دو فراڈیے ایک بادشاہ کو باور کرواتے ہیں کہ وہ بادشاہ کے لیے ایک ایسا لباس تیار کریں گے جس کی خاصیت صرف ذہین لوگ دیکھ سکیں گے۔ بادشاہ متاثر ہوکر مہنگے داموں اس لباس کو خریدتا ہے اور پہن کر شان سے دربار میں چل رہا ہوتا ہے۔ لوگ واہ واہ کرتے تھک نہیں رہے ہوتے۔ ایسے میں ایک بچہ چلا کر کہتا ہے کہ ’’بادشاہ سلامت آپ برہنہ ہیں!‘‘ اور یوں ان دو فراڈیوں کا بھید کھل جاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بادشاہ برہنہ تھا، تو پھر لباس کی تعریفوں کے پُل کیوں باندھے جارہے تھے؟ کیا بادشاہ محض اس بچے کو برہنہ نظر آرہا تھا؟
چوں کہ فراڈیوں نے کہا تھا کہ بادشاہ کے لباس کی خصوصیت صرف ذہین لوگوں کو نظر آئے گی، تبھی بادشاہ کے دربار میں سچ بول کر کوئی بھی بے وقوف نہیں دکھنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب انفرادی طور پر سچ جانتے ہوئے بھی اجتماعی طور پر ایک برم یا مغالطے (Illusion) کو فروغ دے رہے تھے۔ انفرادی طور پر سچ جانتے ہوئے اس دھوکے میں رہ کر اجتماعی طور پرجھوٹ کو فروغ دینا کہ ’’شاید سب سچ کے برعکس سوچتے ہیں‘‘ کو ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ٹوڈ روز ’’اجتماعی برم (مغالطے)‘‘ (Collective Illusions) کہتے ہیں۔
٭ انسان ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری بیالوجی، نیورولوجی اور سائیکالوجی ہے۔ فطرت نے ہمیں ڈیزائن ہی گروپ کی شکل میں رہنے کے لیے کیا ہے۔ اس ڈیزائن کے فواید ہیں جن کی بدولت تعاون سے ہم اس سیارے کے حاکم بن گئے، لیکن اس ’’گروپ ازم‘‘ کے نقصانات بہت گمبھیر ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح ’’کوپی کیٹ‘‘ اور مطابقت (Conformity) ہماری پرجاتی کے لیے تکلیف اور مشکلات کا باعث بنی ہے۔
ٹوڈ نے اپنی کتاب میں عام زندگی سے لے کر حکومتی سطح پر چل رہے مختلف اوہام اور ان کے فروغ سے ہونے والے نقصانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
مختلف ریسرچ اور ڈیٹا کے ذریعے پروفیسر ٹوڈ اس بات کو زیرِ بحث لائے ہیں کہ کس طرح ’’اجتماعی برم‘‘ بہت بڑی سطح پر کام کر رہے ہیں کس طرح ان اوہام کو چیلنج کرنا ہمیں ناممکن لگتا ہے…… لیکن ریسرچ بتاتی ہے کہ جھوٹے برم بے شک بڑی سطح پر پھل پھول رہے ہیں، لیکن ان کی بنیاد بہت کم زور ہوتی ہے، جہاں صدیاں لگ جاتی ہیں نظریات کو لوگوں کے دماغوں میں بھرنے کے لیے، وہاں ان کو چکنا چور کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ بس ہمت چاہیے ہوتی ہے کہ بوسیدہ اوہام کا پہلے سراغ لگانا اور پھر ان کو جھٹلا کر ان کے خلاف جاکر جھوٹے نظریات اور رسم و رواج کو زمین بوس کردینا ہے۔
تحریر میں جس کتاب کا ذکر مَیں نے کیا…… کوئی ’’سیلف ہیلپ‘‘ (Self-help) کتاب نہیں…… بلکہ خالص ریسرچ پر مبنی کانٹینٹ ہے۔ مجھے اتنا تو معلوم تھا کہ انسان ایک معاشرتی اور سماجی مخلوق ہے، لیکن کس خطرناک حد تک سماج کے ساتھ چلنے کے لیے قربانیاں دیتا ہے انسان…… اس بات کا اندازہ اس کتاب کو پڑھ کر ہوا(اور نوع انسانی پر ترس بھی آیا۔) ہم ’’الٹرا سوشل‘‘ پرجاتی ہیں اور ہمارے لیے گروپ کے ساتھ مل کر چلنا ہمیں اپنی کامیابی اور خوشی سے زیادہ عزیز ہے۔
اس میں ہمارا قصور نہیں فطرت نے ہمیں ڈیزائن ہی اس طرح سے کیا ہے…… لیکن ہمت اور شعور کی تلوار سے ہم گروپ کے فریبی اور نقصان دینے والے نظریات اور رسم و رواج کا سر قلم کر کے انفرادی اور اجتماعی طور پر بہتر اور حقیقت پر مبنی فیصلے لے سکتے ہیں
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔