مجھے اِن باکس (فیس بُک) میں کسی نے میسج کرکے کہا کہ کوئی ایسا طریقہ بتائیں یا کتاب تجویز کریں، جس میں ہمیں اُن لوگوں کے ساتھ نمٹنا سکھایا جائے، جو ہم سے بالکل مختلف شخصیت یا سوچ رکھتے ہیں۔
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/ishaq/
اس سوال سے مجھے سوشیالوجسٹ (Sociologists) کی جاپان کی چاول والی تھیوری (Japanese Rice Theory) یاد آگئی۔
سوشیالوجسٹ کہتے ہیں کہ مغرب اور مشرق میں ثقافت اور لوگوں کی سوچ پر ’’چاول‘‘ اور ’’گندم‘‘ کی کاشت کا بھی کسی حد تک اثر رہا ہے۔ جن جگہوں پر گندم کی کاشت ہوئی، وہاں لوگ انفرادی (Individual)، خود پرمنحصر (Self-reliant)، تجزیاتی (Analytical) اور ایجادات (Innovation) جیسی خصوصیات کی جانب مایل ہوئے، لیکن چوں کہ گندم اُگانا چاول اُگانے سے قدرے مختلف کام ہے…… اور یہی وجہ ہے کہ جاپان اور باقی کے وہ علاقے جہاں چاول کی کاشت زیادہ ہوئی، اور چوں کہ چاول اُگانے کا عمل گندم سے بالکل مختلف ہے…… کیوں کہ اس کام کے لیے آپ کو دوسروں کی مدد درکار ہوتی ہے…… اور آپ ان پر منحصر رہتے ہیں، تبھی جاپان اور باقی کے مشرقی ممالک میں اجتماعیت (Collectivism)، لحاظ (Considerate) اور خرد (Intuition) جیسی خصوصیات نے جنم لیا۔
چائینہ میں شمال میں ’’گندم‘‘ جب کہ جنوب میں ’’چاول‘‘ کی کاشت ہوتی ہے…… اور سوشیالوجسٹ کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ شمال میں رہنے والے چائینز باشندوں کی سوچ ’’مغرب‘‘ سے میل کھاتی ہے…… جب کہ جنوبی باشندے ’’مشرقی ثقافت‘‘ کی خصوصیات کے حامل ہیں۔
چاول اور گندم پر بوریت سے بھرپورلیکچر دینے کے بعد اب اصل مدعے پر آتے ہیں۔ مَیں اکثر جب سوشل میڈیا یا کہیں پر بھی لوگوں کو کم شعور یافتہ یا خود سے مختلف سوچ یا طرزِزندگی پر چلنے والوں کے خلاف بولتا سنتی ہوں…… اور جب سب ایک دوسرے کو ’’جاہل‘‘ اور ’’گنوار‘‘ کے لقب سے نوازتے ہیں، تو مجھے اس چاولوں والی تھیوری کی یاد آجاتی ہے جس کے مطابق آپ کی شخصیت آپ کے ماحول کے زیرِ اثر بنتی ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہم اپنے ماحول کا پروڈکٹ ہوتے ہیں…… اور خاص کر ہمارے ذریعۂ معاش (Job) کا ہماری شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے، ایک کاروباری انسان کی شخصیت ایک سائنس دان یا آرٹسٹ سے مختلف ہوتی ہے…… یا پھر جو لوگ شوبزنس سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی زندگی میں عام لوگوں کی نسبت ڈراما زیادہ اور مصنوعی پن ہوتا ہے۔ کیوں کہ ان کے کام کا اثر ان کی شخصیت پر ہوتا ہے…… لیکن جب آپ کو آگاہی (Awareness) ہو، تو آپ خود کو اپنی جاب سے چڑھنے والے منفی رنگ سے بچاسکتے ہیں۔ اور ایسا ہی کچھ وہ جناب کررہے تھے، جنھوں نے مجھے میسج کیا تھا کتاب تجویز کرنے کے لیے۔ چوں کہ وہ جناب جہاں کام کرتے ہیں، وہاں ماحول منفی اور تناو (Stress) سے بھرپور ہے…… اور وہ نفسیات کا مطالعہ بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی کوشش رہتی ہے کہ وہ ادارے میں ماحول کو تھوڑا خوش گوار رکھیں اور مِزاح کا عنصر بھی شامل ہو، تاکہ ماحول میں موجود تناو کم ہو (اسی حوالے سے انھوں نے مجھ سے کتاب تجویز کرنے کو کہا تھا۔)
اگر اُن جناب کو یہ آگاہی نہ ہوتی، تو شاید وہ کبھی ماحول اور اس کی اہمیت کا اندازہ نہ لگا پاتے۔
روس کے دریا:
https://lafzuna.com/blog/s-30157/
ہم بحیثیتِ پاکستانی ایک دوسرے کو لعن طعن کرتے ہیں کہ یہاں سب ’’جاہل‘‘ اور ’’گنوار‘‘ ہیں…… لیکن آپ سوچیں کہ ایک عرصہ انگریزوں کی غلامی اور پھر ان سے آزادی ملنے کے بعد اپنے اداروں (Institutions) کی غلامی اور ان سخت حالات اور شعور نہ ہونے کی وجہ سے شاید ہم یہی بن سکتے تھے…… جو آج ہم ہیں! اس لیے جاپان کی چاول والی یہ تھیوری ہمیں ہم دردی (Compassion) کی جانب بھی لے کر جاتی ہے۔ اپنے ارد گرد والوں کی جانب ہم دردی۔
یہ تھیوری ہمیں اپنی ذات کی جانب ہم دردی (Self-compassion) کا سبق بھی سکھاتی ہے۔ کیا آپ اس وقت اپنی شخصیت کا حقیقی جایزہ لے کر خود کو اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ قبول کرکے اپنی جانب ہم دردی کا اظہار کرسکتے ہیں؟کیوں کہ آپ اور کچھ نہیں بلکہ اپنے ماحول کا پروڈکٹ ہی تو ہیں۔
ہم ماحول (کسی حد تک) تب بدل سکتے ہیں…… جب ہم ’’شعور یافتہ‘‘ (Conscious) ہوجاتے ہیں…… تب سب سے پہلے ہم خود کو اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ قبول (Accept) کرکے آہستہ اور صبر کے ساتھ اپنے ماحول کو نئے انداز میں تشکیل دینے لگتے ہیں، تاکہ ہم اپنی مطلوبہ پروڈکٹ بن سکیں۔ کیوں کہ اب آپ جانتے ہیں کہ آپ کی کوئی غلطی نہیں…… آپ کو شعور نہیں تھا۔
اور اگر آپ کے آس پاس والوں کو آگاہی یا شعور نہیں…… اور انھیں آپ کی رائے سننے میں کوئی دلچسپی نہیں، تو انھیں بھی ویسے ہی قبول کریں جیسے وہ ہیں۔ کیوں کہ آپ کے لعن طعن کرنے سے لوگوں کو شعور آتا ہے یا نہیں…… یہ تو میں نہیں جانتی۔ البتہ آپ کی اپنی ’’انرجی‘‘ (Energy) ضرور بچے گی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔