور شدید لگاو پیدا کرنے والا، درمیانہ یا پھر ہلکا…… جیسا ذہن ہوگا، اُتنا ہی وقت لگے گا قبول کرنے میں۔
دوسرا اہم پوائنٹ کہ اپنی حقیقت دیکھنا سیکھیں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں؟ کسی کی موٹیویشنل وڈیو دیکھ کر جھوٹے سہانے خواب نہ بنائیں…… بلکہ غور کریں کہ آپ کون ہیں، کہاں پیدا ہوئے ہیں، کیا صلاحیت ہے آپ کی اور کتنا تجربہ ہے آپ کا……!
مجھے ہمیشہ تب تکلیف ہوئی جب میں نے خود کو کم (Underestimate) یا زیادہ (Overestimate) سمجھا۔ دوسروں کی رائے (Feedback) بھی اکثر ہمیں اپنی حقیقت کو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ بشرط یہ کہ رائے دینے والا سچی رائے دے نہ کہ اچھی رائے۔
دوسروں کی رائے سننا آسان نہیں ہوتا۔ میرے لیے بھی کبھی یہ سب آسان نہیں رہا۔ مجھے بھی سچ سننا یا حقیقت کو قبول کرنا خوش گوار تجربہ ہرگز نہیں لگتا……!
لیکن اس مضمون کے پہلے حصے میں لکھا قول یاد رکھیے کہ ’’اگر آپ حقیقت کا سامنا کرنے سے انکار کردیں گے، تو حقیقت خود ایک دن آپ کی اجازت کے بغیر آپ کا سامنا کرنے آئے گی، جب مایا کی تہہ ہٹ جائے گی!‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔