یہ لندن کی ایک نجی محفل کا احوال ہے، جس میں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی مرد اور خواتین بھی موجود تھے۔ پاکستان سے آئے ہوئے بائیں بازو کے ایک دانش ور ان سے مخاطب تھے۔ پاکستان کے حالات کے بارے میں ان کا دلچسپ تجزیہ سننے والوں میں مجھ سمیت اور ڈھیر سارے اوورسیز پاکستانی بھی شامل تھے۔
فیضان عارف کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/faizan/
وہ کَہ رہے تھے کہ ہم سب پاکستانی جن عیار سیاست دانوں کے چنگل میں پھنس چکے ہیں، وہ سب اقتدار پرست اور اپنے مفادات کے پجاری ہیں۔ انھیں ہر دور میں ایسے بے وقوف عوام کی حمایت درکار ہوتی ہے، جو جذباتی اور نعرے باز ہوں۔ شخصیت پرستی پر فخر کرتے اور جمہوریت کے نام پر فریب کھانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہوں۔ ہمارے یہ سیاست دان اپنی کارستانیوں سے کبھی باز نہیں آ سکتے۔ اس لیے یہ توقع نہ رکھیں کہ ہمارے یہ سیاست دان اور حکم ران تبدیل ہو جائیں گے اور ملک و قوم کو ترقی یافتہ اور خوش حال بنانے کے لیے کوئی تبدیلی لے کر آئیں گے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ عوام اب مزید ان کے دھوکے میں نہ آئیں بلکہ خود کو تبدیل کریں۔ کیوں کہ جس دن سے ہمارے ملک کے عوام ٹھیک ہونے کا تہیہ کریں گے، اُسی دن سے پاکستان کے حالات بدلنا شروع ہوجائیں گے۔ ملک کے عوام اگر دیانت داری، رواداری، انصاف پسندی، قانون کے احترام، حق اور سچ کی حمایت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ دغابازی، منافقت، خوشامد اور غیبت کو اپنے معمولاتِ زندگی سے نکال دیں، جھوٹی شان و شوکت سے مرعوب نہ ہوں، سادگی اور صفائی کو اپنائیں اور کم بچے پیدا کریں، تو اس سے نہ صرف ہماری اپنی بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی بھی آسان ہو جائے گی۔
ان کے بقول، یہ نہ سوچیں کہ اس ملک نے آپ کو کیا دیا…… بلکہ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ اپنے ملک کو کیا دے رہے ہیں؟ آج اگر ہمیں ہر وہ شخص برا لگتا ہے جو ڈسپلن (نظم و ضبط)، اصول پسندی، قانون کے احترام، وقت کی پابندی اور سادہ زندگی گزارنے کا پرچار کرکے خود بھی اس پر عمل کرتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ پاکستان کے حالات کو اس نہج تک پہنچانے میں ہمارا کتنا ہاتھ ہے۔ ہر خرابی کے لیے اپنے سیاست دانوں اور حکم رانوں پر ملبہ ڈال دینا ہی کافی نہیں۔
نواز شریف اور بھٹو فیملی سے لے کر عمران خان اور مذہبی رہنماؤں تک ہر ایک کو اپنے عوام کی نفسیاتی کم زوریوں کا پوری طرح ادراک ہے۔ اسی لیے وہ عوام کو چکما دینے کے لیے وہی حربے استعمال کرتے ہیں جو آزمودہ ہیں اور کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے تمام سیاست دانوں اور حکم رانوں کی طرح عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے اربابِ اختیار بھی یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ انھوں نے ملک و قوم کے لیے سب اچھے کام کیے ہیں۔ اگر ایسا ہے، تو ملک کے زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ جب تک ہمارے ملک میں معیاری پرایمری تعلیم و تربیت کو ہر ایک کے لیے لازمی نہیں بنایا جائے گا۔ اس وقت تک ہماری قوم کا مستقبل مخدوش رہے گا، کیوں کہ جاہل اور غیر تربیت یافتہ لوگوں کی برین واشنگ بڑی آسانی سے کی جاسکتی ہے اور ہمارے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ملک کی آدھی آبادی کی برین واشنگ ہمارے ملا اور مذہبی ٹھیکے دار کر رہے ہیں اور باقی آدھی آبادی کی برین واشنگ کا ٹھیکا ہمارے نام نہاد سیاست دانوں نے لے رکھا ہے۔ اس ملک اور قوم کا مستقبل اس وقت تک تاب ناک نہیں ہوسکتا، جب تک عوام اپنے طرزِ عمل اور طرزِ زندگی کو ٹھیک نہ کریں۔ کیوں کہ افراد کے ہاتھوں میں ہی اقوام کی تقدیر ہوتی ہے اور ہر فرد اپنی ملت کے مقدر کا ستارہ ہوتا ہے۔
ان کے بقول، تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں اندرونی اور بیرونی خطرات اور سازشوں کا سامنا ہے۔ ہمارے دشمن ملکوں کو اندازہ ہے کہ پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں اور ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان پر حملے کی جرات نہیں کر سکتے۔ اسی لیے انھوں نے پاکستان کو اقتصادی طور پر کم زور کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہمارے دشمنوں کو معلوم ہے کہ جب تک ہم منتشر رہیں گے، ہمارے اندر حب الوطنی کا جذبہ نہیں پنپ سکے گا۔ اسی لیے وہ جاہل ملاؤں کے ذریعے (جو کہ ہمارے دشمنوں کے ایجنٹ ہیں) ہمیں فرقہ واریت کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں اور قوم پرستی کے نام پر ہمیں پنجابی، سرائیکی، سندھی، بلوچی اور پشتون میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور یہ کام بھی پاکستان دشمنوں کے ایجنٹوں (نام نہاد قوم پرست لیڈرز) کے ذریعے کیا جا رہا ہے، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خطیر وسایل صرف کیے جا رہے ہیں۔
ان کے بقول، شخصیت پرستی، فرقہ واریت اور قوم پرستی ہی وہ حربے ہیں جن کو کامیاب کرنے کے لیے پاکستان میں ایجنٹوں کی کمی نہیں۔ تقسیم شدہ اور بکھری ہوئی قوم ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو ہوا دینے میں مصروف رہتی ہے اور اب سوشل میڈیا اس آگ کو بھڑکانے میں پیٹرول کا کام کرتا ہے۔ نفرت سے لب ریز قومیں ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے کے درپے رہتی ہیں۔ ان کے لیے ملک و قوم کی اقتصادی ترقی اور سماجی خوش حالی بہت ثانوی حیثیت رکھی ہے۔ جس ملک کے عوام کی اکثریت جاہل اور اَن پڑھ ہو، وہاں نفرتوں، فرقہ واریت اور قوم پرستی کے بیج بونے کے لیے زمین بہت زرخیز ہو جاتی ہے۔
قارئین! پاکستان سے آئے ہوئے ان دانش ور کا وطنِ عزیز کے حوالے سے تجزیہ سن کر ہم سب تارکینِ وطن نے ان کے خیالات کو سراہا۔ مَیں نے ان سے استفسار کیا کہ ان حالات میں اوورسیز پاکستانی کو کیا کرنا چاہیے یا وہ اپنے ملک کی اقتصادیات کی بہتری کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ انھوں نے اس حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ پاکستانی مقیم ہیں۔ بالخصوص مڈل ایسٹ، امریکہ اور برطانیہ کے اوورسیز پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی برانچیں بالکل نہ بنائیں اور نہ پاکستان سے آنے والے سیاست دانوں کو استقبالیے ہی دیں یا ان کی میزبانی کے لیے ان کے آگے پیچھے پھریں۔ اپنے وسایل کو ضایع نہ کریں جو زرِ مبادلہ وہ مفاد پرست سیاست دانوں کی پذیرائی پر خرچ کرتے ہیں، اس سے پاکستان میں کسی غریب طالب علم کو سپانسر کریں، تاکہ وہ اعلا اور معیاری تعلیم حاصل کرسکے۔ دوسرا کام اوورسیز پاکستانیوں کو یہ کرنا چاہیے کہ اپنے خاندان کے کسی ایک فرد کو بیرونِ ملک بلالیں۔ کیوں کہ ایک فرد کے باہر آ جانے سے کم از کم ایک خاندان کے مالی حالات بہتر ہوجاتے ہیں۔
ان کے بقول، ہمیں یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ آ جائے، اتنا ہی اچھا ہے کہ ہمارے دشمن ہمیں سرحدوں پر سے مارنے کی بجائے ہماری سرحدوں کے اندر سے اپنے ایجنٹ بھرتی کرکے ان کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کر رہے ہیں…… اور اس کام کے لیے وہ پیسے اور وسایل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ کئی دہائیوں پہلے انھوں نے پاکستان کو کم زور کرنے کے لیے فرقہ واریت اور قوم پرستی کی فصل بوئی تھی…… اوراب وہ پک کر تیار ہو چکی ہے۔ اگر آپ جایزہ لیں کہ فرقہ واریت پھیلانے والے ملاؤں اور قوم پرستی کو ہوا دینے والے لیڈرز کے ذرایع آمدن کیا ہیں……اور ان کے پاس پیسا اور وسایل کہاں سے آتے ہیں……؟ تو ساری حقیقت واضح ہو کر سامنے آ جائے گی۔یہی وہ لوگ ہیں جو عوام میں نفرتیں پھیلا کر دشمن کے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں۔ ہمارے دشمنوں کو پوری طرح اس حقیقت کا پتا ہے کہ اگر پاکستانی متحد ہو کر ملک و قوم کے لیے کام کرنے لگ گئے، تو وہ ہر طرح کی اقتصادی غلامی اور بیرونی قرضوں کی لعنت سے نجات حاصل کرلیں گے۔ اسی لیے ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ پاکستان پر کرپٹ سیاست دان، فرقہ واریت کی آگ بھڑکائے رکھنے والے ملا اور قوم پرستی کے نام پر نفرتوں کے بیج بونے والے نام نہاد لیڈرز یوں ہی مسلط رہیں…… اور عوام کے جذبات اور جاہلانہ نفسیات کو استعمال کر کے پاکستان کو کم زور سے کم زور تر کرنے کا مشن جاری رکھیں۔
ان کے بقول، اب بھی وقت ہے کہ عوام خوابِ غفلت سے جاگیں۔ سیاست دانوں اور حکم رانوں سے کوئی توقع رکھنے کی بجائے اپنی تقدیر آپ بدلنے کے لیے ہوش کے ناخن لیں۔ پاکستان دشمن ایجنٹوں کی چال کو سمجھیں۔ وگرنہ کہتے ہیں کہ غافل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے…… جب بند ہونے کے قریب ہوتی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔