دسمبر 2019ء میں شائع شدہ میرے کالم بعنوان ’’سوات کو دوسرا لاہور بنانا کہاں کی دانش مندی ہے؟‘‘ کو نئی ابھرتی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں 15 جنوری 2022 ء کو روزنامہ آزادی میں مکرر کے طور پرشائع کیا گیا ہے۔ سوات ایکسپریس وے کے سوات میں مجوزہ منصوبے کے چند پہلوؤں کے منفی عواقب کا تجزیہ اس کالم میں موجود ہے۔ لہٰذا یہاں کوشش ہوگی کہ اس منصوبے کے دوسرے عوامل پر بحث کی جائے۔
اس منصوبے کے حق میں جو بڑی دلیل یا جواز پیش کیا جاتا ہے، وہ سوات میں سیاحت کا فروغ ہے۔ سوات کی معیشت میں سیاحت کی کیا اہمیت رہی ہے؟ اس کا تجزیہ محولہ بالا کالم میں کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ درحقیقت سوات کی ترقی نہ سوات کے لوگوں کی ترقی کا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا شاخسانہ ہے اور سرمایہ داروں کے مفادات میں عمل میں لایا جا رہا ہے۔ میڈیا پر اس بات کی تشہیر تو مبالغہ آمیزی کے ساتھ ہو رہی ہے کہ ’’سوات میں سیاحوں کا رش‘‘، ’’ہوٹلوں میں جگہ کم پڑگئی‘‘ یا ’’سوات میں لاکھوں سیاحوں کی آمد‘‘، ’’سیاح برف باری سے لطف اندوز‘‘ وغیرہ…… لیکن یہ کبھی پڑھنے کو نہیں ملا کہ جہاں سیاحوں کا رش ہوتا ہے یا ان کے لیے جگہ کم پڑجاتی ہے، وہاں کے باسیوں کی زندگی کیسے گزر رہی ہے؟ اور اس برف باری اور ٹھنڈے موسم کی وجہ سے ان میں سے کتنے اپنے گھروں میں زندگی گزاررہے ہوتے ہیں اور کس حال میں گزار رہے ہوتے ہیں؟
وہاں کے باشندے تو موسمی حالات کی وجہ سے بہ حیثیتِ مجموعی اپنا گھربار چھوڑ کر ملک کے گرم علاقوں کو نقلِ مکانی کر جاتے ہیں اور اس طرح خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہر گاؤں میں چند افراد کو مجبوراً اس لیے ٹھہرنا پڑتا ہے کہ وہ برف باری کے دوران میں گھروں کی چھتوں سے برف کو ہٹاکر مکانات کو منہدم ہونے سے بچائے رکھیں۔ وہ جس حال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں، وہ ایک الگ داستان ہے…… جو میڈیا پر کبھی نظرنہیں آیا۔ اس کا اندازہ مجھے ذاتی طور پر فروری 2008 ء میں اس وقت بھی ہوا تھا، جب عام انتخابات میں میری ڈیوٹی گبرال سے آگے ایک گاؤں کے اسکول میں زنانہ پولنگ سٹیشن پر لگی تھی۔ پورے گاؤں میں چند مرد ہی موجود تھے۔ زنانہ اور باقی مرد حضرات ملک کے گرم علاقوں کو نقلِ مکانی کرگئے تھے۔ اس وجہ سے گاؤں میں عورتوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس پولنگ سٹیشن پر ایک بھی ووٹ پول نہیں ہوا تھا۔
اس مجوزہ ایکسپریس وے کے نتیجے میں کالام اور وہاں سے آگے بالائی علاقوں کے لوگوں کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئے گی…… بلکہ جیسا کہ آغاز ہوچکا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی زمینوں کی ملکیت سے محروم ہوتے جائیں گے۔ اس لیے کہ بڑے بڑے سر مایہ دار، بڑی بڑی رقوم کے عوض اور دوسرے ترقیاتی کاموں کے نام پر حکومت اور دوسرے ادارے یہاں کی زمینیں ہتھیالیں گے۔ مقامی باشندے یا تو نقلِ مکانی کرکے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجائیں گے یا ہوٹلوں وغیرہ میں چوکیداری وغیرہ پر مجبور ہو کر رہ جائیں گے۔
اب آتے ہیں اس منصوبے کے ایک دوسرے اہم پہلو کی طرف…… جو چکدرہ سے مدین تک کی زرعی زمینوں پر اس ایکسپریس وے کی تعمیر کا ہے۔ صوبائی حکومت ایک طرف سوات میں زرعی یونی ورسٹی تعمیر کر رہی ہے اور دوسری طرف زرعی اراضی اور زراعت کا گلا گھونٹنے کے منصوبے سوات کے متعلقہ باشندوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود عمل میں لا رہی ہے۔
جیسا کہ ذکر ہوچکا کہ یہ ایکسپریس وے سوات اور سوات کے عوام کی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی دَین اورسرمایہ داروں کی مفادات کی خاطر عمل میں لایا جانے والا منصوبہ ہے۔ جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ منصوبہ ’’پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ‘‘ کے تحت ہے۔ اگرچہ نام کے لحاظ سے یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبہ ہے، لیکن درحقیقت یہ پرائیویٹ منصوبہ ہے۔ اس لیے کہ اس میں پبلک یعنی صوبائی حکومت کا حصہ برائے نام یعنی کوئی پانچواں حصہ بھی نہیں بنتا۔ اس کا بڑا حصہ پرائیویٹ یا سرمایہ کاروں کا ہے۔ اس وجہ سے اس کی آمدن کا بڑا حصہ سرمایہ کاروں ہی کی جیب میں جائے گا۔
اگر ایک طرف ’’پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ، 1997ء‘‘ کے تحت اس طرح کے کاموں اور تعمیرات کا آغاز کرنے سے قبل ان کا ’’انوائرنمنٹل ایمپیکٹ اسسمنٹ‘‘ کرنا اور اسے ’’پاکستان انوائرنمنٹل ایجنسی‘‘ میں جمع کرنے اور مذکورہ ایجنسی سے پیشگی اجازت لازمی ہے، تو دوسری طرف اس کا ’’خیبر پختونخوا پروٹیکشن آف ایگریکلچرل لینڈز ایکٹ، 2021ء‘‘ کے تناظر میں بھی جائزہ لینا ہے۔ ’’خیبر پختونخوا پروٹیکشن آف ایگریکلچرل لینڈز ایکٹ، 2021ء‘‘ کی غرض و غایت یا (STATEMENT OF OBJECTS AND REASONS) یہ بیان کیا گیا ہے کہ "In order to secure agricultural land and to provide for the regulated use of agricultural lands in Khyber Pakhtunkhwa, hence, this Bill.”
یعنی اس بابت کہ زرعی زمین کو محفوظ بنایاجائے اور خیبر پختون خوا میں زرعی زمینوں کے باقاعدہ استعمال کو تحفظ فراہم کیا جاسکے، یہ بل منظور کیا گیا۔
چوں کہ ’’خیبر پختونخوا پروٹیکشن آف ایگریکلچرل لینڈز ایکٹ، 2021 ء‘‘ کے اغراض و مقاصد زرعی زمینوں کو کمرشل ڈیولپمنٹ کے لیے استعمال پر قدغن لگانا ہے، اور سوات ایکسپریس وے کا مجوزہ گزر چکدرہ تا مدین زرعی زمینوں ہی سے ہونا ہے۔ لہٰذا اس ایکٹ کے تحت یہ منصوبہ ایک طرح غیر قانونی ہونے کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے کہ یہ اس ایکٹ کے اغراض و مقاصد سے متصادم ہے۔ اور جیسا کہ ذکر ہوا اس منصوبے میں بڑا حصہ سرمایہ کاروں کا ہے، لہٰذا ایسے منصوبے کے لیے "Land Acquisition Act, 1894” کے سیکشن 4 کے تحت زمینوں کا ان کے مالکوں سے زبردستی ان کی رضامندی کے بغیر لینا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر سرکاری نہیں…… بلکہ اس کے بڑے حصہ دار پرائیویٹ سرمایہ کار ہیں اور اس کی آمدنی کا بڑا حصہ ان ہی کی جیب میں جائے گا۔
امیروں اور سیاحوں (جو کہ بھی غریب نہیں ہوتے، اس لیے کہ غریب ہوٹلوں کے اتنے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے) کی خاطر، چکدرہ سے ایک گھنٹے کا فاصلہ 35 منٹ میں طے کرنے کے لیے سوات کی تنگ وادی اور زرعی زمین اتنے بڑے منصوبے کی متحمل نہیں۔ اگر کلرکہار میں 40 اور 50 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے کام چل سکتا ہے، تو سوات میں کیوں نہیں؟ یہاں پر کیوں 120 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کی والی سڑکوں کی ضرورت ہے؟
اس صورتِ حال میں سب سے اچھا متبادل اور قابلِ عمل حل یہ ہے کہ سوات میں موجودہ سڑکوں کے تارکول شدہ حصے کو کشادہ کیا جائے جس میں کوئی مشکل بھی نہیں۔ اس لیے کہ پہلے ہی ان سڑکوں کے دونوں اطراف لوگوں سے ان کی تعمیرات گروا کے انھیں کشادہ کیا گیا ہے۔ صرف ان کے تارکول والے یا ٹریفک کے استعمال والے حصوں کو کشادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح حکومت کی لاگت بھی ایکسپریس وے کے مقابلے میں بہت کم آئے گی اور سڑکیں بھی حکومت کی سرکاری ہی ہوں گی۔ ان سڑکوں پر ٹریفک جام کے مسئلے کا حل بھی آسان ہے۔ وہ یہ کہ چکدرہ تا مدین دریا کے دائیں جانب والی سڑک باہر سے آنے والے سیاحوں کے آنے کے لیے مختص ہو اور بائیں جانب والی واپس جانے کے لیے۔ اس طرح وہ راستے پر دونوں جانب کا نظارہ بھی دیکھیں گے۔ علاوہ ازیں ٹریفک کے مسئلے کے حل کے لیے دریائے سوات پر چند چند میل کے فاصلے پر پُل تعمیر کیے جائیں، جس کی بدولت سوات کے باشندوں کو مختلف علاقوں میں جانے کے لیے طویل چکر کاٹنے سے نجات بھی ملے گی اور سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ بھی کم ہوجائے گا۔
اور اگرسرمایہ داری نظام اور سرمایہ کاروں کے مفادات کی خاطر ایکسپریس وے کو ہرحال میں تعمیر کرنا ہے، تو جس طرح مدین تا کالام سڑک دریا کے کنارے تعمیر کی گئی ہے، اسی طرح ایکسپریس وے کو بھی سرمایہ کاروں کو خطرہ مول کر دریائے سوات کے کنارے تعمیر کیا جانا چاہیے…… لیکن اس صورت میں بھی اسے محکمۂ مال کے ریکارڈ میں بندوبستِ اراضی کے وقت درج شدہ دریا کے کنارے ہی تعمیر کیا جائے…… نہ کہ موجودہ وقت میں دریا جس مقام پر بہہ رہا ہے اس کی بنیاد پر۔ اس طرح جنرل ضیاء الحق کے دور میں کیا گیا وہ وعدہ بھی ایفا ہوجائے گا کہ دریائے سوات کے دونوں جانب پشتیں تعمیر کرکے اسے پا بہ زنجیر کیا جائے گا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔