سوات جو تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں مدغم ہونے سے پہلے ایک خوش حال اور ترقی یافتہ ریاست تھا۔ 1969ء میں پاکستان کے ساتھ شامل ہوا۔ یہاں کے لوگ 14 اگست یعنی پاکستان کے یومِ آزادی کو بڑے اہتمام کے ساتھ مناتے ہیں۔ ابھی کل ہی میری معصوم بیٹی نے مجھ سے کہا کہ اُس نے دو سو روپے کی جھنڈیاں خریدی ہیں۔ کہنے لگی: ’’مجھے اور پیسے چاہئیں، تاکہ میں مزید خرید سکوں۔‘‘
اس پیارے وطن کے باشندوں پر مسلسل ارضی و سماوی آفات آتی رہتی ہیں…… جس میں سب سے خطرناک ارضی آفت ’’دہشت گردی‘‘ کی لہر ہے۔ یہ جب بھی اٹھی ہے، اس نے سوات کے باشندوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
2009ء کے مئی کے مہینے کا وہ لمحہ اب بھی ذہن پر نقش ہے…… جب اہلِ سوات کو نقلِ مکانی کا حکم دیا گیا۔ سوات کے لاکھوں لوگوں نے سیکورٹی اداروں کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اپنے علاقے کو بے سر و سامانی کے عالم میں چھوڑا اور ہجرت کرگئے۔ اس تاریخی نقلِ مکانی میں جو واقعات رونما ہوئے، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ مردان، شیرگڑھ، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، مردان اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کے غیور پختونوں نے سوات کے لاکھوں عوام کو پناہ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ کیمپوں میں بھی ہزاروں لوگ رہایش اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ مذکورہ نقلِ مکانی کو ملک و قوم کے لیے ’’قربانی‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس قربانی میں قطار میں کھڑے ہوکر راشن کے حصول کا اذیت ناک عمل بھی شامل تھا۔
آپریشن کے دوران میں سوات میں گولہ بارود کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ لوگوں کی اِملاک کو نقصان پہنچا، مگر ملک وقوم کے لیے ’’قربانی‘‘ جو دینا تھی۔ جولائی 2009ء میں سوات کو ’’کلیئر‘‘ قرار دے کر لوگوں کو واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ مرحلہ وار واپسی کے بعد امن کو برقرار رکھنے کے لیے سوات کے لوگوں نے انتہائی خوف کی زندگی گزاری۔ آپریشن کے بعد کرفیو، چیک پوسٹ اور سرچ آپریشن کے نام پر دیگر اذیت ناک مراحل سے اہلِ سوات کو گزارا گیا۔ ملک وقوم کے لیے دی جانے والی ’’قربانی‘‘ میں ہم نے اپنے پیاروں کو کھویا۔ معاشی طور پر بدحال ہوئے، مگر پھر بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ اس صبر کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہم جس ذہنی اذیت سے گزرے ہیں، اس سے اپنی آنے والی نسل کو بچاسکیں۔
قارئین! ان باتوں کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ 12 سال بعد ایک بار پھر سوات میں 2009ء والے حالات بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے سوات کے کچھ پہاڑی علاقوں میں ’’طالبان‘‘ کے نمودار ہونے کی خبریں مسلسل مل رہی تھیں۔ ہمیں پتا تھا کہ اگر ہم ان خبروں کو میڈیا یا سوشل میڈیا کی زینت بناتے ہیں، تو اس کا براہِ راست منفی اثر سوات کے عوام پر پڑے گا۔
جن باتوں پر ہم نے غیر مشروط طور پر خاموشی اختیار کی تھی اور خاموشی کا مقصد صرف یہ تھا کہ سوات میں ’’ذمے دار ادارے‘‘ موجود ہیں۔ خصوصاً پولیس ماضی کے برعکس خاصی فعال ہے……وہ ان معاملات کو سنبھال لے گی، تاہم وہ تمام باتیں جو سوات اور اہلِ سوات کے لیے نقصان دہ تھیں، اچانک میڈیا کی زینت بنا دی گئیں۔
وینئی میں پولیس تھانہ پر حملہ کی خبر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد جب ہم نے پولیس کے مختلف افسران سے رابطہ کیا، تو انہوں نے حملہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے طالبان کی موجودگی کی خبریں چل رہی ہیں، اسی وجہ سے کچھ لوگوں کو مشکوک سمجھ کر فائرنگ کی گئی ہے۔ تشویش کی کوئی بات نہیں۔
دو دن بعد اچانک پتا چلا کہ مٹہ کے پہاڑی علاقہ کنالہ میں پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران میں ڈی ایس پی کو زخمی کرکے یرغمال بنایا گیا ہے۔ یہ بات ہمارے لیے انتہائی تشویش ناک ثابت ہوئی۔ کیوں کہ آپریشن کے 12 سال بعد جہاں پولیس جدید اسلحہ اور سہولیات سے لیس ہے، ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال ہورہا ہے، ایسے حالات میں ایسے واقعے کا رونما ہوجانا مضحکہ خیز ہے۔
اب ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ اچانک سوشل ویڈیو پر ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں ایک شخص ویڈیو بناتے ہوئے یرغمال شدگان سے سوالات پوچھتا ہے، تو ہمیں اس سے پتا چلتا ہے کہ یرغمال بنائے جانے والوں میں پولیس ڈی ایس پی کے علاوہ آرمی کے دو افسران بھی ہیں۔
قارئین! یقین کریں جس وقت یہ ویڈیو دیکھی، تو طبیعت مکدر سی ہوگئی کہ ہمارے محافظوں کو ’’یرغمال‘‘ بنا یا گیا ہے؟ تشویش اس بات پر ہے کہ جب یہ لوگ ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں، پیشہ ور افسران کو یرغمال بنا رہے ہیں، تو ہم عام عوام کس کھیت کی مولی ہیں جو ان کا مقابلہ کریں!
ان تمام تر حالات میں ہمارے نمایندوں اور سیاسی جماعتوں کے قایدین نے بھی چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے وزیرِ اعلا صاحب ’’شہباز گِل‘‘ نامی ایک شخص کی گرفتاری پر مذمت کرتے نظر آتے ہیں، مگر اپنے علاقہ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر خاموش ہیں۔
ہفتہ کے روز حکم ران جماعت سے صرف مراد سعید نے اس اہم مسئلہ پر کھل کر بات کی، مگر ان کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ وہ اشاروں سے کسی کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 48 گھنٹے رہ گئے ہیں۔ اگر ان میں امن بحال نہیں ہوا اور وہاں سے مثبت اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، تو سوات دیر سے لے کر ڈی آئی خان تک عوام کو باہر نکالوں گا اور پاکستان کی ہر گلی اور ہر کوچے میں تحریک چلاؤں گا۔ اس کے علاوہ موصوف نے اور بھی ڈھیر ساری باتیں کیں۔ یہ سب باتیں انہوں نے سوات میں میڈیا کے سامنے کیں۔ اس کے بعد اک سوال ذہن میں گھوم رہا ہے کہ اب خدا جانے یہ کون سا ’’گیم‘‘ ہے جس کے بارے میں مراد سعید صاحب نوحہ کناں ہیں؟ کیوں کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے۔ صوبائی محکمے ان کے ماتحت ہیں۔ پولیس ماضی کے برعکس انتہائی فعال اور جدید سہولیات سے لیس ہے، تو پھر کون ہے جن کو موصوف 48 گھنٹوں کا وقت دے رہے ہیں؟ مراد صاحب کو چاہیے کہ یہ ’’گیم‘‘ عوام کو سمجھائیں، تاکہ ہم کو بھی اس حوالے سے جان کاری حاصل ہو۔
دوسری طرف حکم ران جماعت کے اہم افراد کے متضاد بیانات بھی لوگوں کو تشویش میں مبتلا کررہے ہیں۔ جیسا کہ اسد قیصر نے ایک ویڈیو میں ’’مذاکرات‘‘ سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا، جب کہ دوسری جانب بیرسٹر محمد علی سیف جو صوبائی حکومت کا حصہ ہیں، نے ان افراد کی نفی کی ہے۔ بی بی سی جیسے موقر نشریاتی ادارے پر شایع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق بیرسٹر سیف ٹی ٹی پی کے قایدین کے ساتھ مذاکرات کے لیے جانے والے وفود میں بھی شامل رہے ہیں اور ان مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن مذاکرات میں وہ شامل رہے ہیں، ان میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ یہ لوگ مسلح واپس اپنے علاقوں میں آئیں گے۔
صوبائی حکومت مذاکرات کا حصہ ہے، اب اس گتھی کو کون سلجھائے؟ لگ تو ایسا رہا ہے کہ باقاعدہ طور پر ’’سیاسی جنگ‘‘ میں سوات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سوات کے منتخب ممبران جو ہمیشہ اپنی تقاریر کا آغاز قران کی آیت (ترجمہ) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘ سے کرتے ہیں، ان سے عرض ہے کہ آج موقع ہے کہ سوات کے حقیقی نمایندے ہونے کا ثبوت دیں۔ آپ تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ’’ہم غلام نہیں!‘‘ آج جب سوات کے عوام بے چین ہیں، تو آپ نظر نہیں آرہے۔ وہ تو بھلا ہو سوات کے نوجوانوں اور مشران کا جنہوں نے خوازہ خیلہ،کبل اور کانجو میں امن کی خاطر مارچ کرکے خوف کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔
ہم سب کا یہی مطالبہ ہے کہ ہمیں سکون سے جینے دیا جائے۔ اگر سوات میں دوبارہ 2009ء والی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، تو اس سے ملکی اداروں پر سوالیہ نشان لگ جائے گا، جن کی موجودگی میں دوبارہ آگ لگے گی۔ اس طرح اچانک پیدا ہونے والی صورتِ حال کے بعد کئی لوگوں کی طرح میرے ذہن میں بھی کچھ سوالات ہیں جنھیں تحریر کے آخر میں درج کرنا چاہتا ہوں:
٭طالبان کی جانب سے ڈی ایس پی اور آرمی افسران کو یرغمال بنانے کا مطلب کیا یہ ہے کہ طالبان ایک مضبوط قوت ہیں، جس کے سامنے ریاست بے بس ہے؟ ٭ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں، تو ان میں سوات کے ممبرانِ اسمبلی یا دیگر کون لوگ شامل ہیں؟ ٭ طالبان کے ساتھ جن شرایط پر مذاکرات ہورہے ہیں، کیا ان کو عوام کے سامنے لانا ضروری نہیں؟ ٭ کیا طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے عام لوگوں کو اعتماد میں لینے کی ضروت نہیں؟
ہے کوئی ان کا جواب دینے والا؟
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔