ہم بنی نوع انسان کی تاریخ کے سب سے بڑے تکنیکی انقلاب کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ انقلاب صنعتی انقلاب کے مقابلے میں اثرات کے لحاظ سے چار گنا زیادہ ہے اور یہ ابھی اس کا آغاز ہے۔
غلامی ایک طاقت ور اور دلچسپ اصطلاح ہے…… جو بنیادی انسانی حقوق کی مکروہ خلاف ورزی کو بیان کرتی ہے۔ غلامی کے بارے میں بے پروائی سے کام نہیں لیا جانا چاہیے۔ قانونی لحاظ سے ملکیت اور الگورتھم پر مبنی تجزیات کی فراہمی کے لیے ذاتی ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ اور ’’آرٹی فیشل انٹیلی جینس‘‘ ڈیجیٹل غلامی کی ایک نئی شکل کو فعال کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے آزادی کو صلب کرتے ہوئے اجتماعی و انفرادی خودمختاری کے خطرے کو تقویت فراہم کرنا ہے۔
ماضی میں غلام اپنے آقاؤں کے لیے مفت کام کر تے تھے اور اس کے بدلے میں مالک ان کو خوراک، لباس اوررہایش دیتے تھے۔ اکثر غلام ان بنیادی ضروریات کے لیے بھی شدید مصایب سے گزرتے تھے۔ جدید ٹیکنالوجی نے زمانۂ قدیم کی غلامی کے تصور کو ڈیجیٹل غلامی میں تبدیل کر دیا ہے۔ کام وہی ہے بس طریقۂ کار بدل گیا ہے۔ یہ تصور بھی نوآبادیاتی نظام جیسا ہی ہے جسے جغرافیائی سے معاشی کنڑول میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
دورِ جدید کے ڈیجیٹل غلام بھی کچھ بنیادی ڈیجیٹل ضروریات کے بدلے اپنے ڈیٹا تک مفت رسائی فراہم کر تے ہیں۔ جس طرح روائتی غلاموں کو اپنے بے رحم آقاؤں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے قیمت ادا کرنی پڑتی تھی، بالکل ویسے ہی ڈیجیٹل غلام ڈیٹا کی شکل میں ایک پلیٹ فارم یا ایپ سے دوسرے پلیٹ فارم پرمنتقل ہونے کے لیے بھی ادائی کرتے ہیں…… اور یہ ادائی ڈیٹا کی شکل میں کی جاتی ہے۔
روایتی یا ڈیجیٹل دونوں غلاموں کے پاس کچھ بھی نہیں رہتا۔ ڈیجیٹل غلام روایتی غلاموں کے مقابلے میں زیادہ قابل رحم ہیں۔ روایتی غلام، غلاموں کے طور پر کام کرنے پر مجبور تھے…… لیکن ڈیجیٹل غلام رضاکارانہ غلام ہیں۔ وہ خوشی اور ذاتی آمادگی سے اپنے دوستوں، جاننے والوں، اپنی ساکھ اور اپنی ڈیجیٹل شناخت کے دیگر تمام بیرونی پہلوؤں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ صارفین جو مفت ڈیٹا فراہم کرتے ہیں، اس کی قیمت ان کو موصول ہونے والی مفت خدمات کی قدر سے کوئی مماثلت نہیں رکھتی۔ ہم بیدار ہونے سے لے کر سونے تک حتی کہ اپنی نیند کے دوران میں بھی چوبیس گھنٹے ڈیٹا تیار کرنے اور فراہم کرنے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔
ہم کہاں ہیں…… ہم اپنے بل کیسے ادا کرتے ہیں…… گھر میں ہم کتنے افراد ہیں…… کون سی ویڈیوز دیکھتے ہیں…… کون سی ویب سائٹ دیکھتے ہیں…… کیا خریدتے ہیں…… کہاں جاتے ہیں…… ہمارے دوست اور خاندان والے کون ہیں…… کہاں کام کرتے ہیں…… کون سی ٹیموں کی ہم حمایت کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم ڈیٹا کا ایک مسلسل بڑھتا ہوا حجم پیدا کرتے ہیں۔ ہارورڈ بزنس ریویو کے ذریعے 2018ء میں شایع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، چار افراد کے گھرانے کے ذریعے تیار کردہ ڈیٹا کی مالیت تقریباً 20,000 ڈالر سالانہ ہے۔ یہ ڈیٹا نہ صرف تشہیری نقطۂ نظر سے قیمتی ہے…… بلکہ یہ مصنوعی ذہانت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں ہم سب ٹیکنالوجی کے جنات یعنی ’’بگ فائیو‘‘ کے غلام ہیں۔ ہمارا فراہم کردہ مفت ڈیٹا یا مفت ڈیجیٹل کام’’بگ فائیو‘‘(ایپل، فیس بک/میٹا، ایمیزون، گوگل، اور مائیکروسافٹ) کو وسیع دولت جمع کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کے بدلے میں ہم مفت ایپس اور دیگر انٹرنیٹ خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے ہی ڈیٹا پر ہمیں کوئی ملکیتی حقوق حاصل نہیں۔
ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور ان کے صارفین کے درمیان یہ تعلق غلامی کی جدید ترین شکل ہے۔ یقینا اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں کہ ہر فرد کے لیے، مفت انٹرنیٹ خدمات کی معمولی قیمت صارفین کی معلومات کی بیش بہا قیمت کے برابر ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے غلاموں کی محنت کی بیش بہا قیمت غلاموں کو ملنے والی خوراک، لباس اور رہایش کی معمولی قیمت سے کہیں زیادہ ہو ا کرتی تھی۔
گوگل کے چیف اکانومسٹ ہال ویرین اس بات پردلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت ڈیٹا بہت زیادہ ہے۔ تقریباً بے کار ہے…… جب کہ نیٹ ورکس کے ڈیزائنرز بہت کم ہیں اور اس طرح ڈیجیٹل نیٹ ورک سروسز کی زیادہ تر قیمت پیدا کرتے ہیں۔
یہ دلیل اس بحث کے مترادف ہے کہ غلامی کے دور میں غلاموں کی مزدوری بہت کم تھی اور زیادہ تر قیمت غلاموں کے آقاؤں نے طے کی ہوئی تھی۔ یہ نظام بھی غیر منصفانہ ہے۔ کیوں کہ ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے مالکان ناقابلِ تلافی اختیار کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پاس ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی کا اختیار ہوتا ہے…… جس پر ان کے صارفین انحصار کرتے ہیں…… جیسا کہ ماضی میں غلاموں کے آقاؤں کے پاس اپنے غلاموں کی ہر چیز تک رسائی کا اختیار ہوتا تھا۔ غلاموں کے مالکان اپنے مادی فایدے کے لیے اپنے مارکیٹ کنٹرول کا غلط استعمال کرنے کی پوزیشن میں تھے، جیسا کہ آج کل ڈیجیٹل نیٹ ورک کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آج دنیا بھر میں 40ملین سے زیادہ لوگ ڈیجیٹل غلام ہیں۔
چانسلر میرکل نے تجویز پیش کی کہ ڈیجیٹل ڈیٹا کی قیمت ہونی چاہیے اور صارفین اپنا ڈیٹا بیچنے کے قابل ہونا چاہئیں۔ اس کے برعکس کہ ہم ڈیجیٹل غلام ہیں اور ہماری ڈیجیٹل شناخت مکمل طور پر ڈیجیٹل آقاؤں کے ذریعے کنٹرول اور استعمال ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل صارفین کی ’’خود مختار شناخت‘‘ کا تصور خطرے میں ہے۔ زیادہ تر صارفین ڈیجیٹل سسٹم سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ ’’پرائیویسی‘‘ کو اپنے ہاتھ میں سمجھتے ہیں…… جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
پرائیویسی (رازداری) کا مطلب ہے کہ صرف مجاز وصول کنندگان ہی آپ کی ڈیجیٹل شناخت درج کرسکتے ہیں۔ ـ”Trustworthiness” یعنی اعتماد کا مطلب ہے کہ آپ کی ڈیجیٹل شناخت میں بند معلومات درست ہیں۔
کیمبرج تجزیاتی اسکینڈل اور دیگر غلط کام رازداری سے متعلق سنگین مسایل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہم ڈیجیٹل نظام میں طاقت ور ڈیجیٹل اجارہ داریوں کے تحت رہ رہے ہیں، جو بڑی مارکیٹ کی معیشتوں میں عدم مساوات کے عروج، سیاسی مقاصد کے لیے ڈیجیٹل صارفین کے بڑے پیمانے پر استحصال اور ڈیجیٹل صارفین کی ان کاروباری مقاصد کو حاصل کرنے میں مروجہ نااہلی سے منسلک ہیں، جو ان کا ڈیٹا پورا کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل ڈیٹا کو معیشت کو ڈگمگانے اور جمہوری عمل کوسبوتاثرکرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آئی سی ٹی کے ارد گرد مثبت اسپن کے ذریعے اس میں شامل ہونا بہت آسان ہے۔
ڈیجیٹل غلامی کی اصطلاح کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں شامل کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا ہمارے عقاید کو تشکیل دے رہی ہے اورآئے روز اس کی نئی شکل متعین کر رہی ہے۔ یہ بتا رہی ہے کہ ہم کس طرح اور کیا استعمال کرتے ہیں…… اور آئے روز اپنے مفادات کو تحفظ جب کہ صارفین کو غیر محفوظ کرنے کے قوانین نافذ کر رہے ہیں۔
غلاموں کی تجارت اور اس کے خاتمے کا عالمی دن ہر سال 23 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن غلاموں کی تجارت کی بھیانک نوعیت کے بارے میں بیداری پیدا کرتا ہے اور لوگوں کو بحر اوقیانوس میں غلاموں کی تجارت اور اس کے مضمرات کے بارے میں یاد دلاتا ہے۔ ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت نے 15 ملین سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا…… جن میں بچے بھی شامل ہیں 400 سال سے زیادہ عرصے سے۔ یہ دن غلاموں کی تجارت کے تمام متاثرین کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اس طرح کے طرزِ عمل کے تنقیدی امتحانات کو فروغ دینے کی کوشش بھی کی جاتی ہے جو استحصال اور غلامی کی جدید شکلوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ بات انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ ہم 15 ملین غلاموں کے لیے ایک عالمی دن مقررکرتے ہیں۔ لوگوں میں غلامی سے نفرت اور آزادی کی امنگ پیداکرنے کی سعی کرتے ہیں…… جب کہ ہم 15 ملین کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 40 ملین سے زیادہ لوگوں کو ڈیجیٹل غلامی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔
دنیا میں ظلم ختم نہیں ہوتا…… بلکہ وہ کسی نئی پُرکشش شکل میں دوبارہ شروع ہو جاتا ہے…… جیسے نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کی بجائے معاشی، سماجی، ثقافتی، زبانی اور دیگر اشکال میں ہمیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہے۔ ایسے ہی روایتی غلامی نے بھی انسان کو جسمانی غلامی کی بجائے ڈیجیٹل غلامی کی آہنی تاروں میں ایسے مقید کر رکھا ہے کہ ہم اپنے آپ کو آزاد اور خودمختار سمجھتے ہیں۔
ہماری سادہ دلی کی خیر!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔