پہلی جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ مغرب نے لیگ آف نیشنز کی بنیاد رکھی…… لیکن علامہ محمد اقبال کے الفاظ میں ’’کفن چوروں‘‘ کی یہ جماعت جس بُری طرح ناکام ہوئی…… واقعات اس پر شاہد ہیں۔
’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی ناکامی کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ وہ بین الاقوامیت کے غلط تصور پر قایم تھی اور خیال تھا کہ دنیا کے مختلف قوموں کے نمایندوں کو یک جاکر کے باہمی بحث و تمحیص سے دنیا کا امن قایم رکھا جاسکتا ہے۔
دوسری عالم گیر جنگ کے بعد اقوامِ مغرب نے پھر اپنے اُس ناکام تجربے کو دُہرایا اور سمجھ بیٹھے کہ ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی طرح بس صرف نام بدل لینے سے انہیں کامیابی مل جائے گی۔ ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی آخری کاروائی روس کے خلاف تھی…… جب 11 دسمبر 1939ء کو فن لینڈ پر روسی حملے کی مذمت کی گئی تھی اور اس کی رکنیت ختم کی گئی تھی۔ یہ آخری کارروائی ثابت ہوئی اور آخری اجلاس 18 اپریل 1946ء کو ہوا، تو ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کا سورج غروب ہوا۔
’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی نئی شکل ’’یونائیٹڈ نیشن آرگنائزیشن‘‘ (عرفِ عام میں اقوامِ متحدہ) 24 اکتوبر1945ء کو دیکھنے کو ملی۔ ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کا حلقہ چھوٹا اور تعداد 60 کے قریب تھی۔ 1935ء میں جاپان اور جرمنی بھی اس انجمن سے نکل گئے تھے۔ جمعیت اقوام کے پاس اختیارات نہیں تھے۔
اقوامِ متحدہ اپنے قیام سے اب تک ڈھائی سو کے قریب جنگیں اور لڑائیاں دیکھ چکی ہے۔ اس کے ارکان کی تعداد 193 ہے۔ اس کے چھے بنیادی ادارے جنرل اسمبلی، اکنامک اینڈ سوشل کونسل، سکیورٹی کونسل، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، ٹرسٹی شپ کونسل اور سیکریٹریٹ ہیں۔
تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ یوکرین کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد روس نے ویٹو کردی…… جس پر یوکرین کے صدر ’’ولودیمیر زیلنسکی‘‘ نے اقوامِ متحدہ کے صدر ’’انتونیو گوٹیرس‘‘ سے مطالبہ کیا کہ روس کو سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے حق سے محروم کیا جائے۔
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکہ کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ اسرائیل کے خلاف قرار دادوں کو امریکہ ویٹو کرتا چلا آرہا ہے۔ شام میں کیمیائی حملوں کی تحقیقات کی قرار داد کو 2017ء میں روس نے ویٹو کیا تھا، تاہم ویٹو پاور کسی مسلم ملک کے پاس نہیں۔
اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی موجودہ ہیئت امنِ عالم کے خطرات کو روکنے کے لیے عالمی قوتوں کے مفادات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ’’اسلامی تعاون تنظیم‘‘ اور عرب لیگ کو بھی مسلم اکثریتی ممالک نے فلسطین کے تنازع اور امتِ مسلمہ کو درپیش مسایل کو حل کرنے کے لیے قایم کیا تھا…… لیکن اس کے بھی جو نتایج ہیں، یہ بھی کسی سے کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔ ادوارِ سابقہ کی طرح عصرِ حاضر کے انسان نے بھی یہی عبرت انگیز تماشا اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا کہ وہی انسان اس عمارت کو خود اپنے ہاتھوں سے زمین پر گرا دیتا ہے، جس میں اس کی آرزوؤں اور تمناؤں کا وہ حسین مرقع خاک کے سوا کچھ نہیں رہتا…… جس کی ٹھیکریا ں اپنے مٹے ہوئے نقوش سے آنے والوں کو اپنی حدیثِ الم سے آگاہ کرنے کے لیے باقی رہ جاتی ہیں۔ بابل و نینوا، مصر اور یونان، چین اور ایران کے کھنڈرات کو چشمِ عبرت سے دیکھیے اور سوچیے کہ انسانوں نے اتنی محنت سے کاتے ہوئے سوت کو کس طرح بار بار خود اپنے ہی ہاتھوں سے بکھیر کر رکھ دیا۔
اقوامِ مغرب اور ان کی دیکھا دیکھی دیگر اقوامِ عالم کی موجودہ سیاست کی بنیاد صرف اپنے فروعی مفادات کو پورا کرنے کے لیے ہی قایم ہے۔ جنگِ اوّل نے بالعموم اور جنگِ دوم کے اسباب و علل اور نتایج و عواقب نے بالخصوص اس حقیقت کو بے نقاب کردیا کہ جسے تریاق سمجھا جاتا تھا۔ وہ انسانیت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ چناں چہ اب دانایانِ مغرب اپنی اس سوت کی انٹی کو خود اپنے ہاتھوں سے بکھیرنے کی فکر میں ہیں۔ انانیت اور تکبرنے نفرت کو بڑھاوا دیا اور جنگ کو نہ صرف ضروری ٹھہرایا بلکہ مقدس بھی۔
آج دنیا کا یہ تماشا ہمارے سامنے ہے کہ ترکی جس نے اپنے دفاع کے لیے روس سے ائیر ڈیفنس سسٹم خریدا جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول نہ تھا…… اور اس نے پابندیاں عاید کیں، تو بھارت کو یہی سسٹم لینے پر خاموشی کو ترجیح دی۔ نیٹو رکن ترکی نے امریکہ کو نہیں بلکہ اس دفاعی نظام کو ضروری خیال کیا جو ان کے نزدیک بہتر تھا۔ روس نے ترکی اور بھارت کو ایس 400 ائیر ڈیفنس میزایل سسٹم دیا۔ ’’روس یوکرین جنگ‘‘ کے بعد ترک وزیرِ خارجہ ’’مولود چاوش اولو‘‘ نے بحیرۂ اسود کے ساحلی اور غیر ساحلی تمام ممالک کے لیے ترک آبناؤں سے جنگی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے بند کردی کہ 1936ء میں طے کردہ معاہدہ مونٹریوکی شرایط نافذ العمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترکی اس جنگ میں شریک نہیں، تو جنگ میں برسرِ پیکار ممالک کے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو معطل کرنے کے اختیارات کا مالک ہے۔ اگر جنگی بحری جہاز اپنے بحیرۂ اسود کے اڈے پر واپس آرہا ہے، تو اس کے گزرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ ہم ’’معاہدۂ مونتریو‘‘ کی شرایط پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔
ترکی نے اپنے مفادات کو مقدم رکھا۔ چین نے سلامتی کونسل میں قرار داد پر محتاط رویہ اختیار کیا اور ووٹ کے عمل میں حصہ نہ لیا۔ امریکہ نے اپنے فوجی بھیجنے سے انکار کیا۔ روس کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مغربی اتحادنے یوکرین کو ہتھیاروں سے لیس کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یوکرینی صدر نے مغربی اتحاد کی بے وفائی پرآنسو بہائے ۔ ہر ملک مفادات کو مقدم رکھتا اور وہ کرتا ہے جو اُسے بہتر لگے۔
اس تمام تر صورتِ حال میں پاکستان نے غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ اور اس کا اعلان بھی کیا…… لیکن یورپی ممالک کا یہ کہنا کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو کسی عالمی قوت کے ایما پر تنازع میں الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یوکرین کو یورپی ممالک سے گلہ جاری رکھنا چاہیے…… جنہوں نے اسے ایٹمی طاقت کو ’’رول بیک‘‘ کرنے، نیٹو اور یورپی یونین میں شامل کرنے کا لالی پاپ دے کر روس پر دباؤ بڑھایا…… اور اس کے ارد گرد فوجیں تعینات کیں…… جس کی وجہ سے منسک معاہدہ ختم ہوا۔ اقوامِ متحدہ کے کردار پر بات کرے، تو وہ صرف اس کے لیے ہی نہیں بلکہ فلسطین، مقبوضہ کشمیر سمیت کئی عالمی دیرینہ تنازعات کو بھی حل کرائے۔
آج یورپ نے اپنی سرحدوں کو کھول دیا…… اچھا کیا…… کاش……! شام، عراق اور فلسطین کے پناہ گزینوں کا بھی ایسا ہی درد محسوس کیا جاتا۔ یورپ، برطانیہ اور امریکہ کو یہ سوچنا ہوگا کہ ان کا رویہ موجودہ اقوام متحدہ کو ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی طرح خطرے میں تو نہیں ڈال رہا……!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔