جنگ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ دنیا میں موجود تمام جان دار جنگ میں ملوث ہوکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے دشمن پر غالب آکر خود کو ’’ڈومینیٹ‘‘ (Dominate) کرتے ہیں۔
جنگ فطری ہے اور یہ محض میدانوں تک محدود نہیں۔ انسانوں کے لیے بزنس، اسپورٹس، سیاست، وڈیو گیمز، شہرت اور طاقت کا حصول کسی میدانِ جنگ سے کم نہیں…… اور اگر کوئی انسان اپنے اردگرد کے حالات سے جنگ لڑنے کا فن نہیں جانتا، تو بہت ممکن ہے کہ وہ ساری زندگی حالات کا شکار ہوکر اپنی ذات سے جنگ میں ملوث رہے گا۔
’’دی آرٹ آف وار‘‘ ایک قدیم چائنیز کتاب ہے…… جو ’’سن سو‘‘ (Sun Tzu) نے چائنیز ملٹری کے سپہ سالار کو میدانِ جنگ میں حکمت عملی، حربوں اور جنگی چالوں سے دشمن کو ہار کا مزہ چکھانے کے طریقے بتانے کے لیے 25 سوسال قبل لکھی تھی۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمارا اس کتاب سے کیا واسطہ……! ہم بے شک کسی ملٹری کے جنرل نہیں…… لیکن اپنی زندگیوں کے سپہ سالار تو ہیں……!
میدانِ زندگی کے کچھ معاملات پر فتح پانے میں اس کتاب کا ’’وزڈم‘‘ (Wisdom) شاید ہمارے کام آسکتا ہے۔
ویت نام کے جنرل "Vo Nguyen Giap” فرانس کو میدانِ جنگ میں ہرانے اور برازیلین کوچ "Luiz Felipe Scolari” اپنی ٹیم کو 2002ء کا فٹ بال ورلڈ کپ جتوانے کا کریڈٹ اس کتاب کو دیتے ہیں۔
کتاب کے مطابق اوّل تو یہ کہ اگر آپ خود کو اور اپنے حریف کو بہتر طور پر نہیں جانتے، تو آپ میدان میں اترنے سے پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ جسے اپنی اور اپنے دشمن کی طاقت اور کم زوریوں کا علم نہ ہو…… ہار اس کا مقدر ہے۔ اپنی شخصیت اور دشمن کا حقیقی (Realistic) جایزہ نہایت اہم ہے۔ کیوں کہ آپ اپنی ہر کم زوری کو طاقت میں تو نہیں بدل سکتے…… البتہ اگر آپ اپنی کم زوریوں سے واقف ہیں، تو دوسروں کو اس کا فائدہ اٹھانے سے ضرور روک سکتے ہیں۔ ’’خود آگاہی‘‘ ضروری ہے۔
ریسرچ بہت ضروری ہے۔ کیلکولیشن، حکمتِ عملی اور موازنہ کرکے فیصلہ کرنا چاہیے کہ جس مقصد کے لیے ارادہ بنایا ہے، کیا اسے "Realistically” حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں…… تو اس مقصد (جنگ) کو چھوڑ دینا بہتر ہے۔ دشمن اور میدانِ جنگ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ ہر جنگ یا ہر دشمن اس قابل نہیں کہ اُسے جواب دیا جائے۔ وقت، انرجی اور قیمتی ریسورسز کو بچانے کے لیے وہی جنگ لڑیں جسے لڑنے کا فایدہ ہو، جس پر وقت، انرجی اور ریسورسز لگا کر آپ کو افسوس نہ ہو۔
دشمن کو دھوکے میں رکھنا ضروری ہے۔ اگر فتح قریب بھی ہے، تو تکبر اور جذبات میں دشمن کو احساس نہیں ہونے دینا، اسے ہمیشہ الجھائے رکھیں۔
’’سن سو‘‘ کے مطابق میدانِ جنگ کے بدلتے حالات کے ساتھ اپنے حربے بدلنا ضروری ہے۔ کیوں کہ جنگ اور حالات کی مثال پانی کی ہے…… کبھی بھی رُخ بدل جاتا ہے۔ باہری حالات پر ہمارا کنٹرول زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا۔ آپ کے مزاج اور حکمتِ عملی کو پانی کی طرح ہونا چاہیے، تاکہ جب ضرورت ہو…… اپنے فایدے کے لیے اسے بدلا جاسکے۔
دشمن کی کم زوری پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ فوکس اہم ہے۔ حریف کم زوری دکھائے، تو اس کم زوری کو اپنے فایدے کے لیے فوری طور پر بروئے کار لایا جائے۔ کوشش رہے کہ آپ کا حریف آپ کے متعلق زیادہ معلومات اکھٹی نہ کرسکے۔ پُراَسرار رہنا آپ کو فایدہ دے سکتا ہے۔
’’سن سو‘‘ لکھتے ہیں کہ جنگ کی سب سے اعلا قسم وہ ہے جس میں بنا لڑے حریف کی ہار اور ہماری جیت ممکن ہو اور حریف کبھی معلوم یا ’’پریڈکٹ‘‘ (Predict) نہ کرسکے کہ اس کے ساتھ آخر ہوا کیا ہے۔ ہمارا داو اس کی امید کے برخلاف ہو…… جس کی وجہ وہ سٹپٹا جائے یا ’’فریز‘‘ (Freez) ہوجائے ۔
اس حکمت عملی کو بروئے کار لانے کے لیے کسی بھی انسان کا "Emotional Intelligence” کا اعلا سطح پر ہونا ضروری ہے۔ وہ حالت جس میں انسان ایموشنز کو نچائے، نہ کہ ایموشنز اُسے نچائیں۔ جب ’’انر پیس‘‘ (Inner peace) اور بیلنس (Balance) ہو، تو ’’کاگنیٹیو اور ریشنل برین‘‘ (Cognitive and Rational) خود بخود بہتر طور پر کام کرنے لگتا ہے۔
اگر کبھی آپ نے اپنے کسی جاننے والے کو اس کی امید کے برخلاف اس کے ایکشن کا رسپانس دیا ہو، تو وہ کچھ دیر کے لیے حیران رہ جائے گا…… سٹپٹا جائے گا یا فریز ہوجائے گا۔ کیوں کہ اسے اس رسپانس کی امید نہیں تھی…… اور یوں آپ بنا ری ایکشن دیے اسے شدید نفسیاتی تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔
اگر آپ اپنے حریف سے روایتی انداز میں لڑے بنا، عقل، دانش، ایموشنل انٹیلی جنس، حقیقت پسندی، ریسرچ، ڈسپلن اور حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی بدلنے کی ہمت رکھتے ہیں، توجنگ یقینا آپ کے لیے ایک ’’آرٹ‘‘ ہی ہے۔
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔