کہنے کو تو ریاست کی ڈھیر ساری ذمے داریاں ہوتی ہیں…… لیکن تعلیم ریاست کی بنیادی ذمے داریوں میں آتی ہے۔ تعلیم ہر انسان (چاہے وہ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت) کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ یہ انسان کا حق ہے جو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
اگر دیکھا جائے، تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کے لیے ترقی کی ضامن ہے۔ یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔ مغرب کی کامیابی اور مشرق کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور جو دنیا کی بڑی طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں، ان کا دفاعی بجٹ تو اربوں روپے کا ہے…… مگر تعلیمی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرے۔ آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے، وہ صرف علم کی بدولت کی ہے۔ علم کی اہمیت سے صرفِ نظر کرنا دانش مندی نہیں۔ زمانۂ قدیم سے دورِ حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف رہا ہے۔
وطنِ عزیز میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کا شعبہ صوبائی حکومت کے دایرۂ اختیار میں آتا ہے۔ راقم چوں کہ عرصۂ دراز سے شعبۂ تعلیم سے منسلک ہے، اس لیے شعبۂ تعلیم اور نظامِ تعلیم پر اپنا نکتۂ نظر پیش کرنا خود پر لازم سمجھتا ہے۔
ہمارے صوبے میں گذشتہ 9 سال سے ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت ہے۔ اس جماعت کے منشور میں تعلیم کو اچھی خاصی اور ترجیحی حیثیت حاصل ہے۔ چناں چہ اقتدار میں آتے ہی تعلیم کی ترقی و ترویج کے لیے کوششیں کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے اور تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر اصلاحات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا گیا۔ سب سے پہلے اساتذۂ کرام کی بھرتی کے لیے پرانا طریقۂ کار یکسر تبدیل کیا گیا۔ پرانے طریقۂ کار کے مطابق وہ نوجوان جو درس و تدریس کا پیشہ اختیار کرنے کا ارادہ کر تا، تو سب سے پہلے مخصوص کالجوں اور یونی ورسٹیوں سے طریقۂ تدریس، نظم و نسقِ مدرسہ، بچوں کی نفسیات اور کلاس روم ڈسپلن میں باقاعدہ ٹریننگ حاصل کرتا۔ ایک ڈگری یا کم از کم ایک ڈپلوما حاصل کرتا۔ اس کے بعد وہ مروجہ طریقۂ کار کے مطابق بھرتی ہوتا۔
موجودہ حکومت نے اس مخصوص ڈگری کی شرط کو ختم کرکے ہر تعلیم یافتہ نوجوان کو اس اہم شعبہ میں آنے کی دعوت دی اور کچھ نجی ٹیسٹنگ ایجنسیوں کو ٹیسٹ مارکس کی بنیاد پر میرٹ بنانے کا اختیار دے دیا۔
اس عمل سے ایک طرف تو کرپشن کا راستہ کھل گیا اور آئے روز پرچہ آوٹ ہونے اور اسامیاں فروخت ہونے کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی گئیں، دوسری طرف ایسے نوجوان بھرتی کیے گئے…… جنہوں دوسرے شعبوں مثلا انجینئرنگ، شماریات، بینکنگ اور زراعت وغیرہ کی ڈگری حاصل کی تھی…… اور وہاں ملازمت کا موقع ملنے تک درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔ اب چوں کہ یہ نوجوان تربیت یافتہ نہیں تھے، تو حکومت نے ان کو دورانِ ملازمت تربیت دینے کا فیصلہ کیا جس پر ہر سال تعلیمی بجٹ کا خطیر حصہ خرچ ہو رہا ہے۔
سونے پہ سہاگا یہ ہوا کہ ڈھیر سارے ایسے نئے بھرتی شدہ اساتذۂ کرام جن پر حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کرکے تربیت دی تھی، اپنے اپنے شعبوں میں موقع ملتے ہی چلے جاتے ہیں…… اور متعلقہ تعلیمی ادارے نئی بھرتی تک دوبارہ سے خالی رہ جاتے ہیں۔ یوں اساتذہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے…… جو بسا اوقات دو دو سال تک جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد جب دوبارہ بھرتی کا عمل شروع ہوتا ہے، تو پھر وہی صورتِ حال بنتی ہے جس کا میں نے تذکرہ کیا۔
اس تمام تر صورتِ حال کا واحد حل یہی ہے کہ جس طرح ایک ڈاکٹر یا انجینئر پہلے پیشہ ورانہ کورس مکمل کرتا ہے، بعد میں ملازمت حاصل کرتا ہے…… ایک معمارِ قوم کے لیے بھی یہ شرط ہونی چاہیے کہ پہلے درس و تدریس کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرے، پھر محکمۂ تعلیم میں ملازمت حاصل کرے۔ ان مراحل سے گزر کر وہ پھر کہیں نہیں جا ئے گا، جس سے نہ صرف بچوں کا وقت ضایع ہونے سے بچ جائے گا بلکہ حکومت کو کروڑوں کی بچت بھی ہوجائے گی۔
اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ سکولوں کی کمی کا ہے جس نے آج کل سنگین نوعیت اختیار کی ہوئی ہے۔ ایک طرف حکومت میڈیا کے ذریعے اور گھر گھر جاکر بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلے کی مہم چلا رہی ہے، تو دوسری طرف سرکاری سکولوں میں مزید طلبہ کو کھپانے کی گنجایش ہی نہیں۔ جماعت کا وہ کمرہ جو زیادہ سے زیادہ 50 طلبہ کے لیے کافی ہے، اس میں 90 تا 100 طلبہ بٹھائے گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے ایسے حالات میں معیاری تعلیم کا حصول دیوانے کا خواب ہی ہوسکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جنگی بنیادوں پر سکولوں کے لیے نئ عمارتیں تعمیر کرائے اور جن سکولوں میں گنجایش ہے، وہاں نئے کمرے تعمیر کرائے اور اساتذۂ کرام کی بھرتی کا پرانا طریقۂ کار بحال کر کے اساتذہ کی کمی کو دور کیا جائے۔ اس کے علاوہ سکولوں میں فرنیچر اور دیگر سہولیات جیسے پانی اور سولر سسٹم وغیرہ کا فی الفور بندوبست کرے۔ ایسا کرکے ہی تعلیمی ایمرجنسی کے خاطرخواہ نتایج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
رہے نام اللہ کا!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔