‘’’مارکس ازم‘‘ کے بڑے ناقدین میں عالمی سرمایہ داری کا سب سے دبنگ ترجمان ’’دی اکانومسٹ‘‘ پچھلے ڈیڑھ سو سال سے صفِ اول میں رہا ہے۔ مارکس خود بھی تمام عمر ’’اکانومسٹ‘‘ کا باقاعدہ قاری رہا۔ کیوں کہ اس کے نزدیک کسی نظام کا تجزیہ کرنے کے لیے اُس نظام کے اپنے ماہرین اور پالیسی سازوں کی آرا جاننا بہت اہم تھا۔
مارکس کے اِس یوم پیدایش پر بھی اس جریدے نے ایک طویل مضمون شایع کیا ہے۔ یہ مضمون مارکس پر زہریلی تنقید اور سفاکانہ ذاتی حملوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس مضمون کو جریدے کے ایڈیٹروں نے ’’دنیا بھر کے حکم رانو مارکس کو پڑھو!‘‘ کے عنوان سے شایع کیا ہے جو مارکس کے تاریخ ساز نعرے ’’دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!‘‘ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے آخر میں ’’اکانومسٹ‘‘ مادی حقایق کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے خلاف ردِ عمل دنیا بھر میں تیزی سے ابھر رہا ہے…… آج سرمایہ داری کے لبرل اصلاح پسند اور ماہرین اپنے پرکھوں کی نسبت بونے معلوم ہوتے ہیں۔ یہ اُن سے کہیں کم علم ہیں اور کم تر مہارت کے حامل ہیں۔ اس لیے کوئی ٹھوس حل نکالنے میں ناکام ہیں۔ اِن کو مارکس کے 200ویں یومِ پیدایش پر اس عظیم شخص سے شناسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس نظام کے ایسے سنجیدہ اور خطرناک نقایص کو سمجھا جائے جن کی مارکس نے شان دار انداز میں شناخت اور وضاحت کی تھی۔ اِن ماہرین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر سرمایہ داری کی اِن خرابیوں کو دور نہیں کریں گے، تو ایک مکمل تباہی اس نظام کو برباد کر دے گی۔‘‘
گویا اس مضمون میں بھی مارکس کے یہ سب سے عیار مخالفین اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر رہ نہیں سکے کہ مارکس سے بہتر اس نظامِ سرمایہ کا تجزیہ اور سائنسی تناظر کوئی دوسرا سماجی سائنس دان، ماہرِ معیشت یا فلسفی تخلیق نہیں کرسکا۔
انقلابِ روس کے قاید ’’ولادیمیر لینن‘‘ نے اپنے مضمون ’’مارکس ازم کے تین سرچشمے اور تین اجزائے ترکیبی‘‘ میں لکھا تھا: ’’مارکس کا نظریہ نا قابلِ شکست ہے۔ کیوں کہ یہ سچ ہے۔ یہ نظریہ مکمل اور مربوط ہے اور انسانوں کو ایک ایسا با ضابطہ عالمی نقطہ نظر مہیا کرتا ہے جو توہم پرستی، رجعت اور بورژوا جبر کے دفاع کی ہر شکل سے ناقابلِ مصالحت ہے۔ یہ نظریہ ان بہترین خیالات کا جایز وارث ہے جو بنی نوع انسان نے 19ویں صدی کے جرمن فلسفے، انگریزی سیاسی معاشیات اور فرانسیسی سوشلزم کی صورت میں تخلیق کیے تھے۔‘‘
صرف یہی نہیں بلکہ لینن تو یہاں تک کہا کرتا تھا کہ اگر دنیا کو سمجھنے اور بدلنے کا مارکس ازم سے بہتر کوئی نظریہ ہمیں میسر آتا ہے، تو ہم مارکس ازم کو ترک کرنے میں ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔
لیکن لینن کے تقریباً سو سال بعد بھی ایسا کوئی ’’نیا نظریہ‘‘ تخلیق نہیں ہوا، جو مارکسزم کو منسوخ کرسکے۔
مارکس کا بنیادی تجزیہ و تناظر آج بھی درست اور سرمایہ داری کے خلاف جد و جہد کرنے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
( ڈاکٹر لال خان کے ایک مضمون سے ماخوذ)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔