ایولیوشنری سائیکالوجسٹ (Evolutionary Psychologist) کہتے ہیں کہ جب انسان ’’ہنٹر گیدرر‘‘ (Hunter Gatherer) تھا، جنگل میں اس کے سامنے کوئی خوں خوار جانور آجاتا، تو اپنی جان بچانے کے لیے وہ ’’فلائٹ فائٹ‘‘ (Flight Fight) موڈ میں چلا جاتا۔ ڈر، خوف اور الرٹ رہنے نے انسان کی بقا میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب فرض کریں جنگل کی جگہ چار دیواری ہے اور آپ کے سامنے کئی گنا طاقت ور مخلوق ہے جس سے آپ مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ وہ چیختا ہے، چلاتا ہے۔ ’’فلائٹ فائٹ موڈ‘‘ آن ہوجاتا ہے۔ خطرہ ہے۔ جان بچانی ہے…… لیکن آپ چاردیواری چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتے۔ وہ آپ کو جان سے نہیں مارتا، لیکن ڈر، خوف اور الرٹ رہنے کا یہ سلسلہ کئی سال جاری رہتا ہے۔ آپ کا دماغ اس ماحول کے مطابق مختلف ’’میکانزم‘‘ تیار کرلیتا ہے اور یوں اس نئے ماحول میں ایڈجسٹمنٹ ہوجاتی ہے جس کے نقصانات یقینا اَن گنت ہیں۔
اوپر دی گئی وضاحت میں ’’آپ‘‘ کی جگہ ایک چھوٹا ناتواں بچہ، طاقت ور مخلوق کی جگہ ’’والدین‘‘ تصور کرلیں۔ سائیکاتھرپسٹ (Psychotherapist) ’’فلپا پیری‘‘ اپنی کتاب "The book you wish your parents had read” میں لکھتی ہیں کہ آپ کا ماضی (بچپن) آپ کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑتا۔ ہم جب بھی "Child Abuse” کی بات کرتے ہیں، ہمارے ذہنوں میں جسمانی یا جنسی زیادتی سے متعلق باتیں آتی ہیں…… لیکن ’’ایموشنل ابیوز‘‘ (Emotional Abuse) جس سے دنیا میں سب زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں، کے متعلق کچھ خاص سننے کو نہیں ملتا۔ ڈاکٹر "Pete Walker” اسے "Epidemic of poor parenting” کہتے ہیں۔ سائیکالوجسٹ کے مطابق نفسیاتی زیادتی کا نقصان جسمانی اور جنسی زیادتی کے برابر یا اکثر اوقات اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے، یعنی "Psychological Abuse” سے ملنے والے "Invisible Scars” حد درجہ مہلک ہوتے ہیں۔ بنا ہاتھ لگائے بھی بچوں کی روح کا قتل کیا جا سکتا ہے…… جسے ڈاکٹر لیونارڈ نے "Soul Murder” کا نام دیا ہے۔ اس زیادتی میں کسی باہر والے کا ہاتھ نہیں ہوتا…… بلکہ ہمارے اپنے والدین ہی ذمے دار ہوتے ہیں۔
ایموشنل یا سائیکالوجیکل زیادتی کے کوئی نشان نہیں ہوتے اور اکثر "Traumatized” ہونے والے بچے شعوری طور پر اپنے بچپن کو بھول جاتے ہیں (لیکن لاشعوری طور پر نہیں۔) ابیوز کا یہ سلسلہ خاص ’’پیٹرن‘‘ کے تحت لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔ سخت تنقید، غیر حقیقی امیدیں، بچوں کے احساسات کی نفی، نظر انداز کرنا، غفلت، ضرورت سے زیادہ ڈسپلن، پرفیکشن ازم، بہن بھائیوں یا دوسرے بچوں سے سخت موازنہ، حقارت جیسے رویے کئی سال تک رواں رہتے ہیں۔ انسانی بچہ جو سوشل لرننگ مشین کی مانند ہوتا ہے، ہر وقت فائٹ فلائٹ والے الرٹ موڈ میں رہنا سیکھ لیتا ہے…… جس سے اس کی سوشل لرننگ اسکلز متاثر ہوجاتی ہیں۔ خود اعتمادی جب بہت کم یا ختم ہوجائے اور والدین کی کڑی تنقید اور ’’پرفیکشن ازم‘‘ سوچ میں پیوست ہوجائے، تو اسے مٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب ہم ایک ناتواں لاچار بچے نہیں، "Strong Adult”ہیں، چاردیواری میں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ’’ایڈیٹ‘‘، ’’ڈم‘‘ (Dumb) یا بے کار(Useless) ہونے کے طعنے نہیں پڑتے…… لیکن دماغ ہمیشہ الرٹ اور خوف زدہ رہنے کا عادی ہوجاتا ہے اور اب دنیا کی تنقید سہنے کے لیے "Defense Mechanisms” تیار کر لیتا ہے۔ چوں کہ "Self-confidence” اور "Self-concept” کو نقصان پہنچا ہے، یقینا اس کے مضر اثرات سے بچنا ممکن نہیں۔ "Depression, Social Anxiety, Perfectionism, Anger, Extremism, Poor Physical Health, Eating Disorders, Unsustainable Relationships, Substance Abuse, Suicidal Thoughts اور کئی اَن گنت تکلیف دِہ علامات۔ اب زندگی تو گزارنی ہے…… لیکن بہت ساری نہ نظر والی بیماریوں کے ساتھ۔
’’فیس بُک‘‘ پر اکثر لوگ مختلف گروپس میں اجنبی لوگوں سے کہتے ہیں، وہ "Suicidal” ہو رہے ہیں یا "Depressed” ہیں…… لیکن ایک ہی گھر میں والدین سے یہ سب کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ڈر لگتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ نہ کَہ دیں: ’’تم بہانے بنا رہے ہو!‘‘
بحیثیت ماں میں بخوبی واقف ہوں، بچوں کی نگہداشت ہر گز آسان نہیں۔ یہ ایک جسمانی، معاشی، نفسیاتی اور جذبات کی جد و جہد ہے…… مگر بچے پیدا کرنے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ آپ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ شاید آپ کو جان کر حیرت ہو، ’’ایموشنل ابیوز‘‘ محض معاشی طور پر کم زور گھروں کا مسئلہ نہیں۔ اس کا تناسب پڑھے لکھے معاشی طور پر مستحکم طبقے میں حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ بچہ ایک "Blank Slate” کی مانند ہوتا ہے…… جس پر سب سے پہلے لکھنے کا اختیار ہم والدین کے پاس ہوتا ہے۔ ہمارے الفاظ ہمارے بچوں کے دل کی آواز بن جاتے ہیں۔ ’’تم سے آج تک ڈھنگ کا کام نہیں ہوا اور نہ ہوگا!‘‘ یہ اور اس جیسے جملے ایک عرصہ سننے کے بعد لاشعوری طور پر شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر چاہے دنیا آپ کی کامیابی کے قصیدے پڑھے…… مگر "Inner Critic” ہمیشہ اس جملے کو دہراتا رہتا ہے۔
اتنے طویل لیکچر کے بعد سوال یہ بنتا ہے کہ ’’ایموشنلی ہِلدی‘‘(Emotionally Healthy) بچے اور والدین کون ہوتے ہیں؟ کیا وہ ساری زندگی خوشیوں کے سمندر میں ڈبکیاں لگاتے رہتے ہیں…… یا غم، غصہ، افسردگی اور حسد انہیں چھو کر نہیں گزرتا؟ مکمل خاندان محض فیس بک کی تصویروں میں ہوا کرتے ہیں، حقیقت میں نہیں۔ دراصل ’’ایموشنلی انٹیلی جنٹ‘‘ بچے وہ ہوتے ہیں جن کے ماں باپ ’’پرفیکٹ‘‘ نہیں ہوتے۔ یہ ماں باپ اپنے بچوں کے "Negative” یا "Uncomfortable” جذبات کو دباتے نہیں۔ کیوں کہ زندگی خوشی و غم، محبت و نفرت، غصہ و اطمینان اور کئی مختلف احساسات کا ملاپ ہے۔ انہیں بھی غم، غصہ، افسردگی، ندامت، شرمندگی اور حسد جیسے نارمل احساسات کا سامنا رہتا ہے…… لیکن وہ ان جذبات کو "Extreme Ends” پر نہیں لے کر جاتے۔ اس کے بر عکس ’’ایموشنلی ابیوزڈ‘‘ افراد اپنے جذبات کو "Regulate” کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ والدین اپنے بچوں کی کم زوریوں کو دبانے کی بجائے انہیں اپنانا سکھاتے ہیں…… جنہیں Dr Winnicott "Good Enough Parents” کا نام دیتے ہیں۔ ’’ایموشنلی ہِلدی‘‘ والدین بچوں کی نہیں بلکہ خود اپنی تربیت کرتے ہیں۔
سائیکاتھیریپسٹ ’’فلپا پیری‘‘ کہتی ہیں آپ کی اولاد آپ کو اپنے بچپن میں جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر ماضی اچھا نہ ہو،تو نظرِ ثانی کرتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے۔ جب آپ کو اپنے بچوں کی کسی خاص حرکت سے "Irritation” ہو، تو بہت ممکن ہے کہ اس عمر میں آپ نے بھی وہی رویہ رکھا ہو، جس پر شدید ڈانٹ یا تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ تبھی لاشعوری طور پر وہ مخصوص عمل ہمیں غصہ کرتا ہے۔ جن گھروں میں نفسیاتی ابیوز ہوتا ہے، وہاں تنقید اور نظرانداز کرنا کبھی کبھار نہیں بلکہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ البتہ اپنے بچوں پر "Healthy Criticism” کرنا غلط نہیں۔
ایک اچھی "Parenting” کا کوئی اسکرپٹ تو موجود نہیں۔ یہ ایک لرننگ پراسس ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ بہتر بننے کی لگن رکھتے ہوں۔ ارسطو کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ’’خود کو جاننا‘‘ بہت ضروری ہے۔ اپنے Attachment Style (Anxious, Avoidant, Secure) کے متعلق آگاہی ہونا لازمی سمجھیے۔ غیر جانب دار ہوکر اپنے والدین اور ان کے رویوں کا جایزہ لیں۔ ضروری ہو تو کسی ’’سائیکاتھیرپسٹ‘‘ سے مدد لیں (ہمارے یہاں اچھے اور اپنے کام میں ماہر سائیکاتھیرپسٹ بے حد نایاب ہیں۔) Self-help Books پڑھیں…… لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ’’اپنے آپ کو پڑھیں‘‘، اس "Poor Parenting” کی "Vicious Cycle” کو توڑیں…… ورنہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہماری فیس بک نیوز فیڈ اور انسٹاگرام ہمیں اپنے بارے میں کم تر محسوس کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اورحقیقی دنیا کے پیچیدہ مسایل ہمیں گھیرے رکھتے ہیں…… ایسے میں اپنی اولاد کی خود اعتمادی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے بعد زندگی جیسے کٹھن سفر کو طے کرنے کے لیے یوں ہی نہ چھوڑ دیں۔ والدین محض اپنے بچوں کی رپورٹ کارڈز ہی شیئر نہ کیا کریں…… بلکہ بچوں کو ان کی "Weirdness” اور "Vulnerabilities” بھی شیئر کرنے دیا کریں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔