پنجابی فلموں کے مشہور ہیرو اور سپر سٹار سلطان راہی (مرحوم) ایک جیل میں کسی فلم کا سین فلما رہے تھے کہ ایک نوجوان قیدی ان کے پاس آیا اور کہا کہ فلموں میں تمھارے کرداروں سے متاثر ہوکر میں نے حقیقی زندگی میں ایک ایسا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں، مَیں آج قید کی سزا بھگت رہا ہوں۔
ماسٹر عمر واحد کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/master-umar-wahid/
اس ایک واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ متحرک تصاویر پر مبنی سین انسان کے ذہن پر کتنا اثر ڈالتے ہیں۔ آج سے پچیس تیس سال پہلے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موجودہ ذرایع نہیں تھے، نہ ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانس تھی، تو فلم بینی تفریح کا واحد ذریعہ تھی…… جب کہ معاشرے میں فلم بہت کم لوگ دیکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس زمانے میں معاشرے میں اچھی روایات اور اخلاقی اقدار موجود تھیں۔ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی نے انسان کو تفریح اور رابطے میں سہولیات بہم پہنچائی ہیں جن میں موبائل فون سرِفرست ہے، لیکن موجودہ دور میں سمارٹ فون نے انسان کو پیغام رسانی میں آسانی کے علاوہ تفریح کے ایسے مناظر اور پروگرام مہیا کیے ہیں جن کا وہ دو دہائی پہلے تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
سمارٹ فون سوشل میڈیا (سماجی رابطہ کاری) کی جدید برقی مشین ہے جو انواع و اقسام کی تفریحات اور پروگرامات پیش کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے بیشتر مناظر، واقعات اور پروگرام غیر اخلاقی مواد پر مبنی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ سرعت کے ساتھ اخلاقی اقدار کھورہا ہے جو یقینا سنجیدہ شہریوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
بُکر پرائز کیا ہے؟ 
https://lafzuna.com/prose/s-29953/
آج بیشتر نوجوان لڑکے، لڑکیاں، طلبہ اور بچے جدید موبائل فون کے سخت دلدادہ ہیں۔ اخلاقی اقدار کی تباہی میں کچھ اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں…… لیکن جدید موبائل ٹیکنالوجی نے ناظرین کی اخلاقی حالت کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچایا ہے۔ آئے روز معاشرے میں جس بے راہ روی اور درندگی کے واقعات رونما ہورہے ہیں، اُن میں سوشل میڈیا کے مواد کا بڑا ہاتھ ہے۔ انتہا پسندی، درندگی اور اخلاقی بے راہ روی نے ہمارے معاشرے کی چولیں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ سوشل میڈیا پر مادر پدر آزادی اس ملک کی نسلِ نو کے لیے سمِ قاتل بنتی جا رہی ہے۔
دراصل ہر کچے ذہن پر ہر بری بھلی بات کا فوری اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، تشدد اور جنسی بے راہ روی کے علاوہ دیگر جرایم عام ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے میں ہر طرف اضطراب پھیلا ہوا ہے۔ لہٰذا مذکورہ قباحتوں کے سدباب کے لیے حکومت کے علاوہ معاشرے کے ہر ذمے دار شخص اور ادارے کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کو کھیل کود جیسی صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ علما، خطبا، صحافی، اساتذہ، سوشل ورکرز اور تعلیمی اداروں کا بھی فرض ہے کہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔