"Mama! mala this” یہ لکھی گئی سطر دراصل دو زبانوں کا ملاپ ہے۔ ’’مما‘‘ اور ’’دِس‘‘ انگریزی، جب کہ ’’مالا‘‘ (مجھے) پشتو زبان کا لفظ ہے۔ دراصل یہ جملہ اہمیت کا حامل اس لیے ہے کہ اس کی تشریح میں مجھے کافی دقت پیش آئی۔ بالکل ویسے ہی جیسے کسی بلند پایہ افسانہ نگار کے افسانے کے اختتام کو سمجھنے میں آتی ہے۔
میرے محض ساڑھے تین سال کے بیٹے نے جب عرض کیا کہ ’’مما! مالا دِس!‘‘ کئی گھنٹے غور و فکر کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ میرا معصوم سا بچہ ’’پشتو‘‘ اور ’’انگریزی‘‘ کے مایا جال میں پھنس گیا ہے۔ پشتون گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود میری شدید خواہش تھی کہ میرا بچہ فرفر انگریزی بولے (غلامی کی یاد جب شدت اختیار کرجائے، تو عموماً ایسی خواہشات انگڑائیاں لیتی ہیں) یہ خواہش میری ہی نہیں بلکہ کئی والدین کے دلوں میں اٹھتی ہے کہ ان کا بیٹا/ بیٹی ’’ایمینم‘‘ (Eminem) کی مقرر کردہ رفتار سے ولایتی زبان میں بات چیت کرے۔ والدین کے ذہنوں پر انگریزی کا خبط سوار ہے اور خبط کے بوجھ تلے معصوم ذہن کچلے جا رہے ہیں۔ ملک میں تعلیمی پالیسیوں کی حالت بھی ہمارے ملک و قوم جیسی ناقص ہے۔
بحیثیتِ والدین اگر ہم اپنی بے ہودہ اور بکواس قسم کی خواہشات اور احساسِ کمتری کو ایک طرف رکھ کر منطقی طور پر سوچیں کہ آخر زبان کے متعلق ماہرِ لسانیات کیا کہتے ہیں، بچوں کو ابتدائی تعلیم کس زبان میں دینی چاہیے یا پھر بچوں کی تعلیم میں زبان کا کیا کردار ہے؟ پاکستانی بچوں کی ابتدائی تعلیم پر غیر ملکی زبان یعنی انگریزی کے اثرات پر 2010ء میں تیار کردہ ’’برٹش کاؤنسل‘‘ (British Council) کی تحقیقی رپورٹ جاری ہوئی جس میں ہائیول کولمن (ماہرِ لسانیات) پاکستان میں موجودہ ایجوکیشنل میڈیم کو زیرِ بحث لائے۔ پاکستان زبانوں کے اعتبار سے کثیراللسان (Multilingual) خطہ ہے، جہاں 72 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 90 فی صد لوگ اپنی مادری زبان بولتے ہیں، جب کہ تعلیمی وسیلہ (Educational Medium) انگریزی یا اُردو ہے۔ اگر اسکولوں کو طبقاتی حوالے سے بیان کیا جائے، تو ان کی تقسیم کچھ اس طرح ہوگی:
٭ اشرافیہ (Elite) کے لیے چند مخصوص اسکول قایم ہیں، جہاں مکمل تعلیم انگریزی میں فراہم کی جاتی ہے۔ ایسے اسکول تعداد میں کم اور فیس کے اعتبار سے کافی مہنگے ہیں۔
٭ دوسرا طبقہ مڈل کلاس ہے، جو اپنے بچوں کو انگلش میڈیم نجی اسکولوں میں پڑھاتا ہے۔ ان کی فیس نارمل ہے اور یہ تعداد میں زیادہ ہیں۔
٭ تیسرا طبقہ اُردو میڈیم سرکاری اسکولوں کا ہے۔
٭ چوتھا طبقہ مدارس پر مشتمل ہے۔
کولمن نے تحقیق کرکے کئی حقایق پر روشنی ڈالی اور خطے کی کثیراللسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ بہترین پالیسیوں کا انتخاب بھی کرکے بتایا (اب انگریز ہمیں آکر بتا رہے ہیں کہ انگریزی کا کمپلیکس تمہاری نسلیں ڈبو رہا ہے ۔) کولمن کہتے ہیں کہ پاکستان میں انگریزی کو بچوں کی ابتدائی تعلیم میں بطورِ میڈیم کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں روز مرہ کی زندگی میں بول چال مادری یا علاقائی زبانوں میں ہوتی ہے؟ اس ملک میں اُردو کو عام استعمال میں لانے والوں کی تعداد محض دس فی صد سے بھی کم ہے، تو انگریزی کس بنا پر ایجوکیشنل میڈیم کے طور بروئے کار لائی جاسکتی ہے؟ دراصل استعماریت (Colonialism) کے زیرِ اثر ایک عرصہ گزارنے کی وجہ سے انگریزی یہاں زبان نہیں، بلکہ طبقے کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس غیر ملکی زبان کی سیڑھیاں طے کرکے آپ وائٹ کالر جاب تک رسائی ممکن بنا سکتے ہیں۔ سول سروسز کا ٹیسٹ جس میں انگریزی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، طبقاتی سوچ کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ اچھی اور طاقت ور نوکریوں پر محض چند فی صد انگریزی بولنے والے اشرافیہ طبقے کی پکڑ ہے۔
دراصل بچہ وہی زبان زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے جس میں وہ روز مرہ کی بول چال کرتا ہے یا جو اس کے اردگرد کے ماحول میں زیرِ گفتگو لائی جاتی ہے۔ پاکستان میں کلاس رومز کی حدود سے باہر انگریزی زبان کا استعمال عام زندگی میں نہیں ہوتا۔ پھر بچے کیوں کر اپنی ابتدائی تعلیم کسی ایسی زبان میں حاصل کرے جس کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
اب رپورٹ میں جو باتیں اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
٭ بچوں کو ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان یا وہ زبان جو خطے میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے، میں دینی چاہیے۔
٭ اردو کو ایک مضمون کی حیثیت سے متعارف کرایا جائے، جیسا کہ اُردو کا فارمیٹ علاقائی زبانوں سے قدرے قریب ہے، تبھی بچوں کو اسے مضمون کی شکل میں پڑھنے میں زیادہ دشواری نہ ہوگی۔
٭ انگریزی کو نصاب میں مضمون کا درجہ تب دیا جائے جب بچوں کی عمر دس سال ہو یا اس سے زیادہ۔ مقرر کردہ مدت سے پہلے غیر ملکی زبان میں تعلیم دینے سے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بچہ محض ایک میموری مشین بن کر رہ جاتا ہے۔
٭ علاقائی زبانوں میں ابتدائی تعلیم دینے سے والدین بھی اپنے بچوں کیساتھ بھرپور طریقے سے حصہ لے سکتے ہیں۔
٭ پاکستان میں جاری لسانیات کے بحران کو سرخ جھنڈا دکھا دیا گیا ہے۔ تعلیمی پالیسیوں کا تبدیل ہونا نہایت ضروری ہے۔
اساتذہ کے لیے سب سے مشکل مرحلہ چھوٹے بچوں کو انگریزی میں سائنسی علوم پڑھانے میں آتا ہے۔ اگر آپ میری طرح کسی مڈل کلاس اسکول سے پڑھے ہیں، تو یقینا آپ کو بھی سائنسی علوم اور انگریزی مضمون کو رٹنے میں دشواری پیش آئی ہوگی۔ دراصل پڑھائی اور اسکول سے ہماری دشمنی اور اُکتاہٹ اسی غیر ملکی زبان کی بدولت ہی ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ کی تعداد محض دس فی صد ہے۔ باقی کے 90 فی صد میں مڈل کلاس، غریب اور غربت کی لکیر سے نیچے کے افراد ہیں جن کی روزمرہ کی گفتگو علاقائی زبان میں ہوتی ہے نہ کہ انگریزی میں۔ یورپ کی مثال لیجیے، چاہے یورپ کے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، وہاں بچوں کو ان کی ملکی زبان میں شروعاتی تعلیم دی جاتی ہے۔ ذہانت کا پیمانہ انگریزی زبان ہرگز نہیں، بلکہ یہ عدم تحفظ کا احساس ہماری نسلوں کو تباہ کررہا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔