یہ سطور مَیں جس وقت تحریر کر رہا ہوں، خدا ہی جانتا ہے کہ کس کرب سے گذر رہا ہوں۔ اگر ذکر شدہ کرب مجسم ہوپاتا، تو بخدا اسے دیکھنے والے مجھ پر بڑا ترس کھاتے۔ باتیں گھمانے سے بہتر یہی ہے کہ سیدھا مطلب کی بات کی جائے۔ مَیں چوں کہ صحافت کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے شعبہ سے بھی وابستہ ہوں، اس لیے مجھ پر ذیل میں دیا جانے والا شعر صادق اترتا ہے کہ
آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ
جیسے دوہری دھار کا خنجر چلے
معاشرتی بے قاعدگیاں تو خیر روزِ اوّل سے کھانے کو دوڑ رہی ہیں۔ پانی کا نل کیوں کھلا ہے، سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات کیوں بلاوجہ ہارن بجا رہے ہیں، نودولتیے کیوں مخلوقِ خدا کو تنگ کرنے کی خاطر گاڑیوں میں اونچی آواز سے بے سُری موسیقی سنانے پر تُلے ہیں، کیوں میرے ووٹ سے منتخب ہوکر ایک ایم پی اے یا ایم این اے سڑک پر گاڑی دوڑاتے ہوئے ٹریفک اصولوں کا خیال نہیں رکھتا اور کیوں ایک معمولی سرکاری نوکر، یا بندوق بردار سائرن بجاتا اور رانگ سائیڈ سے آتا ہوا پوری ٹریفک کو جام کرنے کا ذریعہ بنتا ہے؟ یہ وہ بے قاعدگیاں ہیں جن کی وجہ سے روزانہ کے حساب سے ہر حساس اور دردِ دل رکھنے والا کُڑھتا ہے، اور جو رہی سہی کسر تھی وہ آج کل ایک خرابی احسن طریقے سے پورا کرنے جا رہی ہے۔ وہ خرابی کچھ اور نہیں بلکہ اپنی ادھوری خواہشات پوری کرنے کی خاطر اپنی اولاد کو قربانی کا بکرا بنانا ہے۔ مَیں اگر کل کسی مجبوری کے تحت یا طبیعت کی غیرموزونیت کی بنا پر ڈاکٹر نہیں بن پایا تھا، تو میرے بیٹے کو بہرصورت بننا ہوگا۔ یہ دیکھے اور سمجھے بغیر کہ کیا میرے بیٹے کو پیدا کرنے والے نے ڈاکٹر بننے کی صلاحیت ودیعت بھی کی ہے یا نہیں!
اس وقت مجھے اپنے سکول کے برآمدے میں آویزاں پینٹنگ کا وہ شاہکار نمونہ یاد آیا، جس میں ایک کھلے میدان میں ایک استادِ محترم کرسی پر بیٹھے ہاتھ میں چھڑی لیے سامنے بیٹھے ایک بندر، ہاتھی، ایک چھوٹے سے شیشے کے برتن میں تیرتی مچھلی اور ایک فاختہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "مَیں آپ میں سے ہونہار طالب علم اس کو مانوں گا، جو سب سے پہلے اُس سامنے والے درخت پر چڑھے گا۔”
بخدا، مجھ جیسے ضعیف الاعتقاد مدرّس اور مذکورہ بالا استاد میں کیا فرق ہے؟ کیا مَیں نے کبھی اپنے شاگرد کو اندر سے ٹٹولا ہے کہ اُسے پروردگار نے کس مقصد کے حصول کے لیے بھیجا ہے؟ باقی ماندہ دنیا کے بچے اپنے اساتذہ کی مدد سے کچی عمر میں ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں اور ہم ہیں کہ آج بھی بچوں کو اپنے تحریر شدہ نوٹس پکڑا کر رٹّا لگانے کا کہہ رہے ہیں۔ ماشاء اللہ، آج کے دور میں بھی ڈنڈے اور تھپڑ کا رواج صرف اور صرف جنتِ نظیر وادی میں ہی ملے گا۔ بڑی شرم کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اسی وادی کے چند سکولوں میں اساتذۂ کرام کو اس ملک کے مستقبل کو "نکیل” ڈالنے کی خاطر ڈنڈے کے بے دریغ استعمال پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک ادارہ تو باقاعدہ طور پر چھڑی کے استعمال کے لیے اپنے سٹاف کو "الاؤنس” بھی دیتا ہے۔ بدیں وجہ آپ کبھی اپنے جگر گوشے کا چہرہ بغور دیکھیں۔ اس میں زندگی کی رمق ڈھونڈے سے بھی مل پائے، تو میرا نام بدل دیں۔
ہمارے سکول عقوبت خانوں سے کم نہیں۔ بچوں کی تفریح اور کھیلنے کودنے کے لیے میدان ندارد۔ کلاس کے اندر کھڑا استاد ’’ہٹلر‘‘ سے بھی دو ہاتھ آگے۔ اس کے سامنے اگر بچے کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر جائے، تو اس کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ ڈسپلن کے نام پر ہم انہیں اتنا دبا دیتے ہیں کہ ان کے اندر چھپی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔
قارئین کرام! میں درجن بھر سے زائد ایسے لوگوں کو جانتا ہوں، جن کا تعلیمی کیرئیر شان دار نہیں تھا، مگر آج معاشرے میں جو رول ادا کر رہے ہیں، شائد ہی اُس دور کے ’’ٹاپرز‘‘ ادا کرتے ہوں۔ قومی اور بین الاقوامی شخصیات کو رکھ چھوڑئیے، کہ ان کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں۔ ارب پتی بِل گیٹس کا یہ قول تقریباً سب کو اَزبر ہوگا: ’’مَیں زندگی میں کبھی ٹاپ نہیں کر پایا،مگر آج تمام ٹاپرز میرے دست نگر ہیں۔‘‘ آئن سٹائن، ایڈیسن وغیرہ کی زندگیوں پر دفتر کے دفتر سیاہ کیے جا چکے ہیں۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مقامی غیر معروف شخص کی کتھا سنیے، جسے اُس کی محبت اس کے نکمے پن کی وجہ سے یہ تاریخی جملہ کہتے ہوئے چھوڑ گئی کہ ’’یہ تو اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، بیوی بچوں کا بوجھ خاک اٹھا پائے گا۔‘‘
یہ غالباً سنہ 1995 یا 96ء کی بات ہے، جب وہ جماعتِ نہم کا طالب علم تھا۔ اُسے اپنی پھپی زاد سے عشق ہوگیا۔ اس کا والدِ بزرگوار دنیا و مافیہا سے بے خبر، والدہ ماجدہ اہلِ محلہ کے کپڑے سی کر بچوں کو نہ صرف پالتی پوستی بلکہ انہیں پڑھاتی اور ان کی تربیت بھی کرتی۔جب آدمی بیک وقت دو تین محاذوں پر لڑ رہا ہوتا ہے، تو اک نہ اک محاذ پر اُسے شکست کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ والدہ ماجدہ کی تربیت میں پتا نہیں کس وقت کمی آئی کہ اس کی قربانیوں کے باوجود اس کے بڑے بیٹے کو میٹرک میں بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس وقت والدہ کی حالت کیا ہوتی ہوگی؟ شائد الفاظ وہ درد اور وہ بے بسی نہ بیان کرپائیں۔ اس کے بعد وہ بے چارہ ’’نکما‘‘ کے نام سے مشہور ہوجاتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں ناکامی کے بعد وہ چھوٹے موٹے کام شروع کر دیتا ہے۔ کبھی کسی ہنر کو سیکھنے میں سال دو ضائع کیے، کبھی کسی فیکٹری میں دو وقت کی روٹی کی خاطر ’’لوڈنگ، اَن لوڈنگ‘‘ کے کام میں جت گیا، اک آدھ ماہ ’’ویٹر‘‘ بن گیا، ٹماٹر بیچے، وعلیٰ ہذا القیاس۔
اس تمام تر صورتحال میں ایک بات جو رقم کرنے لائق ہے کہ نکمے صاحب کا رشتہ کتاب سے ٹوٹنے نہ پایا۔ بندہ عاشق ہو اور اس کو شعر و شاعری کا ذوق نہ ہو، نہ ماننے والی بات ہے۔ شاعر نہ سہی متشاعر تو وہ تھا ہی۔ فارغ وقت میں کچھ مصرعے موزوں کیا کرتا تھا۔ اسی اثنا میں اسے ایک دوست ملا جس نے اس کا ایف اے کے داخلہ اور کتب کا خرچہ اٹھایا۔ نکما تو وہ تھا ہی، سالِ اول میں انگریزی کا پرچہ فیل ہونا اس کے لیے عام سی بات تھی، مگر جیسے تیسے ہمت کرکے سالِ دوم میں کامیاب ہونا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ بی اے کے لیے ایک اور دوست نے داخلہ کا بندوبست کیا، مگر بندے میں اپنا کمال ہو، تو کسی کی قربانی دِکھے۔ بی اے میں مسلسل تین بار انگریزی کا پرچہ نکالنے میں ناکام رہا۔ اتنے میں جس کے عشق میں نکما بنا تھا، اس کا رشتہ آگیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ عاشقِ نامراد بارے کیا خیال ہے؟ تو جواب ملا: ’’یہ تو اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، بیوی بچوں کا بوجھ خاک اٹھا پائے گا۔‘‘ اس دن وہ رویا، خوب رویا اور تہیہ کر بیٹھا کہ آج کے بعد بالکل نہیں رونا۔ ایم اے اردو میں ایک دوست کے مالی تعاون سے داخلہ لے لیا۔
آج اُس نکمے کے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد ہیں۔ پورے ملک میں سیر و سیاحت کی رپورٹنگ کے حوالہ سے اس کی الگ پہچان ہے۔ آج وہی نکما ملاکنڈ ڈویژن کے سب سے بڑے اخبار اور اس میں لکھنے والے محترم لکھاریوں کا ایڈیٹر ہے۔ ڈان اردو سروس میں بلاگر ہے۔
قارئین کرام! کتنے لوگ ہوں گے، جو 1997ء کے میٹرک امتحان میں ہائی سکول نمبر 3 شاہدرہ وتکے کے ٹاپر کو جانتے ہوں گے، جب کہ مذکورہ سال کیمسٹری فیل کرنے والا وہ نکما، وہ مجرم ’’امجد علی سحابؔ‘‘ حاضر ہے۔

……………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔