لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ اکثر نوجوان مجھ سے کہتے ہیں کہ وہ مایوس ہیں۔ سب کی تکلیف دگنی ہے۔ پاکستان کسی جہنم سے کم نہیں۔ پڑھے لکھے لوگ اور مختلف پوڈ کاسٹ پر مشہور لوگ بھی ہمارے ملک پر آنے والے کالے بادلوں کے سایہ کی پیشین گوئی کرتے سنائی دیتے ہیں، اور یہ سب یقینا سچ بھی ہے۔
ہم نے مان لیا کہ پاکستان ایک جہنم ہے اور آپ کو اور مجھے اس جہنم میں رہنا ہے، تو ہمیں کچھ ایسا فلسفہ اور ایسے استاد چاہیے جو ہمیں اس جہنم میں رہنے کا فن سکھائیں، نہ کہ صرف اس سے بھاگنے کی ترغیب دیں (کیوں کہ 22 کروڑ عوام کو یورپ گود نہیں لینے والا)، جو ہمیں ہمارے ذہن کو قابو میں کرنا سکھائیں۔ حقیقت کو دیکھنے کا فن سکھائیں۔ تاکہ صبح و شام اس جہنم کی آگ میں بھی ہمارا ذہنی سکون برقرار رہے اور ہماری تکلیف کم ہو۔ اور کیا ہی عجیب ہو، اگر آپ جہنم میں رہنے کو انجوائے بھی کرنے لگیں!
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ishaq/
٭ جہنم کیا ہوتا ہے؟
مختلف مذاہب نے اس کی مختلف تعریفیں اور وضاحتیں بیان کی ہیں، اور مَیں ان وضاحتوں میں نہیں پڑنا چاہتی۔ مَیں جس جہنم کی بات کر رہی ہوں، وہ اس دنیا میں ہے۔ وہ جہنم جو آپ کے اندر ہے (Inner Hell)، اور بدھسٹ مونک ’’اجہن سونا‘‘ (Ajahn Sona) اسے درد کہتے ہیں۔ ’’درد ہی جہنم ہے۔‘‘ (اجہن سونا)
درد انسان کی زندگی کا اہم جز ہے۔ اس سے بھاگنے والے یا اسے کوسنے والے اپنے درد کو مزید بڑھاتے ہیں اور اگر درد ہی جہنم ہے، تو پھر آپ کہیں بھی رہتے ہوں، اس جہنم سے آپ کا چھٹکارا حاصل کرنا ناممکن ہے۔ کیوں کہ نیورو سائنس کہتی ہے کہ ہمارے دماغ میں درد اور ’’پلیژر‘‘ (Pleasure) کو توازن میں لانے کا ایک نظام نافذ ہے۔ جب آپ درد سے بھاگ کر پلیژر والی سائیڈ پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، تو وہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھنے لگتا ہے۔ ’’یووال نوح‘‘ کہتے ہیں کہ جگہیں بدلنے سے دماغ نہیں بدلتا۔ اس لیے درد آپ کی حیاتی کا فطری حصہ (Inherent Part) تھا، ہے اور رہے گا۔
انسانوں کی تکلیف کے متعلق ایک بہت عجیب لیکن دلچسپ سی بات ہے اور وہ یہ کہ ہمارا درد کتنا تکلیف دہ ہے، اس کا اندازہ ہمارے ارد گرد کے حالات سے زیادہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہمارا ذہن اس درد کو کس نظر اور کس تصور سے دیکھتا ہے۔ بدھ ازم اور اسٹائیسزم دونوں کا یہی ماننا ہے کہ آپ اس دنیا ہی میں جہنم کا مزہ چکھتے ہیں اور یہ جہنم آپ کے اندر ہوتا ہے۔ اگر آپ کے عمل درست نہیں۔ درست راستے پر چلنے کے لیے درست ذہنیت (Right Mindset) کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی اور ارد گرد کی حقیقت کو دیکھ کر اسے قبول کرتے ہوئے اس بات کو سمجھ لینا کہ اگر ہم چاہیں، تو اپنے ذہن کو قابو کرکے اپنی اندرونی تکلیف کو کسی حد تک کنٹرول کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ بقول بدھا کے، یہ ذہن ہی تو ہے جو تجربات بناتا، انھیں معنی دیتا اور ان کی قیادت کرتا ہے۔
جیسے خوب صورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے، ویسے ہی درد کی جانب رویہ اور تصور بھی انسان کے ذہن پر منحصر ہوتا ہے۔ وہ حالات یا عادات جو آپ کو عجیب، بورنگ یا دل دہلا دینے والے لگیں، کچھ لوگوں کو ان حالات میں سکون ملتا ہے یا لطف آتا ہے۔
اب چوں کہ ہم ایک غریب ملک میں رہتے ہیں، تو ہمارا شمار ان لوگوں میں ہے جن کے اندر تو جہنم ہے ہی، لیکن باہر کا منظر بھی خوش گوار نہیں۔ اب ایسے میں کیا کرنا چاہیے ؟
انسان بہت خطرناک حد تک خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کیسے بھی حالات ہوں، ان کے مطابق اپنی خوشی کے لیول سیٹ کرلیتا ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ آپ کا ذہن ہمیشہ تکلیف میں رہے۔ آپ کا ذہن اپنی سکت اور حالات کے مطابق خوشی ڈھونڈ لیتا ہے۔ اس لیے برے حالات میں بھی اندرونی سکون کو برقرار رکھنا ممکن ہے (اگر آپ کا ذہن آپ کے قابو میں ہے تو) اور ایسا ذہن ہی موجودہ وسایل کا استعمال کرکے اپنی تکلیف کو کسی حد تک کم کرسکتا ہے۔ جو ذہن انتشار، خوف اور انزائٹی میں ہو، وہ درد کو اور بھی شدت سے محسوس کرتا ہے۔
فلسفی ’’البرٹ کیمو‘‘ کہتے ہیں کہ یونانی افسانوی کہانیوں کا کردار سسیفس (Sisyphus) جسے ابد تک یہی سزا ملی تھی کہ وہ بڑے سے پتھر کو پہاڑ پر گھسیٹتا ہوا لے کر جائے گا، البرٹ کے مطابق ہماری زندگی کی حقیقت بھی اسی پتھر جیسی ہے۔ ہم بھی سسیفس ہی ہیں لیکن البرٹ یہ کہتے ہیں کہ کیوں نہ ہم یہ تصور کریں کہ سسیفس اس پتھر کو مسکراتا ہوا گھسیٹ کر لے کر جا رہا ہے اور بہت خوش بھی ہے۔ ہمیں سسیفس کو خوش اور مسکراتا ہوا تصور کرنا ہوگا۔ (البرٹ کیمو)
سوچیں کہ اس جہنم میں جہاں ہر طرف مسایل ہیں اور ان مسایل سے بھاگنا ممکن نہیں۔ ہم پھنس چکے ہیں بہت بری طرح، تو کیوں نہ البرٹ کیمو کے سسیفس کی طرح مسکرا کر روز اس جہنم کی آگ میں جلا جائے۔ کیوں نہ اپنی حالت پر زوردار قہقہہ لگایا جائے۔ کیوں نہ درد کو چکما دیا جائے۔ کیوں نہ اسٹائک فلاسفر ایپکٹیٹس (Epictetus) سے سیکھا جائے، جنھوں نے تکلیف دِہ بیماری سے مرتے ہوئے اپنے آخری دن کو بھی اچھا دن کہا تھا۔ بہت ممکن ہے کہ آخرت والے جہنم میں بیٹھا ابلیس (Lucifer)بھی آپ کی درد سے نمٹنے کی صلاحیت، چالاکی اور شاطر چالوں کو دیکھ کر سوچے کہ آدم کو سجدۂ تعظیم نہ کرکے اس نے کہیں غلطی تو نہیں کردی!
آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں بس جائیں، لیکن یاد رکھیں کہ آپ کا اندرونی جہنم یعنی کہ درد آپ کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑے گا۔ وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا۔ اس جہنم کو توازن میں وہی ذہن رکھ سکتا ہے جو قابو میں ہو۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔