قارئین! فیفا اور قطر دونوں ہی مبارک باد کے مستحق ہیں، جنھوں نے اتنا اچھا ایونٹ منعقد کروایا۔ دونوں ٹیموں نے بہت ہی شان دار اور جان دار کھیل پیش کیا۔ فرانس اور ارجنٹینا کا یہ میچ مدتوں یاد رکھا جائے گا اور یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار ہونا والا فٹ بال تیسری بار فیفا کا حصہ بنا اور یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ پاکستانی فٹ بال ٹیم ایک بار بھی فیفا کا حصہ نہ بن سکی۔
روحیل اکبر کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/akbar/
پاکستان انٹرنیشنل فٹ بال ٹیم، فیفا کے مجاز ایونٹس میں اگر شامل ہوتی، تو پاکستان فٹ بال ایسوسی ایشن کی نمایندگی کرتی ہے جو پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے زیرِ کنٹرول ہے اور پاکستان میں فٹ بال کی گورننگ باڈی ہے…… لیکن جس طرح سیاسی مداخلت نے ہمارے دوسرے میدان تباہ کیے، بلکہ اسی طرح پی ایف ایف میں بیٹھے ہوئے سفارشیوں اور چال بازوں نے ہماری فٹ بال کو بھی تباہ کردیا۔
پاکستان 1948ء میں ایشین فٹ بال کنفیڈریشن میں شامل ہو کر فیفا کا رکن بنا اور 2020ء تک پاکستان ایشیا کی واحد ٹیم ہے جس نے کبھی فیفا ورلڈ کپ کوالیفائنگ گیم نہیں جیتی۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ کمی ہے تو میرٹ پر بھرتیوں کی…… جس طرح فیڈریشن میں قبضہ گروپ اور مافیا براجمان ہے، اسی طرح فٹ بال ٹیم میں بھی انھی کے کارندے شامل ہیں۔
شروع شروع میں پاکستان ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن چمپئن شپ اور ساؤتھ ایشین گیمز میں حصہ لیتا رہا تھا۔ ہماری فٹ بال ٹیم 1989ء، 1991ء، 2004ء اور 2006ء میں ساؤتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیت چکی ہے، لیکن پاکستان نے کبھی جنوبی ایشیائی خطے سے باہر کسی بڑے ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہیں کیا۔
پاکستان نے اپنا بین الاقوامی آغاز اکتوبر 1950ء میں ایران اور عراق کے دورے سے کیا۔ اپنا پہلا ہی میچ پاکستان ایران کے خلاف ایک گول کے مقابلے میں پانچ سے ہار گیا…… اور پھر ہم نے اپنی ہار کا یہ سلسلہ رُکنے نہیں دیا۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ پوری دنیا کے سپر ہٹ کھیل فٹ بال سے ہمارا نام ہی ختم ہوگیا۔
اب تو خیر سے ہماری فیڈریشن بھی معطل ہے۔ فیصل صالح حیات جنھوں نے سیاست میں تو کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا، نے فٹ بال کا بھی بیڑا غرق کردیا۔
انسپریشن:
https://lafzuna.com/blog/s-30351/
فیڈریشن پر قبضے، لڑائیاں اور پھر عدالتیں اس مظلوم کھیل کا مقدر بن گئیں…… اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرِکار 10 اکتوبر 2017ء کو فیفا نے پاکستان کو فٹ بال کی تمام سرگرمیوں سے معطل کر دیا، جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ایڈمنسٹریٹر اسد منیر کو پاکستان میں فٹ بال کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا اختیار دیا اور پھر فروری 2017ء میں لاہور ہائی کورٹ نے فیصل صالح حیات کو پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر کے طور پر بحال کر دیا۔
27 مارچ 2021ء کو پی ایف ایف کے دفتر پر حملہ کیا گیا اور اندر موجود لوگوں کو اس کے سابق صدر سید اشفاق حسین شاہ اور ان کے گروپ نے یرغمال بنالیا اور خواتین کی جاری چمپئن شپ منسوخ کر دی گئی، جس پر بڑے کلبوں نے شدید احتجاج بھی کیا۔
فیفا نے کئی مواقع پر پی ایف اے کو وارننگ اور معطل بھی کیا۔ اس سے قبل فیفا نے تیسرے فریق کی مداخلت (یعنی لاہور ہائی کورٹ کی مداخلت) کو جلد از جلد ختم نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کو معطل کرنے کی وارننگ بھی جاری کر رکھی تھی اور پھرہمارے قبضہ گروپوں کے مفادات اور لالچ کے باعث 10 اکتوبر 2017ء کو، فیفا نے ’’پی ایف ایف‘‘ کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ تب سے اب تک کی صورتِ حال یہ ہے کہ جب تک گورننگ باڈی کی جانب سے مزید نوٹس فراہم نہیں کیا جاتا، پاکستان سرکاری طور پر کسی فٹ بالنگ سرگرمی کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم 2018ء میں، فیفا کی طرف سے پابندی ہٹا دی گئی تھی…… اور پاکستان کو 2018ء کے ایشین گیمز اور 2018ء کے ’’ایس اے اے ایف‘‘ مقابلوں میں شرکت کا موقع بھی فراہم کیا گیا تھا، لیکن ہماری اپنی خرابیوں اور ذاتی مفادات نے ہمیں فٹ بال سے دور کردیا…… اور فیفا نے تیسرے فریق کی مداخلت کی وجہ سے فیڈریشن کو فوری طور پر معطل کر دیا۔
افغانستان کا مستقبل:
https://lafzuna.com/blog/s-30183/
یکم جولائی 2022ء کوفیفا نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن پر سے پابندی ہٹا دی اور فنڈز بھی جاری کیے، لیکن اُسی پرانے سسٹم میں پرانے لوگوں کی وجہ سے فٹ بال آگے نہ بڑھ سکا۔
اب بھی موقع ہے کہ فیڈریشن کو فٹ بال کھیلنے والوں کے حوالہ کردیا جائے۔ اپنے ذاتی مفادات اور لالچ کی خاطر اس کھیل کو مزید نہ تباہ کیا جائے۔ ہمار ا یہ کھیل دیہاتوں میں سب سے زیادہ کھیلا جاتا ہے۔ بہت سے نایاب ہیرے ہمیں مل سکتے ہیں۔ دنیا ئے فٹ بال میں ہم واپس آسکتے ہیں، مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ فیڈریشن پر قابض مافیا اور ٹولے سے جان چھڑوائی جائے۔
ہماری ہاکی بھی سیاست کی نذر ہوکر ختم ہوچکی ہے۔ موجودہ حکومت کی کرکٹ پر بھی نظر ہے۔ خبر ہے کہ نجم سیٹھی کو دوبارہ پی سی بی کا سربراہ بنایا جارہا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ رمیز راجہ بہترین ہیں۔ پی سی بی کے لیے اگر انھیں ہٹاکر کسی اور کو نوازنے کے لیے یہاں تعینات کیا گیا، تو پھر فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ کا ایک ہی حال ہوگا۔
خدارا! پاکستان پر قبض ’’مافیاز‘‘ کم از کم کھیل کے میدانوں کو تو بخش دیں۔ ہمارے کھیل ہمارے ملک کا روشن کل ہیں، جو ہمیں امید کے سہارے دنیا میں زندہ رکھیں گے، ورنہ ہم تو پہلے سے دنیا کے ہر اچھے کام میں آخری نمبر پر اور برائی کے کاموں میں پہلے نمبر پر موجود ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔