سیلابی ریلا گزر گیا…… لیکن اپنے پیچھے تاریخی تباہ کاریاں چھوڑ گیا۔ حقیقی بدترین صورتِ حال وہ نہیں جو ٹی وی پر نظر آرہی ہے۔ وہ حوصلہ افزا منظر بھی نہیں…… جس میں کوئی وزیر مشیر کسی سیلاب زدہ کو تسلی دیتا ہوا نظر آ رہا ہے…… وہ تصویر بھی نہیں جس میں کسی ٹی وی کے ٹھنڈے ٹھنڈے سٹوڈیو میں چند لوگ بیٹھ کر سیلاب پر بحث کرتے نظر آتے ہیں…… اور وہ پریس کانفرنسیں بھی نہیں جن میں سرکاری ترجمان عوام کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ فُلاں جگہ پر اتنی امداد پہنچائی گئی اور اتنے ہزار روپے بانٹے گئے۔
قارئین! آپ میری باتوں سے مایوس نہ ہوں…… لیکن کیا کیا کیا جائے…… مَیں حقیقی صورتِ حال سامنے رکھنے پر مجبور ہوں۔ آج آپ کو جاننا ہی پڑے گا۔
یہ کام آپ بھی کرسکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ بصارت کے ساتھ اگر بصیرت سے کام لیا جائے اور ٹی وی دیکھنے کی بجائے خود گراؤنڈ رئیلٹی جاننے کی تھوڑی سی کوشش کی جائے۔ دور بھی جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اپنے قریب ترین علاقوں کا رُخ کریں۔ وہاں جاکے دیکھ لیں، پوچھ لیں اور معلوم کرلیں کہ حقیقت کیا ہے اور فسانہ کیا……؟ متاثرین پر کیا گزر رہی ہے اور حکومت کیا ڈفلی بجا رہی ہے……؟ آپ پر ساری صورتِ حال واضح ہوجائے گی۔ اس حوالے سے پوچھ گچھ یقینی طور پر ہونی چاہیے کہ کالام میں عین دریا کی زمین پر ہوٹل کی تعمیرات کا اجازت نامہ کس نے اور کتنی قیمت کے عوض فراہم کیا تھا؟
کالام کا ایک مشہور ہوٹل جو دریا بُرد ہوچکا ہے۔ 2010ء کے سیلاب میں بھی مذکورہ ہوٹل بہہ گیا تھا۔ کہنے والوں کے مطابق لگ بھگ بیس کروڑ کا خسارہ ہوا تھا۔ اتنے بڑے خسارے کے بعد پھر عین دریا کی زمین پر اُسی جگہ ہوٹل بنانے کا کیا جواز اور کیا تُک بنتی ہے؟
ایک مشہور صحافی نے تو ٹوئٹر پر یہ بھی دعوا فرمایا ہے کہ سابقہ کمشنر ملاکنڈ نے کالام اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کی مد میں مبینہ طور پر 80 کروڑ رشوت لی ہے۔ اس خبر کی اب تک اُس سرکاری افسر کی طرف سے جو آج کل پشاور میں تعینات ہیں، کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔
اب اگر یہ خبر غلط ہے، تو سرکاری افسر اس صحافی کے خلاف عدالتی کارروائی کی درخواست دیں…… اور اگر ایسا نہیں ہوتا، تو حکومت اس افسر کے اثاثوں اور آمدن کے ذرایع کی چھان بین کریں۔ کیوں کہ حالیہ سیلاب میں دیکھا گیا ہے کہ سوات میں تباہ ہونے والی عمارات میں تقریباً 90 فی صد وہ تعمیرات شامل تھیں، جو پانی کے راستے میں بنائی گئی تھیں۔ نجانے ہمیں فطری نظام کو چھیڑنے میں کیا مزا آتا ہے! ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قدرت کا انتقام خوف ناک ہوتا ہے۔ کیا تجاوزات، حکومتی اجازت کے بغیر ممکن ہیں؟
بہرحال اب سیلاب کے ’’افٹر شاکس‘‘ پورے ملک خاص کر سندھ اور بلوچستان میں دیکھنے کو مل رہے ہیں…… جہاں اکثریتی علاقہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ اشیائے خور و نوش کا شدید ترین بحران ہے۔ حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کی توجہ قابل رسائی علاقوں تک ہے۔ جب کہ زیادہ تر علاقوں تک کوئی ابھی پہنچا ہی نہیں…… وہاں کے عوام خدا کے آسرے پڑے ہیں۔
قارئین! پچھلے ہفتے میں نے کوئٹہ سے سفر کیا۔ یہ سفر عموماً 18، 20 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دفعہ سیلابی نقصانات اور راستوں کی بندش کی وجہ سے مذکورہ سفر 50 گھنٹوں سے زاید رہا۔
اپنی گذشتہ تحاریر میں بلوچستان کے حوالے سے ذکر کرچکا ہوں۔ بدقسمتی یہ دیکھیں کہ سیلاب کو گزرے دو ہفتے ہوچکے، تاحال لیکن بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مابین اہم تجارتی بین الصوبائی راہ درای (ژوب ڈی آئی خان راستہ) بحال نہ ہوسکی۔
اس طرح کوئٹہ کراچی راستہ بھی مکمل بحال نہیں ہوا۔ نتیجتاً باقی ماندہ پاکستان کا بلوچستان کے ساتھ اس وقت واحد راستہ جو کسی حد تک کار آمد ہے، وہ لورالائی ڈیرہ غازی خان کا راستہ ہے…… جو جنوبی پنجاب کے مشہور سیاحتی اور تاریخی فورٹ منرو کوریڈور سے ہوکر گزرتا ہے۔ اس راستے پر جانے والے جانتے ہیں کہ یہ اُنچے اُنچے چٹیل پہاڑوں پر مشتمل ایک پُرپیچ اور خطرناک جنکشن ہے۔ اندازہ اس سے لگالیں کہ خود راقم نے چند کلومیٹر کے اس کوریڈور کو عبور کرنے میں ایک دن اور دو راتیں انتظار کیا ہے۔ وہ بھی اس علاقے میں جہاں ہوٹل نہیں، موبائل کام نہیں کرتا کہ کسی سے رابطہ ہو…… پانی، مسجد، آبادی کچھ بھی وہاں نہیں۔ چاروں جانب آسمان کو چھوتے پہاڑ ہیں۔ تنگ سڑک جس پر دونوں جانب تاحدِ نگاہ گاڑیاں ہی گاڑیاں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ بھوک اور پیاس کے ساتھ انتظار کرتے ہزاروں مسافر…… گویا قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
میری ان سطور کے ذریعے مرکزی، بلوچستان اور پنجاب کی حکومتوں سے التماس ہے کہ راستوں کی بحالی تک اس پُرپیچ راستے سے گام زن مسافروں کو ہنگامی بنیادی پر خوراکی امداد پہنچائی جائے اور ساتھ میں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے فوج کو تعینات کیا جائے، وگرنہ وہاں انسانی المیہ جنم لینے والا ہے۔
اللہ تعالا ہی ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ کیوں کہ بعد از سیلاب کی صورتِ حال سیلاب والی سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔